اختر حسینکالم

مجلہ ماندور

تصنیف و تالیف کا سلسلہ جاری رکھنا اور اس کا حق ادا کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے مگر جب جذبے جواں، مصمم عزم اور مددِ خدا شامل حال ہو، تو پھر ناممکن کو ممکن بنانا کچھ عجب نہیں۔ بے شک اس سلسلے میں تنقید ایک مشکل فن ہے، اگر تخلیق کار سے ہمدردی پیدا ہوئی، تو مدح اور اگر اس کے برعکس ہے تو تنقیص۔ لہٰذا اس میدان میں احتیاط کا دامن ہر وقت تھامے رکھنا ضروری ہے، تا کہ معیاری و غیر معیاری مواد کی نشان دہی ہو۔ گورنمنٹ افضل خان لالا کالج مٹہ کے طالب علم کی حیثیت سے میرے لیے اس کے مجلہ ’’ماندور‘‘ کا جائزہ لینا ایک کٹھن کام ہے، لیکن پھر بھی یہ بارِ گراں اٹھانے کی اپنی سی کوشش کرتے ہیں۔
قارئین، ذاتی مصروفیات کی وجہ سے اس بہترین میگزین میں حصہ لینے کا موقع تو میں گنوا چکا ہوں جو باعثِ حسرت ہی ہے، مگر یہ اچھا ہوا کہ گراں قدر پروفیسر رشید احمد صاحب نے مجھے کالم لکھنے کی تحریک دی، جس سے میرے اس رسالے میں شامل ہو نے کی تمنا کچھ حد تک پوری ہوئی۔
قارئین! ضلع سوات کے تعلیمی اداروں میں علمی و ادبی مجلوں کا آغاز گورنمنٹ جہانزیب کالج سے ہوا، جہاں ابتدا ہی سے ہر سال رسائل شائع ہوتے رہے۔ اسی طرح گورنمنٹ افضل خان لالا کالج مٹہ نے بھی سال 2001ء سے باقاعدہ اپنے سالانہ رسالے کا آغاز لیا۔ یاد رہے کہ سرکاری کالجوں کے علاوہ کچھ پرائیویٹ کالج بھی اپنے سالانہ میگزین شائع کر رہے ہیں جن میں ایک معتبر حوالہ ابدالی ایجوکیشن سسٹم کا ’’گلدستۂ ابدالی‘‘ بھی ہے، جس نے بھی کم وقت میں اپنی انفرادیت کا لوہا منوایا ہے۔
’’ماندور‘‘گورنمنٹ افضل خان لالا کالج مٹہ کا سالانہ علمی و ادبی مجلہ ہے، لیکن اس بار 2 سال کے وقفہ کے بعد شائع ہوا ہے، جس کا ذکر مدیر شعبۂ اردو پروفیسر نورالاحد صاحب نے اپنی تحریر میں کچھ یوں کیا ہے کہ ہمیں شدت سے اس بات کا احساس ہے کہ مجلہ ماندورکی اس تازہ اشاعت میں تاخیر کا سلسلہ کچھ دراز ہوگیا، مگر بقولِ غالبؔ :
ہوئی تاخیر تو کچھ باعث تاخیر بھی تھا
یہ مجلہ بہترین مواد، اچھے کاغذ اور خوبصورت گیٹ اَپ کی وجہ سے انفرادیت کا حامل ہے۔ کسی بھی اعلیٰ و معیاری مجلے کے پیچھے ایک ٹیم ورک کی ضرورت ہوتی ہے۔ پروفیسر محمد الیاس ہوں، یا پروفیسر محمد امین، پروفیسر رشید احمد ہوں یا پروفیسر نورالاحد، پروفیسر سبحانی جوہر ہوں یا لیکچرار احسان یوسف زئی، جب ایسی ٹیم ہو، تو مجلہ کا معیار بلند ہونا کوئی اچھنبے کی بات نہیں۔ یہ سبھی اپنی اپنی جگہ تعمیری کردار ادا کرنے میں پیش پیش ہیں۔ تعلیمی اداروں میں ایسے معیاری پرچے اور مجلے طلبہ کی چھپی صلاحیتوں کو جلا بخشنے، ان کی لکھنے کی چاہت پورا کرنے اور ان کی ہچکچاہٹ کو دور کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ بقولِ تصدیق اقبال بابو: ’’مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میں ساتویں جماعت میں پڑھتا تھا۔ اخبار میں بچوں کے صفحے کی تحریریں پڑھ کر جذبہ بیدار ہوا کہ ان سے تو میں اچھی تحریر لکھ سکتا ہوں۔ جھٹ سے ایک کہانی لکھی اور بذریعہ ڈاک بھیج دی۔ ہر ہفتے اخبار چھان مارتا لیکن کہانی نہ چھپی، جس کا مجھے آج تک افسوس ہے۔ خوش قسمت ہیں آج کے بچے جنہیں زمانۂ طالب علمی ہی میں لکھنے لکھانے کے مواقع مل رہے ہیں، جو ہم نصابی سرگرمیوں کا اِک خاص حصہ ہیں۔‘‘
’’ماندور‘‘ کے موجودہ شمارے کی تمام تحریریں لاجواب ہیں لیکن پروفیسر نور الاحد صاحب کی ’’فن اور فنکار۔۔۔ ایک نقطۂ نظر‘‘، پروفیسر رشید احمد صاحب کی ’’دہ فریب جہان‘‘، پروفیسر مفتی انعام اللہ صاحب کی ’’اسلامی معاشرہ میں نکاح کی اہمیت‘‘،پروفیسر سبحانی جوہر صاحب کی ’’دہ ھمایون مسعود دہ افسانو کتاب ’رشتے‘ پر تبصرہ‘‘ اور لیکچرار احسان یوسف زئی کی ’’سندریز احساسات دہ اخلاقیاتو خزانہ‘‘ اچھی تحاریر ہیں۔ طلبہ میں محمد فواد خان کی تحریر ’’جدید علوم انگریزی زبان میں ہی کیوں؟‘‘ حسن شاہ کی تحریر ’’امن‘‘ اور نظام الدین کی ’’وقت کی قدر‘‘ خاصے کی چیز ہیں۔ خالد اکاش، عباس خان درمان اور حیات اللہ کی تحریریں بھی قابلِ ستائش ہیں۔
اس مجلے میں غلطیاں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ البتہ اِملا اور گرامر کی اک آدھ غلطی مجلے میں نظر آجاتی ہے جو اس کے مجموعی تأثر کو بالکل زائل نہیں کرتی۔ امید واثق ہے کہ مجلہ ’’ماندور‘‘ اسی طرح طلبہ کی صلاحیتوں کو جلا بخشتا رہے گا۔

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں