Swat

فوجیوں کو سلام لیکن انھیں سیاسی میدان سے نکلنا ہوگا، محمود خان اچکزئی

(باخبر سوات ڈاٹ کام) سوات کے گراسی فٹ بال گراؤنڈ میں تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کے زیرِ اہتمام جلسہ سے اپنے خطاب میں تحریک کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ میں آپ کو مبارک باد دیتا ہوں کہ آپ نے مل کر ایک بار پھر عمران خان کو ووٹ دیکر کامیاب کیا۔ مجھے امید ہے کہ علی امین گنڈا پور اس صوبے میں پشتو کے علاوہ باقی تمام بولی جانے والی زبانوں کو زندہ رکھنے کے لئے اکیڈمیز بنائیں گے۔ ہم کسی سے خیرات یا زکواۃ نہیں مانگتے۔ ہم اپنے وسائل پر اختیار چاہتے ہیں۔ ہم پاکستان توڑنا نہیں چاہتے، لیکن اس پختون سر زمین کے وسائل پر ان کے رہائشیوں کا حق ہے۔ پاکستان کاپارلیمنٹ ہمیں ضمانت دیگا کہ اس سرزمین کے وسائل پر ان کے لوگو ں کا حق ہوگا۔ ہم فوجیوں کو سلام پیش کرتے ہیں لیکن ان کو سیاسی میدان سے نکلنا ہوگا۔ پاکستان پنجاب کا نام نہیں، تمام صوبوں کو برابری کی بنیاد پر دیکھنا ہوگا۔ تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے اپنے خطاب میں کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام نے تیسری مرتبہ خان پر اعتماد کیا ہے۔ خان صاحب جیل میں ہیں لیکن وہ کہتے ہیں کہ میں اگر ہزار سال جیل میں بھی رہا، تو اس ملک کے عوام اور قانون و آئین کے لئے لڑوں گا۔ وہ دن دور نہیں کہ خان صاحب جیل سے باہر ہوں گے اور وہ اس ملک کے وزیر اعظم بن کر اس ملک کو قانون کے دائرے میں لائیں گے۔ سابق سپیکرقومی اسمبلی اسد قیصر نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج سوات میں جلسہ ہورہا ہے، لیکن مراد سعید اس جلسہ میں نہیں۔ ہمارے اب دو مقاصد عمران خان کی رہائی اور جعلی مقدمات کا خاتمہ ہیں۔ ان کا خیال تھا کہ ہم عمران خان کو گرفتار کرکے ٹی وی پر ان کے خلاف پروپیگنڈا کر لیں گے، لیکن 8 فروری کو ملک کے عوام نے عمران خان کے حق میں ووٹ دیا۔ انہوں نے عوامی مینڈیٹ کو چوری کیا، لیکن ہم اس کے خلاف آج یہ پہلا جلسہ کر رہے ہیں اور اس کے بعد ملک بھر میں جلسے ہوں گے۔فاٹا اور پاٹا میں کسی قسم کا ٹیکس کسی صورت میں نہیں مانتے۔

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں