(باخبر سوات ڈاٹ کام)مدین پولیس کی جانب سے مردان کے چار طلبہ محمد ہاشم، بخت رحمان، وقاص اورسید قادر کو سیاحوں کی ڈکیتی کیس میں غیر قانونی گرفتاری، ان پر تشدد اور ان کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج کے بعد سوات میں مدین پولیس کے خلاف سوشل میڈیا پر سخت احتجاج جاری ہے۔سوات کی سول سو سائٹی نے 14 اگست کو مردان کے نوجوانوں سے اظہارِ یکجہتی اور مدین پولیس کے خلاف احتجاج کا اعلان کردیا ہے۔ چند روز قبل تین موٹر سائیکل سواروں نے سیاحوں کی گاڑی میں لوٹ مار کیا تھا۔پولیس نے کالام سے کیری سوزوکی میں واپس مردان جانے والے چار نوجوانوں کو گرفتار کیا تھا۔گرفتار نوجوان کے مطابق اس کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔جب سوشل میڈیا پر ان کی ویڈیو وائرل ہوئی، تو پولیس نے چاروں بے گناہ نوجوانوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی جن کو اب جیل بھیج دیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر سوات کے لوگوں نے اس عمل کے خلاف سخت احتجاج کیا ہے۔تینوں نوجوانوں اور اہلِ مردان سے معافی مانگی ہے۔ سول سو سائٹی کی جانب سے کل سہ پہر چار بجے نشاط چوک مینگورہ میں اس ظلم اور سیاحوں کی گاڑیوں میں لوٹ مار کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ سواستوآرٹ اینڈ کلچرل ایسوسی ایشن کے جاری کردہ بیان میں اس حرکت کو پختون قوم میں نفرت کی سازش قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ نقلِ مکانی کے وقت مردان کے لوگوں نے سوات کے لوگوں کے لئے اپنے گھروں اور دلوں کے دروازے کھول دیئے تھے۔انہوں نے سیاحوں کی گاڑیوں میں لوٹ مار کرنے والے ملزمان کی گرفتاری کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
Swat
