سوات (باخبر سوات ڈاٹ کام) سوات ٹریڈرز فیڈریشن کے صدر عبدالرحیم خان نے ملاکنڈ ڈویژن پر ٹیکس لگانے کی تجویز کو یکسر مسترد کرتے ہوئے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر ملاکنڈ ڈویژن کے مظلوم اور ستائے ہوئے عوام و تاجروں پر کسی قسم کا ٹیکس لاگوکیا گیا، تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہونگے۔ ان خیالات کا اظہارانہوں نے ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن ضلع سوات کے عہدیداران اور ممبران کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس کے نفاذ کا فیصلہ ڈویژن بھر کے عوام، تاجر برادری اور صنعت کاروں کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔ ہم بنیادی سہولتوں اور ضرورتوں سے مکمل طور پر محروم چلے آ رہے ہیں۔ روزگار کی سہولتیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ بیروزگاری انتہا کو پہنچ چکی ہے۔ ہر طبقہئ فکر کے لوگ ذہنی پریشانی اور اُلجھن میں مبتلا ہیں۔ بجلی اور گیس کے نرخوں میں اضافے نے صارفین کورُلا دیا ہے۔ عوام کے ساتھ ساتھ صنعت کار سخت مالی مشکل اور بحران سے دوچار ہیں۔ دہشت گردی، سیلاب، زلزلہ اور فوجی آپریشن کے بعد اب یہاں کے سفید پوش لوگ بھیک مانگنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگرڈویژن کے عوام پر کسی قسم کا ٹیکس لاگو کیا گیا، تو ملاکنڈ ڈویژن کے تمام اضلاع، ملاکنڈ، اپر دیر، لوئر دیر، بونیر، سوات، شانگلہ اور چترال کے ٹریڈرز کا اہم اجلاس بلا کر آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا اور اس ظالمانہ فیصلے کے خلاف بھر پور تحریک چلائی جائے گی۔
Swat
