مینگورہ(باخبر سوات ڈاٹ کام) سوات کے علاقہ بشیگرام میں دوسری برادریوں میں شادیاں کرنے کی وجہ سے ’’بدیشی‘‘ زبان بولنے والے کم سے کم ہوتے گئے۔ رحیم گل نے کہا کہ اُن کے دادا پردادا نے اپنے خاندان میں شادیوں کے بجائے توروالی زبان بولنے والے خاندانوں میں شادی کی۔ اس وجہ سے بیویوں کی زبان گھروں میں ہاوی ہوگئی۔ یوں ہمارے خاندانوں میں والدہ کی زبان بولی جانے لگی جس کی وجہ سے اب ’’بدیشی‘‘ زبان والے لوگ توروالی اور پشتو زبان بولتے ہیں اور بیویوں کی وجہ سے ہماری اپنی مادری زبان ختم ہوگئی۔
Swat
