
ماسٹر عمر واحد
قدرت اس دنیا میں بعض ایسے سپوت بھی پیدا کرتی ہے، جو جہدِ مسلسل اور اپنے کام میں یک سوئی کی بدولت منزلِ مقصود تک پہنچتے ہیں اور اپنی شرافت، خوش خلقی اور خدمتِ خلق کی وجہ سے نام، مقام اور پذیرائی پاتے ہیں۔
مذکورہ سپوتوں میں حاجی امیر خان (مرحوم) سابقہ چیف پتھالوجسٹ آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف پتھا لوجی را ولپنڈی، سینئر پیتھالوجسٹ ہسپتال سیدو شریف بھی شامل ہیں۔
3جنوری 1938ء کو سیدوشریف میں سابقہ ریاستِ سوات میاں گل عبدالودود بادشاہ صاحب (مرحوم) کے سابقہ صو بیدار با جوڑے پاچا کے ہاں پیدا ہوئے۔ چچا امیرسید (مرحوم)، سابقہ وزیر ملک اختر منیر، جمعدار حاجی لال سید مینگورہ اور خائستہ لال ان کے چچا تھے۔ مرحوم امیر خان کے چار بھائی تھے: حاجی سید عمر خان صنوبرخان، عمر خان اور ثمر خان۔
خاندان کے یہ بزرگ والیانِ ریاست کے قریب رہ کر عوام اور ریاست کی خدمات سرانجام دیتے رہے۔
حاجی امیر خان (مرحوم) نے اپنی تعلیم سوات کی مشہور تعلیمی اور تاریخی درس گاہ گورنمنٹ ہائی سکول و دود یہ سیدوشریف سے مکمل کی۔ حاجی صاحب 18 جون 1954ء کو سیدو گروپ ہسپتال میں پتھالوجسٹ کے طور پر متعین ہوئے۔ اس کے بعد پتھالوجی کی تربیت کے لیے آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف پتھالوجی راولپنڈی چلے گئے۔ پتھالوجی کی تربیت کامیابی سے مکمل کرنے کے بعد مذکورہ ادارے میں پتھالوجسٹ کے طور پر متعین ہوئے ۔ وہاں 17 جون 1960ء تک رہ کر چیف پتھالوجسٹ کے عہدے تک پہنچ گئے۔
جب ریاستِ سوات کو پتھالوجسٹ کی ضرورت محسوس ہوئی، تو ریاست کے ڈائیریکٹر ہیلتھ سروسز سوات ڈاکٹر نجیب اللہ (مرحوم) نے اُن کو طلب کرکے سیدو شریف ہسپتال سیدو شریف کے شعبہ پتھالوجی میں متعین کیا۔ حاجی صاحب (مرحوم) کو اپنے پیشے میں کافی مہارت حاصل تھی اور اس سے لگاو بھی تھا۔ نہایت شرافت سے، محنت سے اور بغیر کسی لالچ کے امیر اور غریب کی خدمت کرتے رہے ۔ سابقہ والیِ سوات میاں گل جہان زیب ( مرحوم ) اور شاہی خاندان کے افراد کے پتھالوجسٹ بھی رہے۔
حاجی امیر خان (مرحوم) ایک شریف النفس اور دھیمے مزاج کی حامل شخصیت تھے ۔ چھوٹے صاحب زادے ڈاکٹر خالد محمود خالدکے ساتھ راقم کی ہم نشینی 26 سال پر محیط ہے۔ اپنے وقتِ حیات میں حاجی صاحب (مرحوم) اپنی مائیکر وسرچ لیبارٹری واقع محلہ وزیر مال مین بازار مینگورہ میں تشریف فرما ہوتے۔ یہ لیبارٹری 1965ء میں قائم ہوئی، تو رقم ان سے پرانے وقتوں خصوصاً سابق ریاستِ سوات کے سنہرے دور کے حالات اور طبی اصلاحات سے متعلق پوچھتا۔ پورے ملاکنڈ ڈویژن بالخصوص ضلع سوات میں امراض کی تشخیص کے لیے لیبارٹری موجود نہیں تھی ۔ حاجی صاحب (مرحوم) کی بدولت پورے ملاکنڈ ڈویژن کے ضلع سوات جو اس وقت ایک الگ ریاست تھی، سرکاری اور پرائیویٹ لیول پر لیبارٹری کا قیام عمل میں لایا گیا۔ یہ 1965ء کا زمانہ تھا۔ اس فیلڈ میں حاجی صاحب (مرحوم) کے ہزاروں شاگرد اُن سے تربیت حاصل کرچکے ہیں، جب کہ بعض سرکاری ہسپتالوں سے ریٹائر ہوچکے ہیں۔
اپنے وقت میں حاجی امیر خان (مرحوم) مختلف قسم کی بیماریوں کی تشخیص کے لیے تجربات کرتے رہے۔ آج ملاکنڈ ڈویژن اور ضلع سوات میں بے شمار لیبارٹریاں اپنے کام میں مصروف ہیں۔ یہ سب حاجی صاحب ( مرحوم ) کی کاوشوں کی مرہونِ منت ہے۔ وہ نہایت تفصیل کے ساتھ راقم کو بہت کچھ بتاتے۔ وہ راقم کوعموماً پرنسپل صاحب کے نام سے پکارتے۔
حاجی امیر خان (مرحوم) کے صاحب زادوں میں ڈاکٹر محمد طارق، ڈاکٹر خالد محمود خالد، محمد قاسم اور نصیر احمد شامل ہیں۔ ڈاکٹر خالد محمود خالد شعبۂ طب سے وابستہ ہیں اور اپنی پرانی ذاتی لیبارٹری میں پتھالوجسٹ کے طور پر عوام کی خدمت کرنے کے ساتھ ساتھ سیاسی اور سماجی میدان میں بھی سرگرمِ عمل ہیں۔ یہ دومرتبہ سید و شریف کے ناظم بھی رہ چکے ہیں۔ عرصہ 30 سال سے پختو نخواملی عوامی پارٹی اور تاجر برادری مینگورہ کے سٹیج سے عوام کی اور تاجر برادری کی خدمت میں ہمہ تن مصروف ہیں۔
ڈاکٹر محمد طارق بھی شعبۂ طب سے وابستہ ہیں اور عوام کی خدمت کرتے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ گجریوتھ فورم کے ذمے دار عہدہ پر فائز ہوکر اپنی برادری کی خدمت بھی سرانجام دے رہے ہیں۔
آج حاجی امیر خان (مرحوم) اگرچہ اس فانی دنیا سے جاچکے ہیں، لیکن اُن کی اولاد اُن کی طرح آج بھی خدمتِ خلق کے جذبت سے سرشار عوام کی خدمت کر رہے ہیں۔ یہ سب حاجی صاحب (مرحوم) کی محنت، حسنِ تربیت اور اخلاص کا نتیجہ ہے کہ آپ کی اولا د اعلا تعلیم یافتہ ہو کر معاشرے میں باعزت مقام حاصل کرچکی ہے۔
ایک پوتا منصور خالد سول انجینئرنگ میں ماسٹر کی اعلا ڈگری لیے ہوئے ہے۔ دوسرا مسرور طارق ایم بی بی ایس اور کارڈیالوجی میں ایم سی پی ایس کر رہا ہے۔ بابر قاسم مائننگ انجینئر نگ میں ڈگری حاصل کرچکا ہے۔ پوتیوں میں ڈاکٹر لیلیٰ خالد بھی ایم بی بی ایس اور گائنا کالوجسٹ میں ایم سی پی ایس کر رہی ہے۔ سونیا خالد میڈیکل کے تھر ڈائیر میں ہے۔
ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالا حاجی امیر خان (مرحوم) کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے، اور اُن کی اولاد کو کامیاب اور باعزت رکھے، آمین!