Swat

معصوم بچی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے اور مارنے والا کیفر کردار تک پہنچ گیا

سوات (باخبر سوات ڈاٹ کام) انسداد دہشت گردی سوات کی خصوصی عدالت کے جج محمد عارف نے پانچ سالہ بچی کو جنسی زیاتی کا نشانہ بنانے کے بعد بچی کو بے دردی کے ساتھ قتل کرنے والے 55سالہ ملزم کو جرم ثابت ہونے پر تین بار سزائے موت اور چھ لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنا دی۔ سینئر پبلک پراسیکوٹر سعید نعیم خان، بچی کے وکیل اشفاق خان اور ملزم کے سرکاری وکیل کی جانب سے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت کے جج نے مجرم کو دفعہ376 میں سزائے موت اور دو لاکھ روپے جرمانہ، دفعہ 302میں سزائے موت اور دو لاکھ روپے جرمانہ اور دفعہ 7ATA میں سزائے موت اور دو لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنائی ۔ مجرم 55سالہ جمراز ولد عبدالحنان سکنہ شنگ، بشام ضلع شانگلہ نے 21 جون2017ء کو 25 رمضان المبارک کو روزہ کی حالت میں سکول جانے والی پانچ سالہ بچی مدیحہ کو ٹافیاں دینے کے بہانے اپنے زیر تعمیر مہمان خانہ میں لے گیا اور اس کو جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کرکے لاش کو بوری میں بند کر کے پھینک دیا تھا۔ واقعہ کے بعد بچی کے پاؤں کے چپل جائے وقوعہ میں رہ گئے تھے۔ پولیس نے ان چپلوں کی مدد سے ملزم کو گرفتار کیا تھا۔ ملزم 55 سالہ جمراز ولد عبدالحنان نے عدالت کے سامنے اقبال جرم کرتے ہوئے کہا تھا کہ واقعہ کے روز وہ گھر کے باہر پانی کی پائپ لائن ٹھیک کرہا تھا کہ اس دوران اس نے بچی کو سکول جاتے ہوئے دیکھا۔ بعد میں اس نے بچی کو ٹافیوں کا لالچ دے کر گھر کے اوپر زیر تعمیر مہمان خانہ میں لے گیا جہاں زیادتی کرتے وقت بچی بے ہوش ہوگئی۔ ملزم نے بے ہوشی کی حالت میں بھی بچی کو ہوس کا نشانہ بنایا۔ بعد میں بچی کو بے ہوشی کی حالت میں گلہ دبا کر اور آخر میں اس کا سر پانی کی بالٹی میں ڈبو کر بچی کو قتل کیا۔ اس کے بعد بچی کی لاش کو بوری میں بند کرکے قریبی علاقہ میں پھینک دیا۔ پانچ سالہ بچی کو جنسی تشد کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے والے مجرم کے خلاف عدالت میں اس کے بیٹے نے بھی گواہی دی تھی۔ مجرم کے بیٹے 30سالہ جہانگیر نے عدالت میں گواہی دیتے ہوئے کہا کہ اس کے والد نے اس سے پہلے بھی محلہ کی دو اور بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی کوشش کی تھی لیکن لوگوں کے آنے پر وہ کامیاب نہ ہو سکا تھا۔اس واقعہ کے بعد جب ہمیں اس بات کی تصدیق ہوگئی، تو ہم نے اپنے والد کو خود پولیس کے حوالے کیا تھا۔ تین بار سزائے موت پانے والے مجرم جمراز نے بچی کو جنسی زیادتی اور قتل کرنے کے بعد مسجد جاکر نمازِ توبہ بھی ادا کی تھی۔ ملزم نے اپنے بیان میں کہا کہ جب اس نے معصوم بچی کی لاش پھینک دی، تو اس کے بعد اس نے قریبی مسجد میں جاکر نوافل ادا کئے اور اللہ تعالیٰ سے توبہ کی۔ ملزم بچی کے جنازے میں بھی شامل ہوا تھا ۔بچے کے والد حافظ طارق عزیز نے عدالت کے فیصلہ کے بعد فیصلہ پر خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ ان کی پھول جیسی بچی کے سفاک قاتل کو اس کے جرم کی سزا مل گئی۔ اس نے کہا کہ مدیحہ سے بڑے ان کو دو جڑواں بیٹے ہیں اور اس کے بعد ان کے گھر میں جب مدیحہ رحمت بن کر آئی، تو وہ ، ان کی اہلیہ اور گھر والے بہت خوش تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی بیٹی مدیحہ بہت خوبصورت اور خوب سیرت تھی۔ ابھی ہم ان کی پیاری پیاری باتوں سے لطف اندوز ہورہے تھے کہ اس سفاک نے ہماری بچی کو بے دردی سے قتل کیا

اشتہار / Advertisement

اپنا تبصرہ تحریر کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کی نشاندہی * سے کی گئی ہے۔