کالم نگاری

انتقامی احتساب

میاں گل عبدالحق

✍️ کالم نگار: میاں گل عبدالحق

اشتہار / Advertisement

چیئرمین پی ٹی آئی اور وزیراعظم عمران خان بار بار یہ بات کرتے ہیں کہ ”مَیں چور اور ڈاکوؤں کو نہیں چھوڑوں گا۔ نواز شریف اور زرداری احتساب سے نہیں بچ سکیں گے۔“
قارئین، اگر پاکستان کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے، تو واضح ہوجائے گا کہ اس کے قیام سے لے کر اب تک اس ملک کو سیاست دانوں، ججوں، جرنیلوں اور بیورو کریٹوں نے بے دردی سے لوٹا ہے۔ جو بھی حکمران آیا ہے، قومی خزانہ کو شیرِ مادر سمجھ کر ہڑپ کیا ہے۔ لہٰذا اگر وزیرِاعظم عمران خان ابتدا سے لے کر آج تک کی لوٹ مار کی بات کرتے ہیں، تو ٹھیک، اور اگر صرف اور صرف نواز شریف اور زرداری کے ساتھ کڑے احتساب کی بات کرتے ہیں، تو یہ ہرگز انصاف نہیں۔ دیگر چوروں اور لٹیروں کو نظر انداز کرنا واقعی زیادتی ہوگی۔
آج کل وطنِ عزیز بھاری قرضوں کے شکنجے میں جکڑا ہوا ہے۔ ہر حکمران کا جب دور آتا ہے، تو عوام کو سیاسی سکورنگ کے لیے وہ پچھلے دور کے حکمرانوں پر قومی خزانے کو لوٹنے کا الزام لگاتا ہے۔ ساتھ یہ بھی کہتا ہے کہ قومی خزانہ خالی ہے۔ موجودہ حکومت نے بھی ”آئی ایم ایف“ اور امریکہ سمیت دوسرے ملکوں سے بھاری شرحِ سود پر قرضے لیے ہیں۔ وہی پرانا سلسلہ تو موجودہ حکومت کی طرف سے روزِ اول سے جاری و ساری ہے۔ نہ جانے یہ کہاں تک جاکر رُکے گا؟ اس کا کچھ علم نہیں۔ قومی خزانے کی لوٹ مار میں سب برابر کے حصہ دار ہیں۔ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ حکومتیں منافع بخش قومی ادارے اور اثاثے اپنے وفاداروں کو اونے پونے داموں فروخت کیا کرتے ہیں، جن میں سٹیل ملز، واپڈا، ریلوے، پی ٹی اے، پیٹرول، گیس وغیرہ کے محکمے شامل ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان اداروں کی فروخت میں سیاست دانوں اور بیوروکریٹس کی جیبوں میں کمیشن کی صورت میں معقول رقم جایا کرے گی۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کا ہر بچہ لاکھوں روپے کا مقروض ہے۔
قارئین، اب آتے ہیں موجودہ سلیکٹڈ حکومت تحریک انصاف کے احتسابی نعرہ کی طرف۔ یہ تو ہم سب کا مشاہدہ رہا ہے کہ تحریکِ انصاف کے ایم این ایز اور ایم پی ایز وزیروں، مشیروں اور معاونین کا تعلق غریب طبقہ سے ہے، لیکن آج یہ لوگ کیسے اربوں کھربوں کے اثاثے اور کروڑوں کی قیمتی گاڑیوں میں گھومتے پھرتے نظر آتے ہیں؟ ان کا فیشن اور اٹھک بیٹھک کروڑ پتیوں کی طرح نظر آرہا ہے۔ تو خان صاحب، ذرا اس طرف بھی توجہ دیں! آپ کے ایم این ایز اور ایم پی ایز، وزیر، مشیر اور معاونین میں سے ڈھیر ساروں کی کل تک کیا حالت تھی۔ آج کل وہ اربوں کے مالک کیسے بن گئے ہیں؟
خاں صاحب، میاں نواز شریف اور زرداری کے احتساب کی رٹ لگانا چھوڑ دیں،اور اپنے ایم این ایز، ایم پی ایز اور صوبائی حکومتوں کی نا اہلی پر بھی نظر ڈالیں۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ موجودہ دورِ حکومت میں بعض ایم پی ایز، ایم این ایز، وزیر، مشیر اور وزیراعلیٰ تک میں اَن پڑھ اور کورے موجود ہیں۔ اُردو ہماری قومی زبان ہے، لیکن پی ٹی آئی کے بیشتر ایم پی ایز و ایم این ایز کو اس میں بات تک کرنا نہیں آتی۔ مرکزی اور صوبائی حکومتیں اس سے پہلے بھی کئی بار آئی ہیں اُن کے ممبرانِ اسمبلی نہایت ذمہ دار اور قابل ترین لوگ ہوا کرتے تھے۔ افسوس کہ موجودہ حکومت محکموں کے سیکرٹریز کی مدد سے چل رہی ہے۔
اگر موجودہ پی ٹی آئی حکومت عمران خان نیازی اور ان کی بے کار اور نا اہل کابینہ کی یہی کارکردگی رہی، تو خدشہ ہے کہ آئندہ الیکشن میں یہ لوگ ایک سیٹ تک نہ جیت پائیں۔ ان ممبرانِ اسمبلی کا یہ آخری موقع سمجھیں۔
موجودہ وزیراعظم عمران سے قوم کا یہی گلہ ہے کہ اگر واقعی احتساب کا نعرہ حقیقی ہے، تو اس کا دائرہ کار نواز اور زرداری سے بڑھا ئیں۔

اشتہار / Advertisement
اشتہار / Advertisement
اس تحریر کو شیئر کریں:

⭐ آپ کو یہ تحریر کیسی لگی؟ (درجہ بندی کریں)

براہ کرم اس تحریر کو 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹنگ دیں

اوسط ریٹنگ: 0 / 5 (0 ووٹ)

اپنا تبصرہ تحریر کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کی نشاندہی * سے کی گئی ہے۔