Swat

بھکاری مافیا سوات میں سرگرم، انسانیت شرما گئی

(باخبرسوات ڈاٹ کام)بھکاری مافیا نے پنجاب کے مختلف اضلاع سے کرایہ پر حاصل کردہ انسانوں جن میں بچے اور معذور افراد شامل ہیں کی نئی کھیپ سوات پہنچا کر ان سے رمضان میں بھیک مانگنے کا سلسلہ شروع کردیا۔ بھکاری مافیا کے پنجابی ارکان نے اس سال گوجرانوالہ اور منڈی بہاؤ الدین کے دیہاتی علاقوں سے مرد و خواتین، معذور اور بچے کرایہ پر حاصل کرکے سوات پہنچائے ہیں۔ اس مافیا کے سوات میں بھی ارکان ہیں جو ان کو یہاں رہائش وغیرہ فراہم کرتے ہیں۔ نام شائع نہ کرنے کی شرط پر اس گروہ کے ایک رکن نے باخبر سوات ڈاٹ کام کو بتایا کہ پنجاب کے دیہاتی وہ علاقے جہاں غربت زیادہ ہیں، مافیا کے ارکان وہاں عورتوں، بچوں اور معذوروں کو ماہانہ کرایہ پر حاصل کرتے ہیں۔ ان کو خیبر پختون خوا کے مختلف شہروں خاص کر پشاور اور سوات پہنچایا جاتا ہے۔ کرایہ پر حاصل کرنے والے ان انسانوں کے گھر والوں کو ایڈوانس رقم دی جاتی ہے۔ ذرائع کے مطابق ان انسانوں کا ماہانہ کرایہ فی کس دس ہزار سے چالیس ہزار دیا جاتا ہے۔ ان کو جب مختلف گاڑیوں میں ان شہروں میں پہنچایا جاتا ہے، وہاں مقامی مافیا کے ارکان ان کے لئے رہائش اور کھانے پینے کا انتظام کرتے ہیں۔ معذور افراد کو علی الصباح اندھیرے میں گاڑی میں شہر کے مختلف علاقوں میں پہنچا یا جاتا ہے۔ خواتین اور بچوں کو جگہوں کی نشان دہی کی جاتی ہے۔ یہ مافیا دو سے دس سال تک بچوں کو بھی کرایہ پر لیتا ہے جن میں چھوٹے بچوں کو نشہ آور دوا کھلا ئی جاتی ہے اور اسے کسی بھکارن خاتون کے حوالے کرکے بھیک منگوائی جاتی ہے۔ چھے سال سے بڑے بچے اور بچیاں خود بھیک مانگتی ہیں۔ ان بھکاریوں کو ٹارگٹ بھی دیا جاتا ہے اور ٹارگٹ پورا نہ کرنے پر رات کو ان کو ماربھی پڑتی ہے۔ سوات میں نئے آنے والی بھکاریوں کے لئے اس دفعہ تین طرح کی رہائش کا انتظام کیا گیا ہے۔ مینگورہ کے کانا بابا روڈ پر ہوٹلوں میں کمرے حاصل کیے گئے ہیں۔ کچھ افراد کے لئے مکانات کرایہ پر لئے گئے ہیں اور باقی کے لیے خیمے لگائے گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس دفعہ دو سو سے زائد بھکاریوں کو سوات لایا گیا ہے۔ ان کیمپوں میں ایک خاتون کھانا پکانے کے لئے بھی ہوتی ہے۔ ان افراد کو مضر صحت کھانا دیا جاتا ہے۔ مافیا کے ارکان معذوروں اور بچوں کا خیال نہیں رکھتے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کمسن بچوں کو دودھ کی جگہ چائے دی جاتی ہے۔ روتے وقت ان بچوں کو مارا بھی جاتاہے۔ ماں کی گود کے بغیر ان بچوں کو بھی چٹائی پر زمین پر سلایا جاتا ہے۔ معذور افراد کا بھی کسی قسم کا خیال نہیں رکھا جاتا۔ اس وقت مینگورہ شہر اور آس پاس کے علاقوں میں بھکاری ہی بھکاری نظر آتے ہیں۔ مختلف شاہراہوں پر معذور افراد بھی بھیک مانگتے ہیں۔ پنجاب سے آنے والے ان بھکاریوں کو اُردو نہیں آتی جس کی وجہ سے ان کو ”اللہ کے نام پر“ قسم کے الفاظ ادا کرتے ہیں۔ تھانہ رحیم آباد پولیس نے گذشتہ روز ان کے علاقہ میں ایسے چند بھکاریوں اور مافیا کے ارکان کو پکڑ کر ضلع بدر کیا۔ ایس ایچ اُو مجیب عالم خان کے مطابق گرفتار ہونے والے مرد و خواتین میں سے زیادہ کا تعلق ضلع گوجرانوالہ کے علاقہ ڈکھیالی سے ہے۔ مافیا کا ایک رکن کچی آبادی پشاور سے ہے۔

اشتہار / Advertisement
اس تحریر کو شیئر کریں:

⭐ آپ کو یہ تحریر کیسی لگی؟ (درجہ بندی کریں)

براہ کرم اس تحریر کو 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹنگ دیں

اوسط ریٹنگ: 0 / 5 (0 ووٹ)

اپنا تبصرہ تحریر کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کی نشاندہی * سے کی گئی ہے۔