(باخبرسوات ڈاٹ کام)مدین کے علاقہ چیل کے ”ڈپو“ کا پورا گاؤں دریائے سوات میں بہہ گیا۔ گاؤں میں ایک خاندان کے لوگ آباد تھے۔ خاندان کا سربراہ کراچی میں تھا جو خبر ملتے ہی دل کا دورہ پڑنے سے جاں بحق ہوگیا۔ بہہ جانے والے گاؤں چیل ڈپو کے رہائشی حضرت فقیر نے باخبر سوات ڈاٹ کام کو بتا یا کہ گاؤں میں 14، 15 گھر تھے جس میں ایک ہی خاندان کے افراد رہائش پذیر تھے۔ ساتھ میں ہر گھر والے کی زرعی زمین تھی۔ سیلاب کا پانی جب ہمارے گاؤں میں داخل ہورہا تھا، تو ہم نے بھاگ کر جان بچائی اور دیکھتے ہی دیکھتے پورا گاؤں اور زرعی زمین ہماری آنکھوں کے سامنے چند منٹوں میں بہہ گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا بڑا بھائی اور خاندان کا سربراہ مزدوری کی غرض میں کراچی میں تھا۔ وہ یہ خبر سن کر دل کا دورہ پڑنے سے جاں بحق ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ گاؤں کے تمام خواتین کو قریبی گاؤں کے گھروں میں منتقل کیا گیا ہے۔ گھر کے مرد کھلے آسمان تلے سردی میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ گاؤں کے ایک اور بزرگ شاہ وزیر خان ماما نے باخبر سوات ڈاٹ کام کو بتایا کہ ان کا اپنا گھر اور ان کے بچوں کے گھر اور دکان بھی سیلابی ریلے میں بہہ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گاؤں میں ہر گھر والوں کی اپنی زرعی زمین تھی جس پر وہ فصل اگاتے تھے۔ ہر شخص کو سالانہ 6 سے 7 لاکھ روپے کی آمدن ہوتی تھی۔ گھر کا غلہ بھی پورا ہوتا تھا۔ اب اس ساری زمین پر دریا کے بڑے بڑے پتھر پڑے دکھائی دیتے ہیں۔ صدمے سے جاں بحق شخص کے بیٹے حضرت بلال نے باخبر سوات ڈاٹ کام کو بتایا کہ صبح جب سیلاب آیا، تو وہ بہت ڈرا ہوا تھا۔ جب وہ گھر سے بھاگا، تو پہلے گھر کی دیواریں اور پھر چھت گرگئی اور سب کچھ پانی میں بہہ گیا۔ معصوم بچہ جب باخبر سوات ڈاٹ کام سے بات چیت کر رہا تھا، تو اس وقت ان کی والد کی میت کراچی سے پہنچی اور وہ روتا ہوا والد کی میت کے پیچھے بھاگ گیا۔
Swat
