(باخبر سوات ڈاٹ کام) سوات موٹروے فیز ٹو اور توتانو بانڈی کی زرعی زمینوں کے متاثرین نے نشاط چوک میں احتجاجی مظاہرہ کیا، جس میں پشتون قومی مومنٹ، سوات قومی جرگہ اور تحریکِ انصاف کے علاوہ باقی تمام سیاسی جماعتوں کے کارکنوں اور قائدین نے شرکت کی۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی ایم کے سربراہ منظور پشتین نے کہا کہ سوات میں زرعی زمین کم ہے۔ موجودہ زرعی زمین پر موٹروے کی تعمیر سے سوات میں زرعی زمین ختم ہو جائیگی۔ انہوں نے کہا کہ ہم سوات موٹروے اور ترقی کے خلاف نہیں۔ اس لئے سوات موٹروے کو دریائے سوات کے کنارے تعمیر کیا جائے، جس سے ایک تو زرعی زمینیں سیلاب سے بچ جائیں گی اور موٹروے کا سفر دریائے سوات کے کنارے خوشگوار ہو جائیگا۔ انہوں نے توتانو بانڈئی میں لوگوں کے گھروں اور زمینوں پر سیکشن فور کی شدید مذمت کی اور کہا کہ فوری طور پر سیکشن فور کو واپس لیا جائے۔ مظاہرے سے خطاب میں دیگر مقررین نے کہا کہ اگر سوات موٹروے کا نقشہ تبدیل اور توتانو بانڈئی میں سیکشن فور کو واپس نہ لیا گیا، تو مین شاہراہ پر دھرنا دیا جائیگا۔
Swat
