انور انجمکالم

سیاست میں بچوں کو گھسیٹنا کہاں کا انصاف ہے!

پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت سے ڈھیر ساری غلطیاں ہوئی ہیں۔ عمران خان کی حکومت میں سیاسی لوگوں کو نشانہ بنایا جاتا تھا۔ اُن کے گھروں پر چھاپے مارے جاتے تھے۔ بچوں کے سامنے اُن کی تذلیل کی جاتی تھی۔ سیاست دانوں کو روزانہ گرفتار کیا جاتا تھا اور اُن پر جعلی مقدمات بنائے جاتے تھے۔
پی ٹی آئی حکومت ہر وہ کام کرتی تھی، جو اختلاف رکھنے والے کی اذیت کا سبب بنتا تھا۔ میڈیا کے اداروں سے ’’اختلافِ رائے‘‘ رکھنے والے صحافیوں کو زبردستی نکالا گیا۔ صحافیوں کو گرفتار اور لاپتا کیا گیا، جس پر ہم نے کھلے عام تنقید بھی کی۔ اب بھی اگر پی ٹی آئی حکومت کی اس حوالے سے کسی محفل میں بات ہوتی ہے، تو ہم سخت تنقید کرتے ہیں…… لیکن اب پاکستان تحریکِ انصاف کے کارکنوں اور رہنماؤں کے ساتھ جو ناروا رویہ روا رکھا گیا ہے، اس کی بھی کوئی مثال نہیں ملتی۔
کچھ ماہ سے تحریکِ انصاف کے خلاف ملک بھر میں دفعہ 144 نافذ کی گئی ہے۔ تحریکِ انصاف والے جب کوئی چھوٹا سا پروگرام بھی کرتے ہیں، تو ان کے خلاف سخت کارروائی ہوتی ہے اور فوراً کارکنان اور رہنماؤں کو گرفتار کرکے حوالات میں بند کیا جاتا ہے۔ اُن کی تصاویر وائرل کی جاتی ہیں۔بظاہر ملک میں یہ دفعہ 144نہیں لگ رہی، بلکہ پی ٹی آئی کے خلاف دفعہ لگ رہی ہے۔ وہ کس طرح……؟
تو وہ اس طرح کہ پی ٹی آئی کے علاوہ باقی تمام سیاسی لوگوں کو ملک بھر میں بڑے بڑے جلسوں کی اجازت ہے۔ وہ چاہے جو بھی کریں، کرسکتے ہیں…… لیکن صرف پی ٹی آئی پر دفعہ نافذ ہے۔
ویسے تو پی ٹی آئی کے خلاف گرفتاریاں ملک بھر میں زور شورسے جاری ہیں، لیکن ملاکنڈڈویژن بالعموم اور سوات میں بالخصوص انتقامی کارروائیاں عروج پر ہیں۔یہ سلسلہ راہ نماؤں سے شروع ہوا تھا اور تان اب بچوں پر آکر ٹوٹ گئی ہے۔ اب پی ٹی آئی کے راہ نماؤں کو اذیت پہنچانے کے لیے ان کے بچوں کی گرفتاریاں شروع کردی گئی ہیں، جو قابلِ مذمت ہے۔
27 نومبر کو کئی مہینوں بعد خوازہ خیلہ میں پاکستان تحریکِ انصاف کے ورکرز کنونشن کا انعقاد کیا گیا۔ پہلے تو پولیس نے اسے زبردستی روکنے کی کوشش کی، لیکن پاکستان تحریکِ انصاف کے کارکنوں اور راہ نماؤں نے یہ اپنا جمہوری حق سمجھ کر پُرامن پروگرام منعقد کیا، جس میں کارکنان اور راہ نماؤں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ پھر کیا ہوا کہ پولیس نے رہنماؤں اور کارکنان کے خلاف دہشت گردی سمیت سنگین الزامات کے تحت مقدمات درج کیے۔
مقدمات درج کیے جانے کے بعد پولیس نے پی ٹی آئی کے کارکنوں اور راہ نماؤں کے گھر پر چھاپے مارنے شروع کردیے ہیں۔ درجنوں کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ہے، اور اب بھی یہ کارروائیاں جاری ہیں۔
