(باخبر سوات ڈاٹ کام) ضلع سوات کے زمین داروں کو اس سال7 ارب روپے سے زائد کا نقصان ہوگا۔ 13 مئی 2021ء کو ہونے والی ژالہ باری سے زراعت کو شدید نقصان پہنچا تھا۔ سوات میں زراعت سے ہر سال زمین داروں کو 12 ارب روپے کی آمدنی ہوتی ہے۔ ژالہ باری سے سات ارب نقصان کے بعد اب سوات کے زمین داروں کو 5 ارب روپے ملنے کا امکان ہے۔ سوات میں محکمہئ زراعت کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد عزیر نے باخبر سوات ڈاٹ کام کو بتا یا کہ اس ژالہ باری سے تحصیلِ مٹہ کے 11 یونین کونسل، تحصیلِ خوازہ خیلہ کے 3 اور تحصیلِ چارباغ کے 2 یونین کونسلوں میں آڑو، خوبانی، آلوچہ، جاپانی پھل، گندم، گھاس اور پیاز کو شدید نقصان پہنچا۔ژالہ باری سے ان یونین کونسلوں میں آڑو، آلوچہ،خوبانی اور میویشیوں کے لیے اُگنے والی گھاس کو80 فیصد، گندم کو 40 فیصد،پیاز اور جاپانی پھل کو 20 فیصد کا نقصان پہنچا ہے۔محکمہئ زراعت کی ریسرچ رپورٹ کے مطابق اس نقصان کا تخمینہ7 ارب روپے لگایا گیا ہے جس کی وجہ سے زمین دار بہت پریشان ہیں۔ سوات میں ژالہ باری کی وجہ سے اس سال ملک کے بیشتر علاقوں کے لوگ کم پیداوار اور زیادہ قیمت کی وجہ سے آڑو کھانے سے محروم رہیں گے۔ محکمہئ زراعت کے مطابق سوات میں ہر سال 3 کروڑ، 83 لاکھ70 ہزار کلوگرام سے زیادہ آڑو کی پیدوار ہوتی ہے، لیکن حالیہ ژالہ باری سے ہونے والے نقصان کی وجہ اس سال آڑو کی پیداوار کم ہوگی، جس کی وجہ سے کم پیدوار کے باعث آڑو کی قیمت میں اضافہ ہوگا۔ اس طرح آلوچہ، خوبانی اور جاپانی پھل کی کم پیداوار کی وجہ ان پھلوں کی قیمتوں میں بھی ہوش ر باش اضافے کا امکان ہے۔ سوات کے زمین داروں نے سات ارب روپے نقصان کے بعد سوات کو آفت زدہ ضلع قرار دینے اور حکومت کی جانب سے امداد کا مطالبہ کیا ہے۔ سوات فروٹ اینڈ ویجی ٹیبل ایسو سی ایشن کے صدر رحمت علی خان نے باخبر سوات ڈاٹ کام کو بتایا کہ پچھلے چالیس سال میں پہلی بار اتنی شدید ژالہ باری ہوئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ زمین داروں کا بہت زیادہ نقصان ہوا ہے۔ اس لئے حکومت کو چاہیے کہ سوات کے زمین داروں کے زرعی قرضے معاف کیے جائیں۔ ان کو یوریا، تخم اور زرعی ادویہ مفت دی جائیں۔ محکمہئ زراعت کے مطابق وزیر اعلیٰ اور وزیرِ زراعت کے حکم پر انہوں نے نقصانات کی تفصیلی رپورٹ حکومت کو ارسال کردی ہے جہاں کابینہ نے رپورٹ سٹینڈنگ کمیٹی کو ارسال کی ہے۔
Swat
