Swat

صوبے میں گورنرراج خارج از امکان نہیں، امیر مقام

(باخبر سوات ڈاٹ کام) وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی اُمور اور ن لیگ کے صوبائی صدر انجینئر امیرمقام نے کہاہے کہ وفاق پر چڑھائی کرنے کی کوشش اور تصادم کا راستہ اختیار کیا گیا، تو صوبے میں گورنرراج خارج از امکان نہیں۔ ملک میں انقلاب کی باتیں کرنے والے عمران خان ایک ایف آئی آر کٹنے کے بعد پشاور بھاگ گیا۔وہ دلیر ہے تو سی ایم ہاؤس سے باہر آکر مقابلہ کرے۔دوبارہ اسلام آباد میں آیا، تو رانا ثناء اللہ اور ہم استقبال کے لئے تیار ہیں۔ عدلیہ اور ادارے ساتھ ہوں، تو خوش،نہیں تو دباؤ ڈالتا ہے۔ عمران خان صرف اداروں سے مدد اور خود کواقتدار میں لا نے کی جدوجہد کررہا ہے۔ عمران خان ملک کے لئے ناسور اور کرونا وائرس سے بھی خطرناک ہورہا ہے۔ لاٹری سے بننے والے وزیراعلیٰ محمودخان نے فورس کو استعمال کرنے کی دھمکی دے کر بغاوت کا اعتراف کرلیا ہے۔ سپریم کورٹ سوموٹو ایکشن لے۔ خیبر پختونخوا میں گورنرراج سمیت ہر آپشن پر غور ہونا چاہیے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سوات میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر لیگی رہنما فضل رحمان نونو، ارشادعلی خان، انجینئر حنیف خان اور دیگر مقامی قیادت بھی موجود تھی۔ انجینئر امیرمقام نے کہاکہ عدم اعتماد میں ساز ش ہوئی ہے، نہ کوئی مداخلت بلکہ عمران خان کو اپنے اتحادیوں نے جھوٹ بولنے کی وجہ سے چھوڑ ا۔ انہوں نے کہاکہ پشاور میں بیٹھا شخص جلد انتخابات کا مطالبہ اس لئے کررہا ہے، تاکہ اس کی اور اس کے ساتھیوں کی کرپشن کے کرتوت عوام کے سامنے نہ آئیں۔ انہوں نے کہاکہ عمران خان کے بیانات کا جواب دینا وقت کا ضیاع ہے جبکہ لاٹری سے وزیر اعلیٰ بننے والا شخص محمود خان بھی اب عجیب بیانات دینے لگا ہے۔ انہوں نے کہاکہ عمران خان نے سی ایم ہاؤس میں بیٹھ کر سرکاری وسائل استعمال کررہا ہے، جہاں دنبے ذبح ہوکر قومی وسائل کو لوٹا جارہا ہے۔ امیر مقام نے کہاکہ اسلام آباد جانے والوں نے آگے پیچھے سیکڑوں لوگوں کو دیکھ کر خود ہی غنیمت جان کر مارچ کو ختم کردیا۔انہوں نے کہاکہ سازش مارچ میں کے پی، کشمیر اور گلگت بلتستان کی سرکاری گاڑیاں استعمال ہوئیں لیکن صوابی میں ورکر کو مارکر اب وفاق پر الزام تراشی کررہا ہے۔انہوں نے کہاکہ کے پی کی فورس کو پاکستان پر حملے کی دھمکی وزیر اعلیٰ کا بچکانہ پن ہے۔ صوبائی فورس کو نہ محمودخان تنخواہ دیتا ہے اور نہ بنی گالہ ہی سے اسے تنخواہ ملتی ہے۔ اس دھمکی کا سپریم کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ کو سوموٹو ایکشن لینا چاہیے۔

اشتہار / Advertisement
اس تحریر کو شیئر کریں:

⭐ آپ کو یہ تحریر کیسی لگی؟ (درجہ بندی کریں)

براہ کرم اس تحریر کو 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹنگ دیں

اوسط ریٹنگ: 0 / 5 (0 ووٹ)

اپنا تبصرہ تحریر کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کی نشاندہی * سے کی گئی ہے۔