(باخبر سوات ڈاٹ کام) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں انہوں نے ملک سے دہشت گردی اور دہشت گردوں کا خاتمہ کیا تھا، ڈھیر سارے دہشت گرد افغانستان فرار ہوگئے تھے، لیکن سلیکٹیڈ نے جاتے جاتے افغانستان سے سارے دہشت گرد واپس بلالیے اور ملک کو ایک بار پھر دہشت گردوں کے حوالے کردیا۔ سوات کے علاقہ خوازہ خیلہ کے فٹ بال گراؤنڈ میں جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج خوشی محسوس ہورہی ہے کہ میں سوات کی سرزمین پر کھڑا ہوکر جئے بھٹو کا نعرہ لگا رہا ہوں۔ خان صاحب کی حکومت میں جو ایم این ایز گالیاں دیتے تھے، وہ وزیر بن جاتے۔ ڈاکٹر حیدر علی نے کبھی گالی نہیں دی، اس لئے ان کو وزیر نہیں بنا یا گیا۔ پیپلز پارٹی گالی کی سیاست کرتی ہے اور نہ گندی سیاست۔ سوات پر جب دہشت گردی مسلط کی گئی تو اہلِ سوات نے اس کا دلیری سے مقابلہ کیا۔اس وقت شہید بے نظیر بھٹو نے کہا تھا کہ کچھ لوگ سوات سے پاکستان کا جھنڈا اُتارنا چاہتے ہیں، لیکن بے نظیر بھٹو نے ایسا نہیں ہونے دیا۔ پیپلز پارٹی کی حکومت جب آئی تو ہم نے فیصلہ کیا کہ ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ کریں گے اور پاکستان میں امن قائم کریں گے۔ ہم، پولیس اور فوج نے قربانیاں دیکر امن قائم کیا تھا، لیکن جو سلیکٹیڈ ہم پر مسلط کیا گیا تھا۔ وہ افغانستان بھاگے ہوئے دہشت گردوں کو واپس لے آیا۔ یوں خان صاحب نے پھر پاکستان کو دہشت گردوں کے حوالے کیا،لیکن سوات کے عوام نے اُٹھ کر دہشت گردوں کا مقابلہ کیا اور دہشت گردوں کو بھگایا۔ پیپلز پارٹی اب بھی دہشت گردوں کا مقابلہ کریگی۔ افغانستان سے بھی اس بارے ہمارا رابطہ ہے اور ان کو ہم نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان میں امن ہوگا، تو دونوں ممالک خوشحال ہوں گے اور تجارت بڑھے گی۔ میں دہشت گردوں سے کہتا ہوں کہ وہ خود کو قانون کے حوالے کردیں، جن لوگوں نے ہمارے جوانوں کو قتل کیا ہے، ان کو ہم نہیں چھوڑ سکتے۔ ملک میں امن قائم کرنے کے لئے ہم دہشت گردوں کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے۔ پاکستان میں دہشت گردی کا مسئلہ پہلے ہی تھا، لیکن اب سیاسی دہشت گردی شروع کی گئی ہے۔ ہم 9 مئی کی دہشت گردی کی مذمت کرتے ہیں اورجو اس روز دہشت گردی میں ملوث تھے ان کو اور ان کے آقاؤں کو ہم کبھی معاف نہیں کرسکتے۔ انہوں نے قومی اداروں پر حملے کئے ہیں۔ اگر ہم نے ان کو معاف کردیا، تو پاکستان میں پھر سیاست نہیں سیاسی دہشت گردی ہوگی۔ ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر بے نظیر بھٹو تک کو شہید کیا گیا لیکن ہمارے کسی کارکن نے گملا نہیں توڑا۔ جب بھٹو کو شہید کیا گیا، تو اس وقت بے نظیر بھٹو بھی کارکنوں کو ہدایت کرسکتی تھی کہ ضیاء الحق کے گھر، کور کمانڈر اور فوجی اداروں پر حملہ کرو، لیکن بے نظیر بھٹو محب وطن تھی، اس لئے انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ پھر جب بے نظیر بھٹو کو شہید کیا گیا، تو اس وقت میں 19 سال کا تھا اور بے نظیر بھٹو کے دفنانے کے بعد میں نے کہا کہ جمہوریت بہترین انتقام ہے۔ عمران خان نے منصوبے کے تحت اپنی گرفتاری کے بعد فوجی تنصیبات پر حملے کئے تھے۔ اس لئے پیپلز پارٹی کا مطالبہ ہے کہ اس سیاسی دہشت گرد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں مہنگائی اور بے روزگاری میں کمی آتی ہے۔ عمران نے اپنی حکومت میں روزگار چھینا اور ملک کو قرضوں میں ڈبو دیا۔ اس وقت ملک کے حالات ایسے ہیں کہ ہر شخص پریشان ہے۔ پیپلز پارٹی کی حکومت میں ہر غریب کا فائدہ ہوتا ہے۔ پیپلز پارٹی کا مقابلہ کسی سیاسی جماعت سے نہیں، مہنگائی اور بے روزگاری سے ہے۔ اس جدوجہد میں مجھے آپ کا ساتھ چاہیے۔ آئندہ انتخابات میں آپ پیپلز پارٹی کو ووٹ دیں۔ چودہ مہینوں میں آپ کے نوجوان وزیر خارجہ نے ملک کے لئے وہ کام کئے ہیں جو سابقہ بزرگ وزیر خارجہ نہیں کرپائے۔ دنیا پاکستان کے ساتھ چلنے کے لئے تیار ہے۔ آپ نے سیلاب میں دیکھا کہ تمام ممالک پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے تھے۔ آپ نے پیپلز پارٹی کا دور بھی دیکھا۔ نواز شریف کا دور بھی دیکھا اور عمران کا دور بھی دیکھا، لیکن عمران کا دور پاکستان اور پاکستان کے عوام کے لئے تاریک ترین دور تھا۔ہم سمجھتے ہیں کہ انتخابات وقت پر ہونے چاہئیں اور جب انتخابات وقت پر ہوں گے، تو ملک کے لوگ اور خاص کر نوجوان اپنا ووٹ پیپلز پارٹی کو دینے کے لئے تیار ہیں۔ باقی سیاسی جماعتوں سے بھی کہتا ہوں کہ وہ انتخابات کی تیاری کریں اور جب انتخابات ہوں گے، تو جو سیاسی جماعت جیتے گی اس کا حق ہوگا کہ وہ ملک کی حکومت سنبھالے۔ سیلاب زدگان کے لئے بجٹ میں رقم مختص کی جائے۔ وزیر اعظم کی کابینہ میں جو لوگ بات نہیں مانتے، وزیر اعظم کو چاہیے کہ ایسے افراد پر نظر رکھیں۔ وزیر اعظم سے ملاقات میں ان کو اس حوالے سے اپنے تحفظات سے آگاہ کیا ہے۔ عوام سے درخواست کرتا ہوں کہ کل کا انتظار نہ کریں اور آج سے پیپلز پارٹی کے الیکشن مہم کا آغاز کریں۔ جلسہ سے پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر محمد علی شاہ، تحریک انصاف کے سابق ایم این اے ڈاکٹر حیدر علی خان، سابق امیدوار قومی اسمبلی ڈاکٹر امجد علی خان نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر پیپلز پارٹی کے سابق صوبائی صدر سید ظاہر علی شاہ، سابق سنیٹر روبینہ خالد، پیپلز پارٹی ملاکنڈ ڈویژن کے صدر ملک اکرم خان اور سوات کے صدر عرفان چٹان بھی موجود تھے۔
Swat
