Swat

ڈی ایس پی اور فوجی افسران کی رہائی کے بعد طالبان علاقہ میں تاحال موجود

(باخبر سوات ڈاٹ کام)سوات کی تحصیل مٹہ کی پہاڑی علاقہ ”کنالہ“ میں مسلح طالبان کی جانب سے یر غمال بنائے جانے والے پولیس کے ڈی ایس پی اور پاک فوج کے دو افسران کو مذاکرات کے بعد رہا کردیا گیا، جس کے بعد پولیس کی بھاری نفری علاقہ سے بغیر آپریشن واپس ہوگئی اورمسلح طالبان علاقہ میں موجود ہیں۔ 7 اور 8 اگست کی درمیانی شب مسلح طالبان نے مٹہ میں چپریال پولیس سٹیشن پر حملہ کیا تھا جس کے بعد پولیس حکام کی جانب سے بیان آیا کہ کسی نے حملہ نہیں کیا۔ البتہ پولیس نے مشکوک افراد کو دیکھ کر فائرنگ کی۔ 8 اگست کو صبح اطلاع ملی کہ ڈی ایس پی مٹہ پیر سید مسلح طالبان کی فائرنگ سے زخمی ہوا ہے، جس کے بعد پولیس، سی ٹی ڈی اور ایلیٹ فورس کی بھاری نفری علاقہ میں روانہ کردی گئی جہاں سے اطلاع ملی کہ پولیس اور طالبان کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے، لیکن مقامی لوگوں نے اس کی تردید کی اور کہا کہ فورسز اور طالبان میں مذاکرات جاری ہیں۔ اس سلسلے میں بار بار ڈی آئی جی اور ڈی پی او سوات سے رابطہ کیا گیا، لیکن ان کے فون بند آرہے تھے۔ اس سلسلے میں سوات پولیس کے ”پی آر او“ سے رابطہ کیا گیا، تو انہوں نے کہا کہ افسران سے ان کا رابطہ نہیں ہورہا۔ اس دوران مقامی لوگوں کے مطابق پولیس اور طالبان کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوگئے اور طالبان نے یرغمال فورسز افسران کو رہا کردیا۔ پولیس علاقہ سے واپس چلی گئی۔ منگل کی شام سوات پولیس کی جانب سے پریس ریلیزجاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ ”کل مورخہ08-08-2022 کو ڈی ایس پی سرکل مٹہ پیر سید خان پولیس نفری کے ہمراہ کنالہ تحصیل مٹہ کے علاقے میں سرچ آپریشن میں مصروف تھے کہ اسی اثنا میں دہشت گردوں نے پولیس پارٹی فائرنگ شروع کی۔ فائرنگ کے نتیجے میں ڈی ایس پی مٹہ پیر سید خان زخمی ہوئے۔ پولیس کی جوابی فائرنگ سے دہشت گرد بھاگنے میں کامیاب ہوگئے۔ فائرنگ کا واقعہ رونما ہونے کے فوراً بعد ڈی پی اُو سوا ت زاہد نوازمروت کی نگرانی میں سی ٹی ڈی، ضلعی پولیس اور ایلیٹ فورس نے موقع پر پہنچ کر علاقے میں سرچ آپریشن مزید تیز کردی۔ زخمی ہونے والا ڈی ایس پی مٹہ پیر سید خان کو دشوار گزار پہاڑیوں سے اُتار کر فوری طور پر ریسکیو 1122کے ذریعے سیدوشریف ہسپتال پہنچایا گیا۔جہاں ان کا علاج معالجہ جاری ہے۔ فرار دہشت گردوں کی تلاش اور گرفتاری کے لئے تحصیل مٹہ کے پہاڑوں اور جنگلات میں سرچ آپریشن جاری ہے۔“ پولیس کی جانب سے اس پریس ریلزکے جاری کرنے کے بعد طالبان نے ایک ویڈیو جاری کی جس میں یرغمال افسران سے انٹرویو لیا گیا ہے۔ طالبان کا ایک کمانڈر زخمی ڈی ایس پی سے پوچھتا ہے کہ تم کو پیغام نہیں پہنچا کہ اوپر نہیں آنا ہے، جس پر ڈی ایس پی نے جواب دیا ”نہیں جی“۔ یرغمالیوں کی رہائی کے بعد تمام فورسز اس علاقہ سے واپس چلی گئیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ طالبان علاقہ میں موجود ہیں۔

اشتہار / Advertisement
اس تحریر کو شیئر کریں:

⭐ آپ کو یہ تحریر کیسی لگی؟ (درجہ بندی کریں)

براہ کرم اس تحریر کو 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹنگ دیں

اوسط ریٹنگ: 0 / 5 (0 ووٹ)

اپنا تبصرہ تحریر کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کی نشاندہی * سے کی گئی ہے۔