(باخبر سوات ڈاٹ کام)سوات میں دہشت گردی اور پھر سیلاب میں بہہ جانے والے30 سرکاری سکول 14 سال بعد بھی تعمیر نہ ہوسکے۔ سال 2006ء میں سوات میں دہشت گردی کے آغاز کے بعد سرکاری سکولوں خاص کر گرلز سکولوں کو جلانے، مسمار کرنے اور بموں سے اڑانے کا سلسلہ بندوق رکھنے والوں نے شروع کیا۔ انہوں نے153سکولوں کو تباہ کیا، جن میں 94 گرلز اور 59 بوائز سکول شامل ہیں۔ محکمہئ تعلیم سوات کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2010ء کے سیلاب میں 40 سرکاری سکولوں کو پانی اپنے ساتھ بہا کر لے گیا، جن میں 11 گرلز اور 29 بوائز سکول شامل ہیں۔ ان چودہ سالوں میں صوبائی حکومت، متحدہ عرب امارات، یو ایس ایڈ اور مختلف غیر سرکاری تنظیموں نے دہشت گردی اور سیلاب میں تباہ ہونے والے 193 میں سے163 سکولوں کو دوبارہ تعمیر کیا اور 30 سکول تاحال تعمیر نہ ہوسکے۔ اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر سوات ثاقب اسلم رضا نے رابطہ پر باخبر سوات ڈاٹ کام کو بتایا کہ ایسے سکولوں کی تعداد 44 ہے۔ ان کی تعمیر کے لئے سعودی عرب نے امدادی فنڈ فراہم کیا ہے جس کی تعمیر کے لئے”پارسا“ کے ذریعے ٹینڈر بھی ہوچکے ہیں۔ تین ماہ میں یہ تمام سکول تعمیر ہو جائیں گے۔ محکمہ تعلیم کے اعداد و شمار کے مطابق سوات میں کل 1000 (مردانہ) سکول ہیں، جن میں 31 ہائیر سیکنڈری، 78 ہائی، 81 مڈل، 782 پرائمری اور 28 مسجد سکول ہیں، جن میں 21 لاکھ 9 ہزار 2 سو 87 طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ اس طرح سوات میں کل 642 (زنانہ) سکول ہیں جن میں 527 پرائمری، 59 مڈل، 42 ہائی اور 14 ہائیر سیکنڈری سکول ہیں جن میں 12 لاکھ 2 ہزار 1 سو 53 طالبات تعلیم حاصل کر رہی ہے۔
Swat
