(باخبر سوات ڈاٹ کام) پنجاب کی یونیورسٹیوں میں طالبات کے ہراسانی کے واقعات کے بعد وہی واقعات سوات یونیورسٹی میں بھی رونما ہونے لگے۔ سوات یونیورسٹی کی طالبات اور اُستانیوں نے یونیورسٹی سٹاف کے خلاف صوبائی محتسب برائے ہراسانی کو شکایتی خط لکھ دیا۔ سوات یونیورسٹی کے شعبہ صحافت کے سالِ آخر کے طالب علم محمد جواد نے بھی یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو طالبات کی ہراسانی کے خلاف درخواست لکھی جس کے جواب میں وائس چانسلر نے طالب علم کے خلاف تھانہ میں ایف آئی آر درج کراکر گرفتار کرلیا۔ محمدجواد کی گرفتاری کے خلاف یونیورسٹی کے طلبہ نے شدید احتجاج کیا اور وائس چانسلر کو ان کے دفتر میں یرغمال کرکے رکھ دیا۔ سوات یونیورسٹی میں خواتین کی ہراسانی کا سلسلہ ایک عرصہ سے جاری ہے، جس میں سابق وائس چانسلر کے دور میں یونیورسٹی کی ایک خاتون پروفیسر نے اُس وقت کے رجسٹرار پر جنسی ہراسانی کا الزم لگا کر اس کے خلاف تھانہ کانجو میں رپورٹ درج کرائی تھی۔ موجودہ وائس چانسلر کے دور میں اُس وقت کے ملزم رجسٹرار کو یونیورسٹی ملازمت سے برطرف کردیا گیا، لیکن اس کے بعد موجودہ انتظامیہ میں بھی یونیورسٹی کی طالبات اور استانیوں کے ساتھ ہراسانی کی خبریں گردش میں تھیں۔ چند روز قبل یونیورسٹی کی طالبات اور استانیوں نے صوبائی محتسب کو یونیورسٹی میں جنسی ہراسانی کے بارے میں شکایتی خط لکھا جس کے جواب میں صوبائی محتسب کی جانب سے لیٹر نمبر2023/8573-77 مورخہ 04 اگست2023 ء کووائس چانسلر یونیورسٹی آف سوات اور سٹینڈنگ انکوائیری کمیٹی یونیورسٹی آف سوات کو لکھا کہ ان الزامات کی فوری طور پر تحقیقات کرکے صوبائی محتسب کو رپورٹ پیش کی جائے۔ اس سلسلے میں رابطہ پر سوات یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر حسن شیر نے باخبر سوات ڈاٹ کام کو بتایا کہ ان کو ابھی تک یہ لیٹر نہیں ملا ہے، لیکن ان کا خیال ہے کہ مذکورہ خط فرضی ناموں سے لکھا گیا ہوگا۔ سوات یونیورسٹی شعبہ صحافت کے آخری سمسٹر کے طالب علم محمد جواد نے بھی یونیورسٹی کے وائس چانسلر کویونیورسٹی سٹاف کی جانب سے طالبات کی حراسانی کے بارے میں تفصیلی خط لکھا اور ان کو طالبات کو ہراسانی سے بچانے کے بارے میں اپنی تجاویز بھی دیں، جس پر وائس چانسلر کے کہنے پر یونیورسٹی رجسٹرار نے طالب علم جواد احمد کے خلاف تھانہ چارباغ میں دفعات PPC506/25D کے تحت ایف آئی آر درج کرائی۔ پولیس نے محمد جواد کو گرفتار کیا، جس کو اگلے دن بدھ کو عدالت میں جسمانی ریمانڈ کے لئے پیش کیا گیا، جہاں عدالت مجسٹریٹ نے ان کو یک روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔ محمد جواد کی گرفتاری کے بعد بدھ کو سوات یونیورسٹی کے مختلف شعبہ جات کے طلبہ نے وائس چانسلر اور طالبات کی ہراسانی میں ملوث سٹاف کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا جس کی وجہ سے یونیورسٹی میں مکمل کام بند رہا۔ احتجاج کرنے والے طلبہ نے وائس چانسلر کو ان کے دفتر میں دوپہر تک یر غمال بنائے رکھا اور وائس چانسلر کے خلاف نعرے بازی کی۔
Swat
