
1915ء میں ریاست سوات کے معرض وجود میں آنے اور ستمبر 1917ء میں باچا صاحب کے حکم ران بننے کے بعد یہی نظام اور طریقۂ کار برقرار رہا۔ تاہم باچا صاحب نے اپنی اور ریاست کی گرفت کسی حد تک مضبوط و مستحکم کرنے کے بعد خوانین اور ملکوں کو طاقت اور کردار کو کنٹرول کرنے کی ٹھانی۔ اس ضمن میں آپ کا اہم قدم خوانین و ملکوں کے تقرر اور معزولی کے اختیارات متعلقہ عوام سے اپنے ہاتھ میں لینا تھا۔ اب بہ حیثیت حکم ران ریاست وہ جس کو چاہتا، اسے خان یا ملک کے منصب پر فائز کرتا اور جسے چاہتا اسے معزول کرتا اور یا جسے چاہتا بہ حیثیت خان و ملک اس کے رتبے کو بڑھاتا اور اسے تقویت پہنچاتا اور جسے چاہتا، اس کے رتبے و مقام کو گٹھاتا اور اسے زوال پذیر کرتا۔
باچا صاحب کا ایک اور قدم ان خوانین و ملکوں کو ریاست کی طرف سے ’’ماجب‘‘ (مواجب) کی ادائیگی تھا۔ ’’ماجب‘‘ یا وظیفہ کی رقم سے ریاست اور حکم ران کے ہاں اس متعلقہ خان و ملک کے طور پہ ’’ہوز ہو آف دی دیر، سوات اینڈ چترال ایجنسی کو ریکٹڈ اپ ٹو فرسٹ جولائی 1950ء ‘‘ کے مطابق ہادی خان آف سیج بنڑ کو تین سو روپے اور شاکر اللہ خان آف غالیگے کو چار سو روپے سالانہ ماجب ملتا تھا۔ جب کہ بدر سے ملک آف سرسینئی کو چار سو چالیس روپے ملتا تھا۔ اس طرح کامران ملک آف شموزی کو سالانہ ایک ہزار روپیہ جب کہ دوستے خان آف بریکوٹ کو دو سو اسی روپے، محمد زمان خان آف کوٹہ کو سات سو روپے، نوشاد خان آف ڈھیرئ کو سات سو روپے، بہرام خان آف شاہ ڈھیرئ کو آٹھ سو دس روپے اور شاہ وزیر خان آف توتانو بانڈئ کو آٹھ سو دس روپے سالانہ ماجب ملا کرتا تھا۔ اس ’’ہوز ہو‘‘ میں سوات میں سب سے زیادہ ماجب محمد امیر خان المعروف امیر خان آف برہ بانڈئ کا سولہ سو روپے سالانہ جب کہ سلطنت خان آف جورہ المعروف خان بہادر صاحب کا پندرہ سو روپے سالانہ درج ہے۔ علاوہ ’’ماجب‘‘ کے خان و ملک کو اس کے حلقہ کے افراد پر کسی جرم میں عائد کیے جانے والے جرمانے میں سے تیسرا حصہ بھی دیا جانے لگا جسے ’’ملکانہ‘‘ کہا جاتا تھا۔ اور یہی خوانین و ملک اپنے متعلقین یا حامیوں اور ڈلہ کے ضمن میں حکم ران اور دوسرے ریاستی حکام کے ہاں پیش ہوکر سفارش بھی کرتے۔
اس طرح ریاست سوات کے معرض وجود میں آنے کے بعد باچا صاحب کے دور حکم رانی میں خوانین اور ملکوں یا خان و ملک نظام میں کئی ایک بنیادی اور کلیدی تبدیلیاں لائی گئیں اور ان کے پختو دور کی ہیئت و حیثیت کو بڑی حد تک تبدیل کیا گیا۔ تاہم نہ صرف پختو دور میں رائج ان کے اپنے متعلقین اور حلقہ کے لوگوں پر رائج حقوق اور بیگار وغیرہ کو برقرار رکھا گیا بلکہ ریاست اور حکم ران کی پشت پناہی حاصل ہونے اور عوام پر اپنے منصب کو بر قرار رکھنے کے لیے پرانا جیسا انحصار ختم ہونے کی وجہ سے ان خوانین و ملکوں میں سے بہت سے اپنی چیرہ دستیوں اور جبر میں دلیر ہوگئے۔ خاص کر وہ جو باچا صاحب کے خاص حامی اور منظور نظر تھے۔ ایسے خوانین میں تحصیل مٹہ کے جورہ گاؤں کے سلطنت خان المعروف خان بہادر صاحب کی چیرہ دستیوں اور ظلم و جبر کی داستانیں زبان زد خاص و عام رہی ہیں۔
