کالم نگاری

د پختو صحیح لیک لوست (تبصرہ)

روح الامین نایاب

✍️ کالم نگار: روح الامین نایاب

اشتہار / Advertisement

  ’’د پختو صحیح لیک لوست‘‘ کا مطلب ہے ’’پشتو کا صحیح لکھنا اور پڑھنا۔‘‘
یہ ہمارے دوست شاعر، ادیب اور ایک اچھے انسان جہاں زیب دلسوزؔ کی ایسی نئی کتاب ہے جس نے پشتو ادب میں پشتو زبان کے صحیح لکھنے پڑھنے کے طور طریقوں اور زبان و بیاں میں ایک انقلاب برپا کردیا ہے۔ پشتو زبان کے ماہر دانش وروں نے پشتو زبان کی ترویج کے اداروں جیسے پشاور کے پشتو اکیڈمی نے خوب سراہا ہے، اس کی پذیرائی کی ہے اور حالیہ پشتو زبان کے ایک بڑے سیمینار میں جہاں زیب دلسوزؔ کو خصوصی طور پر مدعو کیا ہے، وہاں دلسوزؔ صاحب کو مقالہ پڑھنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے کے لیے پورا پورا موقع فراہم کیا ہے۔ ایسا کیوں نہ ہو کہ اس 176صفحات والی کتاب میں پشتو زبان کی ہر صنف کے حوالے سے مختصرا ً مگر جامع تفصیل پیش کی گئی ہے۔
پشتو زبان میں (ء) حمزہ کا استعمال اور اردو کے ساتھ تقابلی جایزہ، پشتو کا پرانا اِملا اور نیا اِملا، پشتو کا یوسف زیٔ اور قندہاری لہجوں مین فرق، پشتو زبان کی دوسری زبانوں کے الفاظ کے ساتھ مشترکہ ساخت، پشتو زبان میں عربی زبان سے کون سے الفاظ آئے ہیں؟ پشتو زبان میں فارسی زبان سے کون سے الفاظ آئے ہیں؟ ہندی زبان کے کتنے اور کون سے الفاظ پشتو میں آئے ہیں…… اور پشتو زبان کے اپنے الفاظ کون سے اور کتنے ہیں؟ پشتو کے کل کتنے حروف ہیں اور اُن کا تلفظ کیسے ادا کیا جائے گا؟ پشتو حروف کی پہلی، درمیانی اور آخری شکلیں کیسی ہوں گی؟ الفاظ کی پشتو، اُردو اور انگریزی میں تلفظ اور بولنے کے آہنگی آوازیں، وہ پشتو الفاظ اور انگریزی آوازیں کون سی ہیں؟ ایک لفظ کا تین بار استعمال، طریقۂ استعمال، قسمیں وغیرہ کی تفصیل، الفاظ کی صحیح اور غلط کی پہچان، پشتو میں مذکر اور مونث کی پہچان اور طریقۂ استعمال، واحد مذکر، جمع مذکر، واحد مونث، جمع مونث کیا ہے، پہچان اور طریقۂ استعمال کیا ہے؟ پشتو زبان کی مختلف علاقائی لہجوں کی تقسیم جیسے یوسف زیٔ لہجہ، قندہاری لہجہ، وزیری بنوسی لہجہ، خٹک لہجہ، آفریدی لہجہ، شنواری لہجہ، کاکڑی لہجہ، مروت لہجہ وغیرہ کے مشہور الفاظ کا استعمال، بولنے کا طریقہ کیسے ہوگا؟ پشتو میں (ؤ) اور (و) کا استعمال کیا اور کب ہوگا؟ واو کی کتنی قسمیں ہیں، پشتو کے حروف کی کتنی قسمیں ہیں، ان کا صحیح تلفظ یعنی (Pronounciation)کیسے ہوگا؟ ح،ہ اور ھ کا استعمال کہاں کہاں ہوگا؟ پشتو گرامر پر تفصیلی بحث، اسمِ ضمیر کی قسمیں، مصدر کیا ہے، روزمرہ محاورہ کیا ہے، محاورہ کیا ہے اور پھر مشہور خوب صورت محاوروں کو اکٹھا کیا گیا ہے جو ایک اضافی علم کی کامیاب کوشش ہے۔ پشتو میں متل سے کیا مراد ہے اور پھر تقریباً 170 متلونہ کی خوب صورت اور نایاب فہرست،مشہور پشتو کے الفاظ اور اُن کے اردو اور انگریزی معنی دیے گئے ہیں۔ پشتو، اُردو اور انگریزی جملے دیے گئے ہیں۔ پشتو کے صحیح اور غلط فقرے دیے گئے ہیں۔ نیز مشکل الفاظ اور اُس کے معنی لکھے گئے ہیں، حرف کیا ہے؟ حروفِ جار، حروفِ علت، حروفِ عطف، حروفِ استثنا، حروفِ تردید، حروفِ بیان، حروفِ شرط و جزا، حروفِ ایجاب، حروفِ ندا وغیرہ کیا ہیں…… کہاں کہاں استعمال ہوتے ہیں…… مرکب کیا ہے…… اور اس کے کتنے اقسام ہیں؟ منفی، سوالیہ اور مثبت جملے کیا ہیں؟ لاحقہ اور سابقہ کیا ہے؟ ان کا استعمال کیسے ہوگا؟ پشتو تحریر اور املا کے بارے میں باڑہ گلئی کے سیمیناروں کا احوال لکھا گیا ہے۔ باڑہ گلئی کے فیصلوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے۔
اس طرح پشتو حروفِ تہجی کے حساب سے پشتو میں، اصطلاحوں، اوزاروں، پیشوں، سبزیوں کے نام صحیح طور پر ادا کرنے کے لیے انہیں انگریزی رومن میں لکھا گیا ہے اور ساتھ معنی بھی دیے گئے ہیں۔ مثلا (بنسٹ، Bansat، بنیاد، سٹہ، اساس) یہ الف سے لے کر واو تک دیے گئے ہیں۔ علاوہ ازیں پشتو زبان کے حوالے سے چند اہم یادداشتیں بھی تحریر کی گئی ہیں۔ آخرمیں پشتو رموزِ اوقاف بھی دیے گئے ہیں۔ علامتوں کی تفصیل بھی درج کی گئی ہے۔
دلچسپی کے لیے کتاب کے آخری صفحے پر آزمائشی امتحان کے لیے چند دلچسپ سوالات دیے گئے ہیں۔ جن کے جوابات اگلے صفحے پر موجود ہیں۔
قارئین! اگر آپ نے پشتو زبان کے بارے میں یہ سب معلومات حاصل کرنی ہیں۔ درجِ بالا تمام سوالات کے جوابات ڈھونڈنے ہیں اور تمام اصطلاحات،تفاہیم اور مختلف اشیا کے تعارف کا علم جاننا ہے، تو جہانزیب دلسوز کی کتاب ’’د پختو صحیح لیک لوست‘‘ پڑھنا لازمی ہے۔
یہ کتاب جتنی پشتو سیکھنے والے طلبہ کے لیے لازمی ہے، اتنی پشتو سکھانے والے اساتذہ کے لیے بھی ضروری ہے۔ پشتو شاعر، نثر نگار، ادیب، مضمون نگار، مقالہ نگار، مقرر اور محرر بھی اس کتاب سے استفادہ کرسکتے ہیں…… بلکہ ہر پڑھا لکھا پشتون، پشتو زبان کے حوالے سے ہر قسم کی معلومات کے اس خزانے سے مستفید ہوسکتا ہے۔
بقولِ شاعر، ادیب محترم سید صابر شاہ صابر:ؔ ’’جہاں زیب دلسوزؔ نے یہ کتاب لکھ کر پشتو زبان کے علمی دریا کو کوزے میں بند کردیا ہے۔‘‘
اس طرح پی ایچ ڈی سکالر پشاور یونیورسٹی جناب لعل بادشاہ خیالی کتاب پر اپنی تعارفی تحریر میں فرماتے ہیں: ’’جناب جہاں زیب دلسوز نے اس کتاب میں ایک قابل قلم کار کی حیثیت سے مختلف موضوعات اور مثالوں سے جن میں اُردو اور انگریزی زبانوں کا بھی استعمال کیا گیا ہے، اپنے کام میں قابلِ قدر پیش قدمی کی ہے اور اپنی مادری زبان کا حق ادا کردیا ہے۔‘‘
اس طرح طبقاتی جد و جہد کے مشہور مبارز، سیاسی دانش ور، ناول نگار، انشا پرداز اور تنقید نگار محترم وکیل خیر الحکیم حکیم زے صاحب کتاب کے حوالے سے کچھ اس طرح رقم طراز ہیں کہ ’’جب مَیں نے جہاں زیب دلسوزؔ صاحب کا یہ مسودہ پڑھا، تو مجھے ایسا محسوس ہوا کہ یہ پشتو زبان کے بنیادی نصاب کے لیے ایک شاہکار تحریر ہے اور یہ نصاب میں شامل کرنے کے قابل ہے۔ اس کا متبادل کوئی نہیں۔ بہت گہری تحقیق کی گئی ہے۔ ایسی ترتیب کو ملحوظِ خاطر رکھا گیا ہے جو داد اور حوصلہ افزائی کی مستحق ہے۔ اس لیے محکمۂ تعلیم کے متعلقہ افسرانِ بالا سے التماس ہے کہ یہ کتاب درسی نصاب میں شامل کی جائے، تاکہ طلبہ کے ساتھ ساتھ اساتذۂ کرام بھی اسے پڑھ کر استفادہ کرسکیں۔‘‘
