زندگی اپنے آپ کو پانے اور منوانے کا نام ہے۔کچھ لوگ خود کو پانے کی غرض سے موت تک سفر میں رہتے ہیں لیکن بعض لوگوں کو گھر کی چوکھٹ پر ہی منزل مل جاتی ہے۔ ایسے خوش قسمت لوگوں کی اگر فہرست بنائی جائے، تو انہیں ایک ہاتھ کی انگلیوں پر گنا جاسکے گا۔ آج میں ایسے ہی ایک شخص کی بات کرنے جا رہا ہوں، اس خوش نصیب کو عوام شہاب شاہین کے نام سے جانتے ہیں۔ کسی بھی مبالغہ سے بالاتر موصوف ان خوش قسمت لوگوں کی فہرست میں شامل ہیں جنہوں نے کامیابی کے مراحل بہت ہی کم عمر میں طے کرلیے۔
شہاب شاہین کی مادری زبان توروالی ہے لیکن وہ پشتو زبان سے بے پناہ لگاؤ اور اس کی ترقی کا درد سینے میں لے کر پشتو موسیقی کا دامن تھامے ہوئے ہیں۔ سوات کی زرخیز مٹی سے تعلق رکھنے والے اس با ہمت نوجوان نے 2014ء میں علاقہ میں پہلی بار اپنا میوزیکل بینڈ متعارف کرایا اور ’’زلفان دی بینڈ‘‘ کے نام سے اپنا بینڈ بنایا۔ ابھی تک پانچ گانے آفیشلی ریکارڈ کر اچکے ہیں، جن میں تین اس نے خود لکھے ہیں۔ وہ کمپوزیشن بھی خود کرتے ہیں۔ ابھی تک وائس آف امریکہ، مشرق، نیوز ون اور دیگر ٹی وی چینلز پر موصوف کے انٹرویوز بھی نشر ہوچکے ہیں۔
قارئین، آج کل کے پشتو فلم کلچر میں جو موسیقی ترتیب دی جاتی ہے، اس میں جسمانی اور جنسی ’’ایگریشن‘‘ زیادہ ہے، جس کی وجہ سے نئی نسل بے راہ روی کا شکار ہو رہی ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لئے ’’زلفان د بینڈ‘‘ معاشرے میں پشتو موسیقی کو ایک نئے رنگ میں متعارف کرنے کی کوشش میں مگن ہے۔ ان کی موسیقی کے سفر میں تخلیقی اور تجرباتی کام بہت ہے، جو ان کو منفرد بناتا ہے۔
موسیقی کی دنیا کے ساتھ ساتھ شہاب شاہین اور اس کی ٹیم کی معاشرے کے لئے بھی خدمات ہیں جس میں قابل ذکر ’’نوے ژوند‘‘ کے نام سے ایک تحریک ہے۔ اس کا مقصد نشے کی لعنت میں پھنسے لوگوں کا علاج کرنا اور ان میں نئی زندگی پھونکنا ہے۔ یہ ایسا زمانہ ہے کہ ہر کوئی اپنے لئے جی رہا ہے لیکن یہ انسان دوست نوجوان دوسروں کے لئے اپنی زندگی وقف کیے ہوئے ہے۔ دراصل یہی اپنے آپ کو پانے کا گر ہے، جو شہاب شاہین نے کم عمری میں پالیا ہے۔ ہم دعا گو ہیں کہ وہ آگے بھی کامیابی اور کامرانی کے مراحل ایسے ہی جذبے کے ساتھ طے کریں، آمین!
کالم نگاری