Swat

سلام پور کی مشہور اُونی چادروں کی تیاری میں کمی آگئی

(باخبرسوات ڈاٹ کام)سوات کے مرکزی شہری مینگورہ سے دس کلومیٹر کے فاصلے پر ہاتھ سے گرم چادریں بنانے کے لئے مشہور گاؤں سلام پور میں گذشتہ دو سالوں سے چادریں بنانے کے کام میں کمی آگئی ہے۔ مقامی ڈیلر قاری شفیع اللہ نے باخبر سوات ڈاٹ کام کو بتایا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے چادروں میں استعمال ہونے والا دھاگا اور دیگر سامان جو چین، اسٹریلیا اور کوریا سے آتا ہے، کی بندش کی وجہ سے اس سال بھی کاریگروں نے کم چادریں تیار کیں جس کی وجہ سے قیمتوں میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔ سلام پور میں ہاتھ سے چادریں بنانے کی صنعت پاکستان کی سب سے بڑی صنعت ہے۔ اس صنعت میں کام کرنے والے محنت کشوں کی تنظیم سلامپور کاٹیج انڈسٹری کے سربراہ حاضر گل نے باخبر سوات ڈاٹ کام کو بتا یا کہ سلام پور گاؤں کی آبادی 17ہزار کے قریب ہے۔ ان میں سے70فیصد افراد اس صنعت سے وابستہ ہیں اور باقی سرکاری نوکر ہیں۔ سرکاری نوکروں میں سے زیادہ تر محکمہ پولیس میں بھرتی ہیں۔ اس گاؤں میں ہاتھ سے بنائی جانے والی چادروں کے پانچ ہزار سے زائد کھڈے(روایتی مشینیں) ہیں۔ کھڈے میں روزانہ چار سے چھے چادریں تیار ہوتی ہیں۔ اس حساب سے ہر روز سلام پور میں 15 سے 16 ہزار اور ہر ماہ 4 لاکھ 50 ہزار سے زائد چادریں تیار کی جاتی ہیں، لیکن کورونا کی پابندیوں کی وجہ سے مال کم پہنچنے پر اس سال کم چادریں تیار ہوئی ہیں۔ سلام پور بازار میں اس سے پہلے چادروں کی ساٹھ تک دکانیں تھیں، لیکن ملک بھر سے لوگوں کی اس گاؤں آمد اور چادروں کی فروخت میں اضافے سے اب یہ بازار پھیلتا ہوا کوکڑئی تک پہنچ گیا ہے۔ دکانوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو تا جا رہا ہے۔ ان دکانوں میں اب ”برینڈ“ طرز کے پر کشش شو روم بھی قائم ہوچکے ہیں جہاں موسم سرما میں ہر وقت سیاحوں کا رش لگا رہتا ہے۔ سلام پور کی چادریں نا م کی بجائے نمبروں کی مدد سے پہچانی جاتی ہیں۔ دھاگے سے تیار ہونے والی 48,52,64,72 نمبر چادروں میں فی چادر کی قیمت 8 سو روپے سے 40ہزار روپے تک ہے۔ اونٹ کی اُون سے تیار ہونے والی چادر کی قیمت ایک لاکھ روپے تک ہے۔ کورونا وائرس کی پابندیوں سے پہلے موسمِ گرما میں کاریگر یہ چادریں زیادہ تعداد میں تیار کرتے تھے۔ ڈیلر ان کو گوداموں میں سٹاک کرتے تھے۔ موسمِ سرما کے آغاز میں ان چادروں کو ملک کے سرد علاقوں اور دنیا کے سرد ممالک میں سپلائی کیا جاتا تھا، لیکن دھاگے کی کمی کی وجہ سے امسال موسمِ گرما میں کم چادریں تیار ہوئیں۔

اشتہار / Advertisement
اس تحریر کو شیئر کریں:

⭐ آپ کو یہ تحریر کیسی لگی؟ (درجہ بندی کریں)

براہ کرم اس تحریر کو 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹنگ دیں

اوسط ریٹنگ: 0 / 5 (0 ووٹ)

اپنا تبصرہ تحریر کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کی نشاندہی * سے کی گئی ہے۔