اس طرح باچا خان یونیورسٹی میں پشتو زبان کے باوا آدم اور پی ایچ ڈی عالم، ادیب، نثر نگار محترم ڈاکٹر بدر الحکیم حکیم زیٔ صاحب کتاب پر اپنے تعارفی کلمات میں یوں فرماتے ہیں کہ ’’محترم دلسوزؔ صاحب نے بڑا کام یہ کیا ہے کہ اپنی تحریر میں جہاں بھی اُس نے کمی محسوس کی، اس کی بھی نشان دہی کرچکے ہیں اور پشتو زبان کے الگ الگ لہجوں کے ساتھ ساتھ اُن کے درمیان فرق بھی واضح کرچکے ہیں۔ اس طرح پشتو زبان سیکھنے والے اس سے بہتر استفادہ کرسکیں گے۔‘‘
محترم قارئین! جہاں زیب دلسوزؔ مٹہ سوات کے رہنے والے ہیں۔ وہ گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول مٹہ سوات میں بہ طورِ معلم اپنے فرایض ادا کررہے ہیں…… وہ شاعر ہیں…… ادب سے گہرا شغف رکھتے ہیں۔ ادبی محفلوں اور مشاعروں میں پیش پیش ہوتے ہیں۔ وہ ’’سوات ادبی غورزنگ مٹہ‘‘ کے صدر ہیں۔ دلسوز ہیں…… لیکن وہ دوسروں کا نہیں اپنا دل جلاتے ہیں…… بلکہ حالات و واقعات نے ام کا دل کباب کیا ہوا ہے۔ ان کی والدہ صاحبہ اس سال رحلت کرگئیں اور انہیں اکیلا چھوڑ دیا۔ ان کا بیٹا امیر زیب عرصہ تیرہ سال تک گردوں کے مرض میں مبتلا تھا۔ آپریشنوں نے اُس کا بدن جس طرح چھلنی کیا تھا، اس طرح دلسوزؔ کا دل بھی چھلنی ہوچکا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ یہ بچہ چھے مہینے کی معصوم عمر میں ماں کی المناک موت کے بعد اس بھری دنیا میں ماں کی محبت کے لمس سے محروم ہوگیا تھا۔ ماں فوجی آپریشن کے دوران میں شہید ہوگئی تھی۔ دلسوزؔ صاحب نے اپنی اس کتاب کا انتساب اپنی ماں اور اس بیٹے کے نام کیا ہے۔ دلسوزؔ صاحب کے حوصلوں کی داد دینا پڑتی ہے کہ اُس نے تیرہ سال تک اس بچے کی نگہداشت میں مگن رہے۔ وہ اُس کے ساتھ اتنے مصروف رہتے کہ ایک بار اُسے اپنے ساتھ گاڑی میں بٹھا کر میری عیادت کے لیے تشریف لائے تھے۔ مَیں اُن کے حوصلے کو سلام کرتا ہوں۔
پشتو زبان اور پشتون قوم سے جہاں زیب دلسوزؔ کی محبت اور وفاداری کسی شک و شبے سے بالاتر ہے۔ انہوں نے اپنی کتاب کا تیسرا انتساب غازی عمرا خان بابا کے نام کیا ہے۔ غازی عمرا خان جو ریاست جندول کا ایک بہادر سامراج دشمن حکم ران تھا، اُس نے فرنگی سامراج کے خلاف لڑ کر اپنی ریاست، حکم رانی، مال و جائیداد اور اولاد تک کو داؤ پر لگادیا…… لیکن اُس نے استعمار کے آگے سر نہیں جھکایا۔
دلسوزؔ صاحب کی کتاب علمی و ادبی حلقوں میں اپنی اہمیت ثابت کرچکی ہے۔ ہر بک سٹال اور کتابوں کی دُکان سے یہ کتاب صرف دو سو روپے کے عوض حاصل کی جاسکتی ہے۔
جہانزیب دلسوزؔ نے اپنی یہ کتاب بہ نفس نفیس خود میرے گھر تک پہنچائی۔ میری بدقسمتی کہ مَیں ملاقات نہ کرسکا۔ مَیں ان کا بہت ممنون و مشکور ہوں۔ انہیں ایک اچھی علمی کتاب لکھنے پر مبارک باد دیتا ہوں اور بدست دعا ہوں کہ اُن کا زور قلم اور زیادہ ہو۔

اشتہار / Advertisement
اس تحریر کو شیئر کریں:

⭐ آپ کو یہ تحریر کیسی لگی؟ (درجہ بندی کریں)

براہ کرم اس تحریر کو 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹنگ دیں

اوسط ریٹنگ: 0 / 5 (0 ووٹ)

اپنا تبصرہ تحریر کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کی نشاندہی * سے کی گئی ہے۔