(باخبر سوات ڈاٹ کام) وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں صرف ان لوگوں کو ووٹ دینا ہے جو بلے کے نشان کے ساتھ کھڑے ہیں۔اس کے علاوہ کسی اور کو ووٹ نہیں دینا۔ گراسی فٹ بال سٹیڈیم میں بڑے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج میں بہت خوش ہوں۔ ہم تین سال سے کوشش کر رہے تھے کہ اقوامِ متحدہ میں اسلامو فوبیاقرارداد پاس کریں۔ نائن الیون کے بعد دنیا بھر میں اسلام کے خلاف نفرت پھیل گئی تھی۔ اسلام اور دہشت گردی کا کوئی تعلق نہیں۔ وہ یہ افواہ پھیلا رہے تھے کہ مسلمان دہشت گرد ہیں۔ صرف پاکستان کے سربراہ نے کوشش کی اور کہا کہ میں یہ کیس لڑوں گا۔ کل اقوام متحدہ میں فیصلہ ہوا اور قرار داد پیش کی، جو پاس ہوگئی۔ کل سے تمام اسلامی ممالک کے سربراہان مبارک باد کے لئے مجھے فون کر رہے ہیں۔ اس بل سے آج بیرون ملک پاکستانی اور مسلمان خوش ہیں۔ انہوں نے انڈیا میں پردے پر پابندی کی مذمت کی۔ کہا کہ فضل الرحمن سے پوچھتا ہوں کہ تیس سال سے تم ہر حکومت میں شامل رہے۔دین کے نام پر سیاست کر رہے ہو، تم نے اسلام کے لئے کیا کیا۔ بچوں کو مدرسوں سے نکالتے ہو۔ انہیں کہتے ہو کہ عمران یہودی ایجنٹ ہے۔ جو کام تم کو کرنا چاہیے تھا، وہ آج میں نے کیا۔ 73ء کے آئین میں قادیانیوں کو اقلیت ٹھہرانے کے بعد اب یہ دوسرا بڑا کام ہوا ہے۔ کہا کہ نواز شریف تم نے تین حکومتیں کیں۔ کیا تم نے اسلامو فوبیا کے خلاف بات کی؟ کہا کہ کلمہ طیبہ انسان کو آزاد کرتا ہے اور ہمیں اللہ نے آزاد کیا ہے۔ اس لئے ہماری ٹانگیں کسی حکومت کے سامنے نہیں کانپتیں۔ عمران خان ہی امریکی صدر سے آنکھیں ملا کر بات کرتا ہے۔ کیوں کہ عمران خان چور نہیں۔ سو گیدڑوں کا سردار شیر ہو، تو وہ جیت جاتے ہیں اور سو شیروں کا سردار نواز شریف کی طرح گیدڑ ہو، تو وہ ہار جاتے ہیں۔ یہ کرپٹ چوہا اور اس کے ساتھ دیگر تین چوہے شکار کے لئے اکھٹے ہوئے ہیں۔ ان کا اب میں شکار کروں گا۔ یہ سندھ ہاؤس میں ہارس اسٹیڈنگ کر رہے ہیں۔ یہ اس لئے ممبران کو خرید رہے ہیں کہ ان کو پتہ ہے کہ سب کے کیس تیار ہیں۔ اگر عمران مزید رہے گا، تو ہم جیل میں ہوں گے۔ آنے والے دن پاکستان کے لئے فیصلہ کن ہیں۔جس طرح میں نے کہا تھا ویسا ہی کروں گا، ایک بال سے تین وکٹیں گریں گی۔ میں آج الیکشن کمیشن سے بھی پوچھتا ہوں کہ آج آپ کے سامنے جو ہارس ٹریڈنگ ہورہی ہے، کیا آپ اس کے خلاف کوئی ایکشن لیتے ہیں؟ 27تاریخ کو میں نے اسلام آباد میں عوامی سمندر کو دعوت دی ہے۔ سوات کے لوگ بھی اس عوامی سیلاب میں اپنی شرکت یقینی بنائیں اور کہیں کہ ہم ان چوروں کے خلاف کھڑے ہیں۔ جلسہ میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، سنیٹر فیصل جاوید، شہباز گل، صوبائی وزرا محب اللہ خان، ڈاکٹر امجد علی اور اراکین قومی و صوبائی اسمبلی نے بھی شرکت کی۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختون خواہ محمود خان نے کہا ہے کہ سوات پر جب دہشت گرد حملہ آور ہوئے، تو اس وقت صرف عمران خان نے دہشت گردوں کے خلاف سوات کے لوگوں کے حق میں آواز اٹھائی۔ گراسی فٹ بال سٹیڈیم میں جلسہ سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ جب سوات کے عوام بے گھر ہوئے، تو صوابی، مردان، چارسدہ پشاوراور دیگر علاقوں کے لوگوں نے ان کو اپنے گھروں اور حجروں میں جگہ دی۔ شہباز شریف نے اٹک میں سوات کے لوگوں کے پنجاب میں داخلے پر پابندی لگائی اور کہا کہ یہ دہشت گرد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے اپنی چوری کو چھپانا ہے، لیکن عمران خان نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ ان چوروں کو این آر اُو نہیں دیں گے۔ مولانا نے اسلام کے نام پر ووٹ لیا اور حکومت بنائی، لیکن اسلام کے لئے کچھ نہیں کیا۔ کل بھی ہماری حکومت تھی، آج بھی ہے اور آنے والے کل بھی ہوگی۔ ہم نے آئمہ کی تنخواہیں مقرر کیں، تمام مساجد کو سولر سسٹم پر شفٹ کیا۔ ڈیزل نے صرف پرمٹ لئے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آپ سے باتیں بہت کرنی ہیں، لیکن آج میں چاہتا ہوں کہ وزیر اعظم آپ سے زیادہ باتیں کریں۔
Swat
