
17 مئی کو چارباغ میں احتجاجی جلسے کے سامنے چھوٹی معصوم شہید عائشہ کا باپ صرف رو نہیں رہا تھا بلکہ سسک سسک کر آنسوؤں کے سیلاب میں وہ کچھ کہنے کی کوشش کررہا تھا، جب ہر غم زدہ، ستم زدہ باپ اپنی خون میں نہلائی ہوئی معصوم بیٹی کی لاش پر کَہ سکتا ہو، اُس کے ساتھ شرکائے جلسہ رو رہے تھے۔ ساری کائنات رو رہی تھی۔
والد کے بقول، ’’معصوم عائشہ کا کیا گناہ تھا؟ وہ تو اپنی سہیلیوں کے ساتھ خوشی خوشی پڑھنے کے لیے گئی تھی۔ صبح مجھ سے گلے مل کر گئی تھی۔ مَیں اپنی آغوش میں اپنی بیٹی کی خوش بو اَب بھی محسوس کررہا ہوں۔ مجھے یہ سب کچھ ایک خواب سا لگ رہا ہے۔ مجھے یقین نہیں آرہا کہ عائشہ جیسی پھول بچی خون میں لت پت کفن کا ٹکڑا پہن کر مجھے چھوڑ کر چلی گئی ہے۔ مَیں تو اب بھی انتظار میں ہوں کہ میری عائشہ دور سے دوڑ کر ابو ابو کَہ کر میرے گلے لگ جائے گی۔ اس کی ماں بار بار مجھ سے پوچھتی ہے کہ میری عائشہ کدھر ہے؟ اُسے لے کر آؤ۔ تم لوگ بتاؤ! مجھے جواب دو، میں عائشہ کی ماں کو کیا کہوں…… اُسے کیسے تسلی دوں…… آج میں اولاد کے غم کی آگ میں جل رہا ہوں۔ شاید میں حوصلہ کر بھی دوں، لیکن ڈرو اُس وقت سے جب تم لوگ میری طرح آگ میں جلو گے…… شاید تم لوگ حوصلہ نہ رکھ پاؤ…… اس وقت کیا کروگے…… خدا کسی کو اولاد کا غم نہ دکھائے۔ خواہ وہ پرندے ہوں یا چرند…… اللہ تعالا کی کوئی بھی مخلوق اپنی اولاد کا غم برداشت نہیں کرسکتی۔
مجھے ’’صیب صیب‘‘ (پشتو میں صاحب کے لیے استعمال ہونے والا لفظ) کے الفاظ سے نفرت ہے۔ ان صاحبوں نے ہمیں کیا دیا…… تباہیاں دیں، بربادیاں دیں، خون میں ڈوبی ہوئی لاشیں دیں۔ آخر ہم پشتونوں کے ساتھ یہ ظلم کیوں ہورہا ہے…… آخر ہمارا قصور کیا ہے…… ہمارے معصوم بچوں کا قصور کیا ہے؟ ایک لمبے عرصے سے ہمارے بچے، بڑے اور بوڑھے کیوں نشانے پر ہیں؟ آخر ہمارے حجرے، مساجد، جنازے، گلے کوچے حتی کہ سکول اور مدرسے کیوں خون میں نہلائے جارہے ہیں؟ کیا پشاور میں آرمی پبلک سکول کے 150 بچوں کے خون سے ان ظالموں کی پیاس نہیں بجھی؟
ڈی پی او صاحب مجھ سے کَہ رہے تھے کہ تمھاری بچی جیسی میری بھی بچی ہے۔ مَیں نے اُسے کہا کہ نہیں صاحب……! بہت بڑا فرق ہے۔ میری بچی خون میں نہلائی ہوئی ہے اور تمھاری خوش و خرم جیتی جاگتی دِکھتی ہے۔ جب تمھاری بچی خون میں نہلا دی جائے گی، پھر مَیں تم سے پوچھوں گا…… مَیں باپ ہوں، ایک بدنصیب باپ…… مَیں اپنی عائشہ کو کیسے بھول سکتا ہوں…… اُس کی معصومیت کو کیسے بھول سکتا ہوں…… وہ مسکراہٹیں، وہ شرارتیں کیسے بھول سکتا ہوں…… وہ ناز و ادا، وہ چھوٹی چھوٹی معصوم سی باتیں…… وہ چہچہانا…… وہ اس کا ہر وقت مجھے اپنے انداز سے تنگ کرنا……عائشہ کے بعد اب گھر یک دم سونا ہوکر رہ گیا ہے، خاموشی چھاگئی ہے…… اب گھر کا سناٹا کھانے کو دوڑ رہا ہے……!
