سوات (بیورو رپورٹ) پشاور ہائی کورٹ کے حکم پر صوبے میں دریاؤں کے کنارے تجاوزات ختم کرنے کے حکم پر سوالات اُٹھنے لگے۔ 2 جون 2021ء کو پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس قیصر رشید خان اور جسٹس سید محمد عتیق شاہ پر مشتمل ڈویژن بنچ نے کمشنر ملاکنڈ اور کمشنر ہزارہ کو دریاؤں کے کنارے تمام تجاوزات بلا تفریق ختم کرنے کا حکم دیا تھا۔ گذشتہ روز انتظامیہ نے فضاگٹ اور بائی پاس پر کئی عمارتوں کو گرایا جن میں گوجر سیکرٹریٹ کا دفتر بھی شامل ہے۔ گوجروں اور کئی عمارتوں کے مالکان نے الزام لگایا ہے کہ انتظامیہ نے سیاسی مداخلت پر ان کی ان عمارتوں کو گرایا ہے، جو تجاوزات میں نہیں آتیں۔ فضاگٹ اور مینگورہ بائی پاس پر کچھ تجاوزات کو گرایا گیا ہے لیکن بیشتر تجاوزات سے صرفِ نظر کیا گیا ہے۔ ایک دن کے آپریشن کے بعد مزید کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ ہائی کورٹ کے حکم میں دریاؤں کے کنارے تمام تجاوزات گرانے کا کہا گیا ہے لیکن سب سے زیادہ تجاوزات مدین، بحرین اور کالام میں کیے گئے ہیں، جہاں کسی قسم کا آپریشن نہیں ہورہا۔ سول سو سائٹی کے افراد کا کہنا ہے کہ انتظامیہ صرف ہائی کورٹ کو اخبارات کی کوریج کے ذریعے باور کرا رہی ہے کہ ہائی کورٹ کے حکم پر عمل ہو رہا ہے، لیکن حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہے۔ اس سلسلے میں مشرق کے رابطے پر کمشنر ملاکنڈ سید ظہیر الاسلام نے کہا کہ ہائی کورٹ کے حکم پر چترال بالا، چترال پائیں، دریائے پنج کوڑا، دریائے سوات کے کنارے تمام ضلعی انتظامیہ تجاوزات کے خلاف کام کر رہی ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ ایک دن آپریشن کے بعد کارروائی بند کی گئی ہے کہ جواب میں کمشنرملاکنڈ نے کہا کہ تمام کام ایک دن میں نہیں ہوسکتا۔ ہائی کورٹ کے حکم کے مطابق تجاوزات کے خلاف کام جاری ہے۔ ہائی کورٹ کے حکم کے مطابق تمام تجاوزات کو ہٹایا جائیگا۔ پشاور ہائی کورٹ نے 24 جون کو دونوں کمشنرز سے کارکردگی رپورٹ طلب کی ہے۔
Swat
