Swat

چمتلئی، صد سالہ پرانی مسجد اپنی رعنائیوں کے ساتھ آج بھی قائم ہے

(باخبر سوات ڈاٹ کام)سوات کی تحصیل خوازہ خیلہ کے علاقہ چمتلئی میں سو سال پرانی تاریخی مسجد آج بھی اپنی خوب صورتی کے ساتھ قائم ہے۔ اس مسجد میں زیادہ تر کام لکڑی کا ہوا ہے جس پر اُس وقت کے16 گاؤں کے ترکھانوں نے کندہ کاری کا کام مفت کیاتھا۔ علاقہ کے رہائشی جوہر علی نے باخبر سوات ڈاٹ کام کو بتایا کہ سو سال پہلے اس تاریخی مسجد کی تعمیر میں آس پاس کے مختلف گاوؤں کے ہنر مندوں نے کام کیا تھا۔ ویسے تو یہ مسجد تین سو سال سے زیادہ پرانی ہے۔ تین سو سال قبل اس مسجد کو اخون بابا نے تعمیر کیا تھا۔ اُس وقت مسجد کا نام”غونڈی جمات“ تھا، لیکن علاقہ کے بزرگوں نے سو سال پہلے اس مسجد کو دوبارہ تعمیر کیا اور اس میں توسیع کی۔ مسجد میں زیادہ تر کام لکڑی کا ہوا ہے۔ ستونوں سے لیکر شہتیروں پر تمام کام لکڑی پر کندہ کاری کرکے کیا گیا ہے۔ مسجد کے منبر پر اس وقت کے ہنر مندوں نے بہت اچھا کام کیا ہے۔ دورِ حاضر کے ترکھان اس وقت کے ترکھانوں کی کندہ کاری کا کام دیکھنے اس مسجد آتے ہیں۔ یہ مسجد اس وقت حجرہ اور مسافر خانے کے لئے بھی استعمال ہوتا تھا۔ علاقہ کے فیصلے اس مسجد میں ہوا کرتے تھے۔ مسجد میں دوسرے علاقوں سے آنے والے مسافر قیام کرتے تھے اور ان کے کھانے پینے کا بندوبست گاؤں کے لوگ کیا کرتے تھے۔ غیر سرکاری تنظیم سوات شراکتی کونسل نے اس مسجد میں حال ہی مرمت و آرائش کا کام کیا ہے۔

اشتہار / Advertisement
اس تحریر کو شیئر کریں:

⭐ آپ کو یہ تحریر کیسی لگی؟ (درجہ بندی کریں)

براہ کرم اس تحریر کو 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹنگ دیں

اوسط ریٹنگ: 0 / 5 (0 ووٹ)

اپنا تبصرہ تحریر کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کی نشاندہی * سے کی گئی ہے۔