سوات (باخبر سوات ڈاٹ کام) سوات میں شورش اور سیلاب کے بعد ٹراؤٹ فش فارمز ترقی کی راہ پر گامزن ہوگئے۔ اب تک 105 سے زیادہ پرائیوٹ ٹراؤٹ فش فارمز کھل گئے ہیں۔ سوات کے علاقہ مدین میں ایک سرکاری ٹراؤٹ ہیچری تھی جس کے بعد شورش سے پہلے کچھ لوگوں نے نجی فارمز کھولے لیکن شورش کے دوران میں ان فارمز میں نقصان کی وجہ سے بیشتر بند ہوئے۔ 2010ء کا سیلابی پانی سرکاری ہیچری سمیت تمام فارمز کو اپنے ساتھ بہا کر لے گیا۔ 2011ء میں یو ایس ایڈ کے تعاون سے ان ہیچریوں کی مالی مدد کی گئی جس کے بعد ان ہیچریوں اور کاروبار میں اضافہ ہوتا گیا۔ اب سوات کے بالائی علاقوں میں 105 کے قریب ٹراؤٹ فارمز موجود ہیں جن میں ٹراؤٹ مچھلیوں کی افزائش کی جاتی ہے اور انہیں فروخت کیا جاتا ہے۔ یہ کاروبار ترقی کی راہ پر گامزن ہونے کی وجہ سے اب مزید ٹراؤٹ فارمز بھی کھل رہے ہیں۔ تمام فارمز مالکان کا کہنا ہے کہ ان کا کاروبار دن بہ دن ترقی کر رہا ہے ۔ ریاست سوات کے دور میں پہلی بار 1953ء میں والئی سوات نے ٹراؤٹ مچھلیاں کسی یورپی ملک سے لاکر کالام کے مقام پر دریائے سوات میں چھوڑی تھیں جس کے بعد انہوں نے مدین کے مقام پر1960ء میں سرکاری ٹراؤٹ ہیچری قائم کی۔ اس وقت اس ہیچری میں انڈوں کی افزائش کے ساتھ ساتھ ، نجی فارمز کے لوگوں کو ٹراؤٹ کی افزائش نسل کے بارے میں تربیت بھی دی جاتی ہے۔ گذشتہ روز محکمہ ماہی پروری کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر اقبال نے بھی سوات کا دورہ کیا اور کہا کہ سوات کا پانی ٹراؤٹ مچھلی کی افزائش نسل کے لیے موزوں ہے۔ اس لئے اب سوات میں مزید فارمز بھی کھولے جائیں گے۔ ٹراؤٹ مچھلی ٹھنڈے پانی میں زندہ رہتی ہے۔ اس لئے سوات کے بالائی علاقوں میں اس کے فارمز لوگوں نے کھول رکھے ہیں۔ ٹراوٹ مچھلی باقی مچھلیوں کے مقابلے میں لذیز ہوتی ہے۔ اس میں صرف ایک بڑا کانٹا ہوتا ہے جو باآسانی نکل جاتا ہے۔ باقی مچھلیوں کی طرح ٹراؤٹ میں چھوٹے کانٹے نہیں ہوتے۔ اس لئے اس کو باآسانی کھایا جا سکتا ہے۔ سوات آنے والے سیاح ٹراؤٹ مچھلی کھائے بغیر نہیں جاتے اور صوبے کے مختلف علاقوں سے اکثر لوگ ٹراؤٹ مچھلی کھانے سوات آتے ہیں۔ ٹراوٹ مچھلی کی قیمت ہیچریوں میں 8 سو روپے سے ایک ہزار روپے فی کلو گرام ہے۔ پکی ہوئی مچھلی کے ایک کلو گرام کی قیمت بارہ سو سے تیرہ سو روپے ہے
Swat