جب مجھے خبر دی گئی کہ سکول پر حملہ ہوگیا ہے، تو میرا دل بیٹھ گیا۔ مَیں ہاتھ اُٹھا کر گڑگڑانے لگا کہ یا اللہ……! میرے بچوں کو بچا…… مَیں پھر سوچنے لگا کہ میں کتنا خود غرض ہوگیا ہوں کہ صرف اپنے بچوں کی خیریت کی دعا مانگ رہا ہوں…… پھر ہاتھ اُٹھائے کہ یا اللہ تمام بچوں کی حفاظت فرما…… یا اللہ! یہ گولیاں درختوں کے پتوں کو لگی ہوں، دیوارگولیوں کی زد میں آئی ہو اور سب بچے محفوظ ہوں…… کاش……! ایسا ہوا ہوتا۔ مگر افسوس…… ایسا نہیں ہوا تھا۔ مجھے اپنی معصوم بیٹی کی شہادت کی خبر ملی۔ مجھے نہیں معلوم کہ اللہ تعالا ایسے معاملات میں ہمیں آگے کردیتا ہے۔ ہم ہی سے شروعات ہوتی ہے۔ کل جو معصوم کلی شہید ہوکر دفن ہوئی، یہ ہمارے خاندان کی ساتویں شہید ہے۔ اب ہم کو شہیدوں کا خاندان کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ میرا وہ عزیز چچا جو میرا سب کچھ تھا، وہ بھی اسی طرح لہو لہو ہوکر چلا گیا اور شہادت کے رتبے پر فائز ہوا…… لیکن معصوم عائشہ تو سکول میں تھی۔ اُدھر بھی گولیوں نے اُس کا پیچھا کیا۔
دَ امن پہ تلاش کی دَ مکتبہ پوری لاڑم
التہ ہم د وینو ساسکی پہ کتاب باندی پراتہ وو
اب بچوں کے خون سے کتابوں اور بستوں کو رنگا جارہا ہے۔ اب معصوم پھولوں کو مسلاجارہا ہے۔
سنو لوگو! آج میں رو رہا ہوں۔ کل تم سب روؤگے۔ اگر تم لوگ بیدار نہ ہوئے، اگر تم سب جاگ نہ اٹھے، اتفاق پیدا نہ کیا، تو تباہ ہوجاؤگے، تم سب اپنی ا پنی عائشہ کی فکر کرو، تاکہ میری طرح دیگر والدین نہ روئیں۔ خدا کے لیے اپنے دوست اور دشمن میں تمیز کرنا سیکھو، مجھے زندگی بھر کا روگ لگ چکا، مجھ پر زمین تنگ ہوچکی، عائشہ میری محبت تھی، میری زندگی تھی، اب وہ میرا عمر بھر کا روگ بن چکی، مَیں دیکھ رہا ہوں کہ تم سب بھی رو رہے ہو، مَیں نہیں چاہتا تھا کہ سٹیج پر آؤں، خود بھی روؤں اور تم سب کو بھی رلاؤں لیکن میں اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکا۔ مَیں جذبات کی رو میں بہہ گیا۔ اب تم لوگ مجھے بتاؤ کہ مَیں کیا کروں…… کہاں جاؤں…… اُس بستے کا کیا کروں، اُن خون میں رنگے کتابوں کو نہ چوموں تو اور کیا کروں…… وہ سکول یونیفارم جس پر لہو کے چھینٹے پڑے ہیں، کہاں لے جاؤں، وہ کس کو دِکھاؤں……!
اے لوگو! آنے والے وقت کا سوچو، اب کوئی بھی قابلِ اعتبار نہ رہا، کوئی بھی قابلِ بھروسا نہ رہا۔ اس ملک نے ہمیں کیا دیا…… نہ جانے وردی والوں میں کتنے ایسے لوگ موجود ہوں گے اور مزید کتنے بچے ان کے ہاتھ سے قتل ہوں گے؟ کیا افسران کا یہ فرض نہیں کہ کسی کو فورس میں بھرتی کرتے وقت اس کا ماضی ٹٹولیں، اس کا ریکارڈ چیک کرلیں۔ لہٰذا پہلے تو اپنی صفوں کو صاف کرو، اپنے اندر سے قاتلوں اور ظالموں کو نکال دو۔ ورنہ ہر سکول قتل گاہ بن جائے گا اور تم لوگ یہ ڈرامے کرتے رہوگے۔ کتنا برا لگتا ہے کہ آگے پیچھے تین تین چار چار گاڑیاں سماعت خراش آوازوں کے ساتھ سڑکوں پر دوڑتی ہوں، جب پتا چلتا ہے کہ ’صاحب‘ تشریف لے جا رہے ہیں، صاحب کسی ایسی میٹنگ میں جارہے ہیں جو ضروری ہے۔
اے لوگو! میرے دل پر ایسا گھاو لگا ہے کہ اُسے کسی بھی قسم کی تسلی راس نہیں آرہی۔ مَیں تم سب کا شکر گزار ہوں کہ یہاں میری تسلی کے لیے آپ آگئے ہیں۔ اللہ تم سب کو اولاد کے غم سے بچائے، آمین!‘‘
قارئین! معصوم عائشہ (شہید) کے باپ عابد نے زندگی بھر کبھی مائیک ہاتھ میں لیا تھا، نہ تقریر ہی کی تھی لیکن ایسے دل خراش سانحات انسان کو وہ کچھ بنادیتے ہیں، جس کا وہ سوچ بھی نہیں سکتا۔ 17 مئی کو چارباغ میں احتجاجی اور تعزیتی جلسے کے سامنے جب ایک باپ رو رہا تھا، تو اُس وقت جلسے میں ہر والد رو رہا تھا۔ ایک باپ عابد نے صرف اپنے جذبات کی نہیں بلکہ سارے پختونخوا کے والدین کے جذبات کی ترجمانی کی۔ نہ جانے مستقبل میں اور کتنے باپ، بیٹے، بیٹیاں، بہنیں، بھائی اور بیویاں روتی رہیں گی؟ اس سوال کا جواب آنے والا وقت دے گا…… لیکن یاد رکھیے کہ آنے والے وقت کو خوش گوار اور پُرامن بنانے کے لیے سب کو آگے بڑھنا ہوگا۔ آنے والے وقت کی لگام تھامنے کے لیے ایک نہیں ہزاروں ہاتھ بڑھانے ہوں گے کہ کسی عائشہ کا والد دوبارہ نہ رو سکے۔