(باخبر سوات ڈاٹ کام) ماہرین قانون نے سوات میں ٹریڈرز ، سیاسی جماعتوں اور دیگر تنظیموں کی جانب سے ’’پاٹا‘‘ کے خاتمے کے خلاف احتجاج کو بے فائدہ قرار دے دیا۔ سابق جسٹس شیر محمد خان کے مطابق 31ویں آئینی ترمیم کے قومی اسمبلی اور سینٹ سے پاس ہونے کے بعد ’’پاٹا‘‘ کا خاتمہ ہوگیا ہے۔ اس وقت سیاسی جماعتوں اور تنظیموں کا احتجاج بے فائدہ اور بے معنی ہے۔ کیونکہ اب جب کہ اسمبلیوں کی مدت ختم ہونے میں چند دن باقی ہیں۔ اس لئے وہ اب آئین میں کوئی ترمیم نہیں کر سکتیں۔ نہ قومی اسمبلی اور سینیٹ سے دو تہائی اکثریت سے پاس کر سکتی ہیں۔ ماہرین قانون کے مطابق اگر اگلی حکومت ’’پاٹا‘‘ کی حیثیت بحال بھی کرنا چاہے، تو اس کو آئین میں ترمیم کرنا ہوگی جس کے لئے ان کو قومی اسمبلی اور سینیٹ سے دو تہائی اکثریت سے آئینی ترمیم پاس کرنے کی ضرورت ہوگی۔ ماہرین کے مطابق قومی اسمبلی اور سینٹ میں اس وقت ملاکنڈ ڈویژن اور کوہستان کی نمائندگی موجود ہے۔ ملاکنڈ ڈویژن و کوہستان سے تعلق رکھنے والے اراکین قومی اسمبلی اور سینیٹرز کو چاہے تھا کہ وہ آئینی ترمیم کو پڑھتے اور اگر ان کو ’’پاٹا‘‘ کی حیثیت ختم کرنا منظور نہ تھا، تو وہ 31ویں آئینی ترمیم کو پاس کرنے سے پہلے اس شق کو بل سے نکال لیتے۔ اب جب کہ دو تہائی اکثریت سے ملاکنڈ ڈویژن اور کوہستان کے عوامی نمائندوں سمیت دو تہائی اکثریت نے اس ترمیم کے حق میں ووٹ دیا ہے، تو اب اس کی واپسی ناممکن ہے۔
Swat
