(باخبرسوات ڈاٹ کام) ملاکنڈ ڈویژن کے نئے ضلع باجوڑ کے2441 لیویز اہلکاروں کو پولیس میں ضم کردیا گیا۔ لیویز افسروں کے رینک اُتار کر ان کو پولیس کے رینک دے دیے گئے۔ 21صوبیداروں کو پولیس کے رینک دے کر انہیں سب انسپکٹر بنا دیا گیا۔ اس سلسلے میں ریجنل پولیس آفیسر محمد اعجاز خان کے دفترسیدو شریف میں ایک تقریب منعقد ہوئی، جس میں ڈی پی او باجوڑ پیر شہاب نے بھی شرکت کی۔ محمد اعجاز خان نے کہا کہ آج باجوڑ کے لیویز اہلکاروں کے لئے یہ خوشی کا دن ہے۔ آج کے بعد ان اہلکاروں کو وہ تمام مراعات حاصل ہوں گی جو باقی اضلاع کی پولیس کو حاصل ہے۔ ایک اہلکار یعقوب نے باخبر سوات ڈاٹ کام کو بتایا کہ آج ان کی زندگی کا اہم دن ہے۔ آج میں بہت خوش ہوں۔ کیوں کہ میری ملازمت مستقل ہوگئی۔ اب میری تنخواہ میں بہت اضافہ ہو جائے گا اور پولیس کورس کرکے ترقی بھی ملے گی۔ ڈی پی او باجوڑ پیر شہاب نے سوات ڈاٹ کام کو بتایا کہ اس وقت ضلع باجوڑ پولیس میں ایک ڈی پی او، دو ڈی ایس پی کے ساتھ کل 2441 اہلکار ہیں۔ باجوڑ ضلع میں ابھی صرف دو ہی پولیس سٹیشن ہیں اور مزید8قائم کئے جائیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سال 2019ء میں پویس تھانوں میں کل 152 ایف آئی آر درج ہوئے جن میں سے زیادہ قتل کے تھے۔ باجوڑ میں زیادہ تر قتل زمین کے تنازعہ پر ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ باجوڑ کے لوگ قبائلی نظام میں رہے ہیں، جس کی وجہ سے ان کو نئے قوانین کا علم نہیں۔ آہستہ آہستہ لوگ نئے قانون سے واقف ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پڑوسی ملک کے ساتھ ہمارا 52 کلومیٹر سرحد لگی ہوئی ہے۔ اس سرحد پر فوج، ایف سی کے ساتھ پولیس اہلکار بھی تعینات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت50 پولیس اہلکاروں کو تربیت دے کر ٹریفک پولیس میں لگایا گیا ہے۔ پولیس کا گشت دن رات جاری ہے۔
Swat
