
اللہ تعالیٰ نے انسان کو دنیا میں ایک خاص مقصد کے لیے بھیجا ہے۔ اس طرح ایک کامیاب انسان کی زندگی بھی بامقصد ہوتی ہے۔ وہ اپنے مقاصد کے طلب میں ساری زندگی گھومتا رہتا ہے۔
ڈھیر سارے لوگوں کو تو ”مقصدِ حیات“ کا شعور بھی نہیں ہوتا۔ انہیں پتا ہی نہیں ہوتا کہ وہ کیوں جی رہے ہیں؟ اپنے آپ سے سوال کریں کہ آپ کی زندگی کا مقصد کیا ہے؟ آپ زندگی میں کیا حاصل کرنے کے لیے آئے ہیں؟ اگر آپ کو معلوم نہیں کہ آپ زندگی میں کیا چاہتے ہیں، تو آپ حاصل بھی کچھ نہیں کرسکیں گے۔
اپنے لیے ایک مقصد متعین کریں۔ اسی کے لیے اپنی زندگی وقف کریں۔ مقصد کے تعین کے لیے اپنے اقدار کو مدنظر رکھیں۔ وہ چیزیں جو آپ کی زندگی کا اہم حصہ ہوں اور جسے آپ زندگی میں اہمیت دیتے ہوں، وہ اقدار کہلاتی ہیں۔ آرام سے بیٹھ کر سوچ بچار کے بعد ان چیزوں کو لکھیں جو آپ کی زندگی میں انتہائی اہم ہیں۔ کم از کم دس سے پندرہ تک اقدار لکھیں۔ ان میں سے پہلے پانچ اہم ترین اقدار کو ترتیب وار لکھیں۔ آپ کے مقصد کا تعین ہوجائے گا۔ مثلاًآپ مقصد بناتے ہیں کہ مجھے ڈاکٹر بننا ہے۔ اس کے لیے چند نکات نوٹ کریں، جیسے ڈاکٹر بننے کے لیے کتنا وقت مطالعہ کرنا ہوگا؟ کون کون سے مضامین کو زیادہ پڑھنا ہوگا؟ کتنے نمبرز لینا ہوں گے؟ میرا مقابلہ کن سے ہے اور ان کے مقابل ہونے سے کامیابی کس طرح حاصل کرنی ہے؟
ایک مسلمان کے لیے اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی سے ایک مقصد متعین کیا ہے۔ زندگی اللہ کے احکامات اور رسولِ محبوبؐ کی سنت پر عمل کا نام ہے۔ مقصد کے تعین میں اللہ تعالیٰ کے احکامات کو ضرور سامنے رکھیں۔ اس سے آپ کے مقصد کے حصول میں برکت پیدا ہوجائے گی۔
مقاصد کس طرح ہونے چاہئیں؟ اس حوالے سے پروفیسرارشد جاوید نے اپنی کتاب ”تعلیمی کامیابی“ میں ایسے پینتالیس مقاصد لکھے ہیں، جنہیں انسان اپنی زندگی کا مقصد اور محور بنا سکتا ہے۔ چند اہم مقاصد ذیل میں درج کیے جاتے ہیں:
اللہ کی رضا، آخرت، اشاعتِ دین، شہرت و ناموری، آزدی، طاقت، محبت، علم، خود اعتمادی، کیرئیر، ایمان، ملک، معاشرہ، مطالعہ، اقتدار وغیرہ۔
درجِ بالا مقاصد میں کامیاب افراد کا مطالعہ کریں، تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی اسی مقصد کے لیے وقف کررکھی ہے۔
طلبہ کے لیے بہترین اور اولین مقصد مطالعہ ہوتا ہے۔ مطالعہ کو اپنا مقصد بنائیے اور اس کے حصول کے لیے جدوجہد کریں۔
مقصد کے تعین کے بعد اس کے حصول کے لیے کیا کرنا چاہیے؟ ایک طالب علم یہ مقصد بناتا ہے کہ مجھے پڑھنا ہے، اور خوب دل لگا کر پڑھنا ہے۔ لیکن اگر اسے معلوم نہیں کہ اسے کیا پڑھنا ہے، کون کون سے کتب پڑھنے ہیں؟ تو اس کا مقصد بامعنی ہوسکتا ہے، لیکن مقصد کے حصول کا راستہ غلط ہے۔ اس مشکل سے نکلنے کے لیے طلبہ کو اپنا مقصد حاصل کرنے کے لیے مختلف چیزیں متعین کرنا ہوں گی۔
وہ چیزیں کیا ہیں؟ یہ وہ راستے ہیں، جو آپ کے مقصد اور طلب کے لیے رہنمائی اور راستہ فراہم کرتے ہیں۔
اگر آپ مطالعہ کو اپنا مقصد بناتے ہیں، تو اس کی منازل ضرور بنائیں۔ طلبہ کے لیے منازل تعلیمی ہونی چاہئیں۔ مثلاً ہر مضمون میں نوے فیصد سے زیادہ نمبر حاصل کرنے ہیں۔ ہر کلاس میں اول آنا ہے۔ بورڈ یا یونیورسٹی میں اول پوزیشن لینا ہے۔ ایم بی بی ایس کرنا ہے۔ ایک بہترین لکھاری بننا ہے، وغیرہ۔ یہ وہ بنیادی منازل ہیں جن کو طے کرنے کے بعد آپ اپنے مقصد میں کامیاب تصور ہوں گے۔
منازل کے حصول میں آپ کے پاس جو کچھ ہے، لگا دیں۔ اپنی ساری سرگرمیاں اس کے گرد کیا کریں۔ ہر وقت اس کے متعلق سوچ بچار کریں۔ روزانہ کچھ نہ کچھ ایسا ضرور کریں، جو آپ کی منازل میں کارآمد ثابت ہوں۔ جب منازل طے ہوں گی، تو مقصد نزدیک ہوتا جائے گا، اور ایک دن پورا بھی ہوجائے گا۔
مقصد اور ان کی منازل کے تعین کے بعد سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ مقاصد کس طرح بنائیں؟ کن اصول و ضوابط کو سامنے رکھ کر مقاصد بنائے جائیں؟ مقاصد اور منازل طے کرنے کے چند اصول کا ذکر ذیل میں ہے۔
٭ مقصد ہمیشہ واضح اور قطعی ہو:۔ مقاصد ہمیشہ واضح مقرر کریں۔ غیر واضح اور مبہم مقاصد سے شکوک و شبہات جنم لیتے ہیں۔ مثلاًآپ طے کریں کہ مجھے زیادہ نمبرز لینے ہیں۔ یہ ایک غیر واضح مقصد ہے۔ آپ طے کریں کہ مجھے نوے فیصد سے زیادہ نمبرز لینے ہیں۔ زندگی میں ہمیشہ واضح، قطعی، صاف اور حتمی مقاصد بنائیے۔
٭ مقاصد بڑے ہوں:۔ کوئی بھی شخص اپنے مقصد سے زیادہ کامیابی حاصل نہیں کرسکتا۔ مقصد پورا ہونے کے بعد اس کی جدوجہد کم ہوجاتی ہے۔ لہٰذا جتنا عظیم مقصد ہوگا، اتنی کامیابی بہترین ہوگی۔ چاند کو نشانہ بنائیے۔ اگر نشانہ خطا ہوا، تو ستاروں کے بیچ جگہ تو بنا ہی لیں گے۔ اگر ستاروں کو نشانہ بنائیں گے اور نشانہ چھوٹ گیا، تو تیر واپس زمین پر گرے گا۔ یہاں ایک بات واضح رہے کہ غیر حقیقی مقاصد متعین نہ کریں۔ کمتر اور غیر حقیقی مقاصد بنائیں گے، تو کوشش کمتر ہی رہے گی۔
٭ مقاصد مثبت ہوں:۔ انسانی ذہن مثبت مقاصد کے لیے زیادہ کام کرتا ہے۔ مقاصد مثبت ہونے چاہئیں۔ مقاصد خود متعین کریں۔ کسی کے تجویز کردہ نہ ہوں۔ مشورہ ضرور لیں، لیکن مثبت اور منفی رجحانات سامنے رکھتے ہوئے مقصد وضع کریں۔ خود سے سوال کریں کہ فلاں کام کرنا ہے، یہ مجھے کتنا فائدہ دے گا؟ نقصان کتنا ہوگا؟ مجھے کیا کھونا پڑے گا؟ کیا حاصل کرنا ہوگا؟ ان سوالوں کے جواب آپ کو مقصد کے مثبت ہونے میں مدد دیں گے۔
٭ مقاصد آپ کی شخصیت اور مزاج کے مطابق ہوں:۔ ایسا اس لیے کہ آپ کے فطری رجحان کے مطابق آپ کے لیے مقاصد کے حصول میں شوق اور لطف پیدا ہوجائے گا۔ آسان ترین اور عظیم ترین مقصد کا حصول صرف پسند کے مطابق کام کرنے سے ملتا ہے۔ اس کے لیے شدید خواہش اور تڑپ پیدا ہوتی ہے۔ جنون، تڑپ اور خواہش کے بغیر مقصد حاصل نہیں کیا جاسکتا۔
یاد رکھیں کہ اپنے مقاصد کا اپنے مخلص دوستوں اور خاندان والوں کے ساتھ ذکر کریں۔ ان سے مشورہ لیں۔ ایک خاص مدت کے بعد جائزہ لیں کہ مقصد حاصل کرنے میں اب تک کتنا کام ہوا ہے؟ جب آپ کسی چیز کو دل کی گہرائیوں سے چاہتے ہیں اور اسے حاصل کرنے کے لیے دن رات ایک کرتے ہیں، تو پوری کائنات جوڑ توڑ شروع کرکے اس کے حصول میں آپ کی مدد گار ہوجائے گی۔
عظیم لوگوں کا ماننا ہے کہ عظیم کامیابیاں سخت محنت، لگن اور عمل سے ہی حاصل ہوتی ہیں۔