کالم نگاری

سب کچھ بھول جاتا ہوں

افتخار افتی

✍️ کالم نگار: افتخار افتی

اشتہار / Advertisement

میں روزانہ قبرستان کے راستے سے گزرتا ہوں۔ کیوں کہ میرے گھر کا راستہ یہی سے ہو کر گزرتا ہے۔ گنبدمیرہ جاتے ہوئے ہائی اسکول نمبر 2 حاجی بابا سے ذرا اُوپر ایک بڑا اور پرانا قبرستان نظر آتا ہے۔ ان میں سے ڈھیر ساری قبروں کا نام و نشان تک مٹ چکا ہے۔ اب بھی اس کا دامن اتنا فراخ ہے کہ لوگ اپنے پیاروں کو لاکر یہاں دفن کرادیتے ہیں۔ میں روزانہ کئی بار اس راستے سے گزرتا ہوں۔ سب کچھ دیکھتا ہوں۔ سوچتا ہوں اور زندگی کے میلے میں دوبارہ کھوجاتا ہوں۔ میری طرح اور بھی ڈھیر سارے لوگ یہاں سے گزرتے ہیں۔ اُنہیں تو یہ توفیق تک نہیں ملتی ہوگی کہ کم از کم گزرتے وقت ان لوگوں کی فاتحہ کے لیے ہاتھ اُٹھائیں۔ اکثر میں نے دیکھا ہے کہ بہت سے لاڈلے اپنی قیمتی گاڑیوں کے اندر بیٹھ کر تیز آواز سے گانے سنتے ہوئے گزر جاتے ہیں، لیکن اُنہیں احساس تک نہیں ہوتا کہ اس راستے سے گزرنے کے کچھ آداب بھی ہوتے ہیں۔ انسان، زندگی میں تھانہ، کچہری اور اسپتال سے پناہ مانگتا ہے لیکن یہی قبرستان ایک ایسی جگہ ہے جہاں انسان نہ چاہتے ہوئے بھی ایک نہ ایک دن آجاتا ہے اور یہی فنا ہوجاتا ہے۔ پہلے مجھے اندر جانے کا موقع بہت کم میسر آتا تھا مگر جب سے میری پیاری نانی جان خاک کی چادر اوڑھے یہاں محوِ خواب ہیں، تو اب یہاں آنا میری ضرورت بن چکا ہے۔ دنیا میں ماں باپ کے علاوہ کچھ رشتے بہت عزیز ہوتے ہیں۔ میری نانی جان بھی مجھے بہت عزیز تھیں۔ ہمارا بچپنا انہیں کے سامنے گزرا بلکہ ہم اُن کے سامنے پلے بڑھے۔ اب وہ بھی اس شہرِ خموشاں کا ایک حصہ ہیں۔ میں جب اُن کی قبر پر حاضر دیتا ہوں، تو اُن کے سرہانے بیٹھ کر اُن سے ہم کلام ہونے کا دِل کرتا ہے۔ یادوں کی پوٹلی خود بہ خود کھل جاتی ہے اور میں دور بہت دور کہیں کھو جاتا ہوں۔ پھر اچانک خیالوں کا یہ سلسلہ ٹوٹ جاتا ہے۔ چہار سو خاموشی چھا جاتی ہے۔ فضا میں صرف پنچھیوں کی چہک سنائی دیتی ہے۔ قبرستان سے نکلتے وقت مجھے پشتو کا یہ لازوال شعر یاد آجاتا ہے:
کہ دِسل چتہ محل وی پہ دنیا کے
قبرستان تہ د مکان پہ نظر گورہ
آمدم بر سرِ مطلب، ہم ہر سال عمرہ اور حج کی ادائیگی کے لیے جاتے ہیں۔ اُس مقدس زمین پر پہنچ کر اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں۔ گڑ گڑا کر روتے ہیں اور عہد کرتے ہیں کہ بس بہت ہوچکا، اب یہاں سے واپس جاکر نیکی کے راستے پر چلیں گے، گناہوں کو ترک کریں گے، نیک بنیں گے، نیکی پھیلائیں گے، لیکن۔۔۔ جب وہاں سے لوٹ آتے ہیں، تو کچھ دنوں کے بعد پھر وہی دوغلا پن، بے ایمانی، لالچ، جھوٹ اور مکر و فریب کا لبادہ اوڑھ کر سب کچھ بھول جاتے ہیں۔ ہمارا سب کچھ محض ایک فیشن بن چکا ہے۔ عمرہ، حج، زکوٰۃ، خیرات ہم اس لیے کرتے ہیں کہ ہم سوسائٹی میں نیک نام رہیں اور ہمارا ’’شملہ‘‘ اونچا رہے۔ بہت کم ایسے اللہ والے ہوں گے جو ان سب باتوں سے قطعِ نظر خوفِ خدا اور تہہ دل سے احکامِ الٰہی کی پابندی کریں گے۔ باقی سب دکھاوا اور فیشن ہے۔ ایک صاحب فر مارہے تھے کہ پیشے کے لحاظ سے میں موچی ہوں۔ بازار میں ایک دُکان کی ساتھ والی جگہ پر بیٹھ کر سارا دن محنت مزدوری کرتا ہوں اور زندگی کی مشکلات کا سامنا کرنے کی کوشش کرتا ہوں، جس دن کسی وجہ سے کام نہ ہو، تو پھر فاقے گھر میں ڈیرہ ڈال دیتے ہیں۔ وہ کہہ رہے تھے کہ میں کرائے کے گھر میں رہتا ہوں۔ کرایہ سات ہزار روپے کسی نہ کسی طریقے سے ادا کردیتا ہوں۔ مالک مکان ماشاء اللہ تبلیغی جماعت کا ایک سرگرم رُکن ہیں، وہ زیادہ تر اللہ کی راہ (تبلیغ) میں ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلے جب ہم اس گھر میں آئے، تو اُن کے گھر سے ہمیں پانی مل جایا کرتا تھا۔ پھر ایک ’’این جی اُو‘‘ نے محلے میں ایک بور کا کنواں کھدوایا، تو مالک مکان صاحب کے گھر سے پانی کا آنا بند کر دیا گیا اور کہا گیا کہ اب آپ لوگ وہاں سے اپنے لیے پانی کا بندوبست کریں۔ یہ محض ایک گھر کی بات نہیں تھی۔ اُن کے جتنے بھی کرایہ دار تھے، اُن سب کو یہ حکم نامہ ارسال کیا گیا۔ موصوف کہہ رہا تھا کہ اب کچھ ہی دن پہلے کنواں خشک ہوگیا ہے۔ اب ہمارے بچے دور دور سے پانی لانے پر مجبور ہیں۔ جب ہم نے مالک مکان (جو الحمد اللہ، اللہ کے احکامات اور بندوں کے حقوق سے خوب واقف ہیں) سے کہا کہ کنویں میں پانی کم ہے، ہمیں بہت مشکل کا سامنا ہے، آپ ہمیں پانی دیا کریں، تو اب وہ ٹال مٹول سے کام لے رہے ہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہر وقت اللہ کی راہ میں نکلنے والا، لوگوں کو دینِ اسلام کی تبلیغ کرنے والا، ہر وقت حقوق العباد کی باتیں کرنے والا، اپنے کرایہ دار کو پانی دینے سے انکاری ہو، تو پھر کسی اور سے کیا گلہ! حالاں کہ وہ ہر ماہ باقاعدہ وقت سے پہلے اپنا کرایہ وصول کرتے ہیں۔ دو تین دن اگر کسی وجہ سے تاخیر ہوجائے، تو پھر وہ آسمان سر پر اٹھالیتے ہیں۔ یہ تو ایک سادہ سی مثال ہے۔ ہمارا معاشرہ اسی قسم کی باتوں سے بھرا پڑا ہے۔ ہم خود کو دین دار، پارسا، حاجی صاحب اور نہ جانے کیا کیا کہلواتے ہیں، لیکن حقیقت یہی ہے کہ سب کچھ ڈھکوسلا اور دکھاوا ہے۔ اندر سے ہم میں کچرہ بھرا ہوا ہے۔ ظاہری رکھ رکھاؤ، منافقت اور دوغلے پن سے دوسروں کو دھوکے میں رکھتے ہیں۔ آپ آس پاس نظر دوڑائیں، آپ کے محلے میں، آپ کے قریب بہت سے ایسے یتیم بچے نظر آئیں گے جن کے تن پر لباس ہوگا، نہ کھانے کو مناسب خوراک میسر ہوگی۔ یہی بچے تعلیم حاصل کرنے سے بھی محروم رہیں گے۔ ایسی بہت سی بیوہ عورتیں بھی قدم قدم پر آپ کو ملیں گی، جو اپنے بچوں کے ساتھ زندگی گزارتی ہوں گی، لیکن کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلائیں گی۔ اگر ہم ہر سال حج و عمرہ اداکرنے کے اتنے ہی شوقین ہیں، تو کیوں نہ اس قسم کے لوگوں کی مدد کریں، یتیم بچے کو پہننے کے لیے کپڑے فراہم کریں، کسی بیوہ غریب خاتون کی داد رسی کریں، کسی غریب حوا کی بیٹی کے لیے اس رقم سے جہیز کا سامان خریدیں۔ لیکن نہیں، ہم ایسا ہر گز نہیں کریں گے۔ کیوں کہ یہ کام تو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے چپکے سے کیے جاتے ہیں اور اس میں نیک نامی بھی نہیں ہوتی۔ جب کہ ہمیں تونمائش کرنے کا چسکا پڑا ہوا ہے، تاکہ لوگوں کی نظروں میں ہمارا بھرم قائم رہ سکے۔ زندگی کے شب و روز گزر رہے ہیں، باتوں میں سب چمپئن ہیں، لیکن اندر سے کھوکھلے ہیں۔ انسان کو انسان، سمجھنے کا دور ختم ہوچکا ہے۔ ہم کسی انسان کو اللہ کی رضا کی خاطر مٹکے سے پانی تک دینا نہیں چاہتے، تو اس کے بعد تو یہ بحث ہی فضول ہے۔ اگر ہمیں اپنا محاسبہ کرنا ہے، تو ہمیں سوچنا ہوگا کہ یہ ہم کس سمت جارہے ہیں؟ میں بھی روزانہ دوسرے لوگوں کی طرح قبرستان کے راستے سے گزرتا ہوں، سب کچھ دیکھتا ہوں اور سوچتا ہوں کہ ہم سب کو ایک نہ ایک دن یہاں آنا ہے اور یہاں پورا پورا حساب دینا ہے لیکن پھر سب کچھ بھول جاتا ہوں اور دنیا کی رنگینیوں میں غرق ہوکر سب سے بڑی حقیقت سے منھ موڑ لیتا ہوں۔ کیوں کہ میں بھی کوئی آسمان سے اُتری ہوئی مخلوق نہیں بلکہ دوسروں کی طرح محض گفتار کا غازی ہوں۔

اشتہار / Advertisement
اشتہار / Advertisement
اس تحریر کو شیئر کریں:

⭐ آپ کو یہ تحریر کیسی لگی؟ (درجہ بندی کریں)

براہ کرم اس تحریر کو 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹنگ دیں

اوسط ریٹنگ: 0 / 5 (0 ووٹ)

اپنا تبصرہ تحریر کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کی نشاندہی * سے کی گئی ہے۔