(باخبر سوات ڈاٹ کام)سوات یونیورسٹی میں جنسی ہراسانی کے بعد خوف کی فضا ہے۔ خواتین عملہ اور طالبات پریشان ہیں۔ یونیورسٹی کی خاتون پروفیسر نے تحریری درخواست میں رجسٹرار اور کچھ دیگر عملے پر الزام لگایا تھا کہ ان کو ہراساں کیاجارہا ہے، لیکن اب تک نہ تو پولیس نے ان کی درخواست پر ایف آئی آر درج کی ہے اور نہ گورنر کی انکوائری ٹیم نے ہی کوئی فیصلہ سنایا ہے۔ جس رجسٹرار پر الزام ہے، اس پر یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی جانب سے مزید نوازشات جاری ہیں۔ اس الزام کے بعد ان کو تیسرا عہدہ دے کر یونیورسٹی کے ایک اور کیمپس کا انچارج بنادیا گیا ہے۔ یونیورسٹی میں اس کے بعد خوف کی فضا ہے۔ اکثر والدین اپنی بچیوں کو اب خود یونیورسٹی لے جارہے ہیں۔ کچھ والدین اپنی بچیوں کو یونیورسٹی سے نکالنے پر غور کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور رجسٹرار سے ان کا مؤقف جاننے کے لئے فون پر رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن ان سے بات نہ ہو سکی۔
Swat