بارہ دسمبر 1949ء کو میاں گل جہاں زیب المعروف والی صاحب کے حکم ران بننے کے بعد والی صاحب کے دعویٰ کے مطابق آپ نے خوانین اور ملکوں کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کی کوشش کی۔ اس لیے کہ آپ دنیا میں رو پذیر تبدیلیوں کو پڑھ رہے تھے اور محسوس بھی کررہے تھے۔ لہٰذا آپ کو معلوم تھا کہ یہ مروجہ نظام زیادہ دیر تک چل نہیں پائے گا۔ والی صاحب کی اس کوشش کا ایک نتیجہ یہ نکلا کہ بعض خوانین نے آپ کے خلاف بغاوت کی سازش کی، جس کے قبل از وقت طشت ازبام ہونے پر ان کو ریاست بدر ہونا پڑا۔
والی صاحب کی حکم رانی کے دباؤ کے بل بوتے پر خوانین اور ملک اپنے حلقہ کے بعض لوگوں کے ضمن میں بعض حقوق ٹلگیری (یعنی بیگار، دلہن کی شادی میں دولہا کے خاندان سے رقم کی وصولی، ذبح شدہ جانور کی ایک ران وصول کرنا وغیرہ) سے دست بردار ہوگئے۔ مثال کے طور پہ ضلعی محافظ خانہ سوات میں موجود والی صاحب کے دفتر کے ایک رجسٹر ’’کتاب فیصلہ جات والی صاحب‘‘ میں علاقہ نیک پی خیل کے بعض خوانین نے تیس اکتوبر 1951ء کو یہ اقرار نامہ لکھ کے دیا ہے کہ ہم نیک پی خیل کے مسمی امیر دوست خان، محمد خان، ایوب خان، تاج محمد خان، شاہ وزیر خان اپنی مرضی سے یہ اقرار کرتے ہیں اور لکھ کے دیتے ہیں کہ ہم سب کے جتنے بھی ٹلگری ہیں، وہ ہمارے ٹلگیری سے آزاد ہوں گے۔ ان پہ ہمارا کوئی حق ٹلگیری نہیں ہوگا۔
ہر ایک صاحب دفتر (مالک دوتر) میدان و پہاڑ (سم او غر) کے جائیداد کے اپنے اپنے فقیر لیں گے۔ البتہ حقوق مشری مثلاً پگڑی، جرائم کے جرمانوں میں تیسرا حصہ بر قرار رہے گا۔ پہاڑی و میدانی جائیداد کا فقیر نامہ لوگ ہمارا بیگار حسب دستور سابق کرے گا۔ پختونوں پہ ہمارا کوئی حق ٹلگیری نہیں ہوگا۔ گاؤں کے ستانہ دار بھی ہمارے رسم و رواج سے آزاد ہوں گے۔ لکھ کے دیتے ہیں کہ سند رہے۔ فقط۔
واضح رہے کہ کسی کے ملکیتی مکان میں رہنے والے کو اس کا فقیر اور کنڈری کہا جاتا تھا، جو کہ نقد کرایہ نہیں بلکہ بیگار وغیرہ کی صورت میں مالک مکان کو ادائیگی اور اس کی بہ وقت ضرورت خدمت کرتا رہتا تھا اور ایسے لوگوں کو بہ حیثیت مجموعی فقیر نامہ کہا جاتا تھا۔ اور یہ بھی واضح رہے کہ سوات کے سماج میں ہر کوئی پختون نہیں مانا جاتا۔ صرف وہ لوگ پختون کہے اور مانے جاتے ہیں، جو ایک خاص پختون یا افغان قبیلہ سے نسبی تعلق کے حامل ہو اور جو ’’دوتر‘‘ یا دفتر جائیداد میں حصہ دار کو بھی بر قرار رکھ رہے ہوتے ہیں۔ علاوہ ازیں ملک اور خان کے حلقہ کے لوگوں کو ان کا ٹلگری کہا جاتا تھا اور ان پر ملک و خان کے ذکر شدہ حقوق وغیرہ کو حقوق ٹلگیری کہا جاتا تھا۔ جب کہ سید، میاں اور ملا بہ حیثیت مجموعی ستانہ دار کہلائے جاتے رہے ہیں۔
والی صاحب اپنے دور حکم رانی میں اگر چہ خوانین و ملکوں کے سب اثر و رسوخ اور تمام اختیارات و مراعات کو ختم کرنے میں کام یاب تو نہیں ہوا۔ اس لیے کہ اس کو بھی اپنی حکم رانی کو قائم رکھنے کی خاطر اس نظام کو کسی نہ کسی صورت قائم رکھنا تھا، اور اس کا مکمل خاتمہ بہ یک جنبش قلم یا یک دم آسان بھی نہیں تھا۔ تاہم وہ اس حد تک کام یاب رہا کہ ہر مالک زمین کو اپنی ملکیت کا ملک قرار دیا، اور اس طرح ریاستی حکم ران کے نام زد خان و ملک ایسے مالکان زمین دفتر (دوتر) پر حقوق ملکانہ سے محروم ہوئے۔ تاہم مقدمات کے فیصلوں کے وقت خوانین و مَلَکوں کی سفارش اور اثر انداز ہونے کی کوشش اب بھی ایک عام سی بات تھی۔ اس طرح مقدمات کے فیصلوں کے ضمن میں اگر چہ خان و ملک ریاست یا حکم ران و ریاستی اہل کاروں اور عوام کے درمیان واسط یا گماشتے (مڈل مین یا بروکر) کا کردار ادا کرتے رہے تاہم عوام ان کے اپنے طور کیے گئے فیصلے ماننے کے پابند نہیں رہے۔
ریاست سوات میں باچا صاحب اور والی صاحب کے دور حکم رانی میں خوانین و ملکوں کی قوت و طاقت مکمل طور پہ ختم اور تحلیل نہیں کی گئی بلکہ جو وفادار تھے، ان کو دوسرے طریقوں اور ذرائع سے زیادہ مضبوط اور طاقت ور بنادیا گیا اور ان کی وفاداری کو ریاست اور حکم رانی کی طاقت کو قائم رکھنے کے لیے استعمال کرنے کی بھر پور کوشش کی گئی۔ تاہم ان کو مکمل طور پہ غیر اہم نہ بنانے کے باوجود ان کی حیثیت اور طاقت و قوت کی نوعیت میں بنیادی تبدیلی لائی گئی۔
پندرہ اگست 1969ء کو ’’ریگولیشن آف 1969ء‘‘ یا ’’دیر، چترال اینڈ سوات (ایڈمنسٹریشن) ریگولیشن، 1969‘‘ کے تحت والی صاحب کی حکم رانی اور ریاست سوات کے باقاعدہ خاتمے کے بعد پرانا ریاستی طریقہ رسمی طور پہ بر قرار رہا اور ریاستی دور کے خان و ملک کے منصبوں پہ سرفراز افراد کو ان کا وظیفہ یا ’’ماجب‘‘ ملتا رہا۔ تاہم اس دوران میں پاکستان پیپلز پارٹی کے نعروں و اعلانات اور بر سر اقتدار آنے کے بعد بعض پالیسیوں کی وجہ سے سوات کے سماجی نظام میں ڈھیر ساری بنیادی تبدیلیاں آئیں۔ عام عوام یا کمی کمین، خوانین و ملکوں کے پرانے رسوم اور بیگار وغیرہ سے باغی ہونے لگے اور ان کا پرانا رعب و دبدبہ، طاقت و قوت اور معاشرہ میں گرفت بر قرار نہیں رہی۔ دوسری طرف اس صوبہ میں نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) اور جمعیت العلمائے اسلام کی مخلوط حکومت قائم ہوئی۔اس مخلوط حکومت میں وزیر اطلاعات و مواصلات، سوات سے تعلق رکھنے والے افضل خان لالا کے دعویٰ کے مطابق آپ نے خوانین و ملکوں کو دیے جانے والے’’ماج‘‘ کو ختم کیا۔ پس ریاست سوات کے خاتمے کے بعد نظام حکومت اور سماجی ڈھانچے میں بنیادی تبدیلیوں نے سوات میں خان و ملک نظام کو عملی طور پہ ختم کردیا۔ جب کہ برائے نام خان و ملک یارہی سہی کسر ’’ماجب‘‘ کے نظام کے خاتمے کے ساتھ ہی پوری ہوئی۔ واضح رہے کہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ افضل خان لالا نے ’’ماجب‘‘ نظام کو ختم کرنے کی جتن اس وجہ سے کی کہ آپ بہ ذات خود خان کے منصب پہ فائز نہیں تھے۔ لہٰذا اس طرح دوسروں کو بھی محروم کرکے اپنے برابر لانے کی کوشش کی۔ اس طرح 1970ء کی دہائی میں سوات میں خانی و ملکی کا نہ وہ پرانا قبائلی نظام رہا اور نہ ریاست سوات والا۔ سابقہ خان و ملک اب نام کے خان و ملک رہے۔ عملی طور پہ ان کا پرانا اور سابقہ کردار اور حیثیت ختم ہوکے رہ گئی۔ اب نہ تو قبائلی نظام کی طرح عوام کسی کو خان و ملک کے منصب سے سرفراز کرتے ہیں اور نہ ریاست سوات کی طرح پاکستانی یا صوبائی حکومت۔ اگر چہ ان پرانے خوانین اور ملکوں کی ساری اولاد اور خاندام بزعم خویش خان و ملک ہے اور خان و ملک ہونے کی دعوے دار بھی ہے، لیکن جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہوا ہے نہ تو قبائلی نظام میں اور نہ ریاست سوات میں پورا خاندان یا خان و ملک کی ساری اولاد خان و ملک ہوتی۔
خان و ملک ایک خاص فرد ہی ہوتا۔ اب چوں کہ نہ عوام کسی کو خان و ملک نامزد کرتے ہیں اور نہ حکومت، اور نہ خان و ملک ہونے کے موجودہ دعوے داروں کا وہ قبائلی یا ریاست سوات والا کردار اور حیثیت باقی رہی ہے۔
لہٰذا فارسی کے مقولہ ’’پدرم سلطان بود‘‘ کی مانند پہ دل کو بہلانے کی خاطر خان و ملک کا دعوے دار ہونا ہی ہے، عملاً کچھ بھی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ سالوں میں نیک پی خیل امن جرگہ یا نیک پی خیل قومی جرگہ کے نام سے فوج کے سامنے لائے ہوئے بعض افراد کے مابین دو ڈھائی سال قبل سربراہ بنائے جانے کی رسہ کشی میں اپنے آپ کو بڑا ثابت کرنے کی خاطر ذاتی نام اور خان و ملک وغیرہ کا منصب، کارکردگی اور کارنامے نہ ہونے کی وجہ سے یہ جتن دیکھنے کو ملے کہ یہ ثابت کیا جائے کہ کس کا دادا، پردادا بڑا خان اور اونچی حیثیت کا مالک تھا۔
Sultan e room pata na lagi chey pa khob uda dey ao wahey pe kigi tola da swat history ye ghalata likaley da