پی ٹی آئی راہ نماؤں کو دباو میں لانے کے لیے پولیس نے اب ان کے بچوں کو گرفتار کرنا شروع کردیا ہے۔ سٹی میئر مینگورہ شاہد علی خان کے بیٹے شوال خان، ملاکنڈ ڈویژن کے صدر فضل حکیم یوسف زئی کے بیٹے سلمان اور بھتیجے، سابق ایم این اے اور پی ٹی آئی ضلع سوات کے صدر سلیم الرحمان کے چچا زاد بلال کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔
ان گرفتاریوں میں افسوس ناک بات یہ ہے کہ میئر سٹی شاہد علی خان کے بیٹے کو ہتھکڑی لگا کر عدالت میں پیش کیا گیا۔ شاہد علی کے بیٹے کی عمر 17 سال ہے۔ وہ سالِ دوم کا طالب علم ہے۔ اس پر بھی دہشت گردی کا مقدمہ درج کیا گیا۔
شاہد علی کے دوسرے بیٹے حماد خان (جس کی عمر 14 سال ہے) کو بھی ایف آئی آر میں نام زد کیا گیا ہے۔ حماد خان جماعتِ نہم میں پڑھتاہے۔
ایک طرح سے ان دونوں طالب علموں کا مستقبل داو پر لگ چکا ہے۔ 17سالہ شوال اور 14 سالہ حماد کا گناہ صرف یہ ہے کہ وہ سٹی میئر شاہد علی کے بیٹے ہیں اور اُن کا والد اپنی پارٹی (پی ٹی آئی) کے ساتھ ڈٹ کے کھڑا ہے۔
سٹی میئر شاہد علی کے مطابق اُن کو اذیت دینے کے لیے پولیس سٹیشن میں اُن کے بچوں پر باقاعدہ تشدد کیا گیا ہے۔
اس موقع پر شوال نے اپنے والد کو فریاد کرتے ہوئے پوچھا کہ ’’ہمارا کیا گناہ ہے کہ یہ لوگ ہمارے ساتھ یہ ظلم کررہے ہیں؟‘‘
17 سالہ بچے شوال کی ہتھکڑیوں والی تصویر دیکھ کر بہت سے لوگوں نے اس پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس قسم کی کارروائیاں ہر والد کے لیے درد ناک اور قابلِ مذمت ہیں۔
ایک والد ہونے کے ناتے مَیں یہ سمجھتا ہوں کہ بچوں کو گرفتار کرکے اُن کے والدین کو تکلیف دینے میں کسی کی فتح نہیں۔ کیوں کہ مذکورہ بچوں کو عمر بھر یہ ظلم اور زیادتی یاد رہے گی۔ ظلم وبربریت اور زبردستی سے آپ کسی کے دل سے کسی کو نہیں نکال سکتے۔ اس عمل سے تو نفرتوں میں مزید اضافہ ہوگا، بلکہ بڑی حد تک ہوچکا ہے۔
میرا مشورہ ہوگا کہ انتقامی کارروائیوں میں بچوں کو نہ گھسیٹا جائے۔ ان معصوموں کا مستقبل تباہ وبرباد نہ کیا جائے۔ کیوں کہ بچے سب کے ہیں اور ہر کوئی اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے فکر مند ہوتا ہے۔
ظلم تو یہ بھی ہے کہ عوام کے ووٹوں سے منتخب میئر شاہد علی خان کو کام سے روکا جارہا ہے۔ یہاں تک کہ ان کے گھر کے اندر کمروں تک کی ویڈیوز بنائی گئیں…… اس کے باوجود جب وہ اپنا نظریہ چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہوئے، تو اب اُن کے بچوں کو دہشت گرد گردانا جانے لگا ہے۔
مجھے بتایا جائے کہ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے معصوم بچوں کو گرفتار کرنا کہاں کا انصاف ہے؟
پہلے پہل صرف دہشت گردوں کے خلاف دفعہ 7ATA درج کی جاتی تھی، لیکن اب تو گنگا اُلٹی بہتی ہے۔ اب مذکورہ دفعہ معصوم طالب علوں کے خلاف لگا کر اُنھیں ہتھکڑیاں پہنائی جاتی ہیں۔
کچھ بھی ہو، مگر معصوم طالب علموں کو سیاست کی بھینٹ چڑھانا کسی طور ہضم نہیں کیا جاسکتا۔

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں