
میری اُن کے ساتھ پہلی ملاقات کہاں ہوئی، یاد نہیں……مگر وقت گزرنے کے ساتھ میں اُنھیں مختلف ادبی محافل میں دیکھتا اور سنتا رہا۔ مَیں سوچ رہا تھا کہ اُن کی شخصیت کے کئی پہلو ہوں گے، مگر میرا یہ خیال بالکل غلط ثابت ہوا۔ کیوں کہ وہ تو ایک سیدھا سادھا انسان نکلا تھا، جن کے ساتھ بعد میں میرا تعلق یہاں تک بڑھ گیا کہ اب ہم دونوں میں اپنائیت ہی اپنائیت ہے۔
ارشد علی ارشد ؔ کو مَیں شاعر ہونے کے ناتے سے نہیں بل کہ ایک منفرد شخصیت کے حوالے سے چاہتا ہوں۔ نہایت ہی خلوص سے پیش آنے والایہ عاجز مگر دریا دل، یار دوستوں کو اپنی توفیق سے بڑھ کر کھلانے پلانے والا، ہنس مکھ، یارباش اور سب سے بڑھ کر دوستی کا ہاتھ بڑھانے والاارشد علی ارشدؔہی ہے، جس کی مٹہ میں اپنی دکان ہے۔ شعبے کے لحاظ سے وہ پینٹر ہیں۔ میرے نزدیک وہ مصور بھی ہیں۔ وہ نہ صرف محبت کرنے والے بل کہ محبت بانٹنے والے انسان ہیں۔ اس لیے تو کہتے ہیں کہ
ناصحہ تہ د مینی د رُتبے نہ سہ خبر یے
پہ مینہ کی زما د مرتبے نہ سہ خبر یے
اُن کا پہلا پشتو شعری مجموعہ ’’بنڑاکہ‘‘ جنوری 2023ء کو منظرِ عام پر آیا۔ کتاب کے آغاز میں مسلمان ہو نے کے ناتے ارشد علی ارشدؔ نے اللہ تعالا کے پاک نام سے آغاز کیا ہے ۔ لکھتے ہیں:
اے د عقبیٰ مالکہ
اے د ہر چا مالکہ
کڑم مسلمان دی پیدا
شکر دے ستا مالکہ
مطلب یہ کہ اے اللہ!تو دنیا و آخرت کا مالک ہے۔ مَیں شکر بجا لاتا ہوں کہ تم نے مجھے مسلمان پیدا کیا۔ اس کے بعد شاعر نے اس نظم میں اللہ تعالا سے دعائیں مانگی ہیں۔ شاعر ایک ایسے خطے میں رہتا ہے جہاں بد امنی ہے اور ہر طرف لوگ نفسا نفسی کے عالم میں ہیں۔ ان حالات سے شاعر متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے، اس لیے کہتے ہیں:
دا لوبہ سہ دہ او پہ سہ مو وژنی
دا چی د امن پہ نعرہ مو وژنی
شاعر پشتو زبان کے حامی ہیں۔ ظاہر بات ہے وہ اس زمین پر پیدا ہوئے، یہاں پلے بڑھے، جوان اور قدرے بوڑھے ہوگئے اس لیے اُنھیں اپنی جنم بھومی اور اپنی مادری زبان سے دل لگی ضرور ہوگی۔ پشتو زبان سے الفت کے حوالے سے کہتے ہیں:
زما د مینی د اظہار ژبہ دہ
پختو د امن د معیار ژبہ دہ
دا چی تل مینہ او خلوص دے پکی
د ا د نفرت نہ د انکار ژبہ دہ
ددی عزت ماتہ د زانہ خوگ دے
دامی د مور دا می د پلار ژبہ دہ
کہا جاتا ہے کہ شعرا قوم کی آنکھوں کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ارشد علی ارشدؔ بھی ملک کی سیاسی صورتِ حال پرگہری نظر رکھتے ہیں۔ کہتے ہیں:
چی وطن کی د ڑندو حکم رانی دہ
خامخا بہ یے اولس کی بے ایمانی وی
ملک کے حالات شروع سے ہی اچھے نہیں۔ ایسے میں شعرا اور ادیب ان حالات کو وقتاً فوقتاً بیان کرتے ہیں۔ ارشد علی ارشدؔ بھی ان دیبوں میں ہیں، اس لیے اُن کے ہاں بھی انقلاب کا جذبہ موجود ہے۔ کہتے ہیں:
خہ پہ نرہ د غیرت چغہ پکار دہ
بس منزل تہ بیا یو سو قدمہ لار دہ
دے نہ خہ دہ چی د زان پروا اونہ کڑو
زندگی خو زمونگ ہسی ہم پہ دار دہ
اس کے علاوہ شاعر نے متعدد موضوعات پر طبع آزمائی کی ہے، جسے اس چھوٹے سے مضمون میں جگہ دینا شاید مناسب نہیں۔ اُنھوں نے اپنے گرد و پیش کے ماحول سے نہ صرف خود کو محظوظ کیے رکھا، بل کہ ایک ذمے دار ادیب کی طرح معاشرے کو پُرامن بنانے میں اپنا کردار ادا کیا۔
کتاب کے آخر میں اُردو کی غزلیں بھی موجود ہیں۔ اُن غزلیات میں کافی الفاظ غلط لکھے گئے ہیں جیسے کہ سڑکیں کی جگہ سڑکے، یوں پگڑی کو مذکر استعمال کیا گیا ہے ، بکتے کی جگہ بھکتے لکھا گیا ہے، اور پھرتے کو پرتے لکھا گیا ہے۔ اگر ان کی درستی کی جائے، تو اچھا ہو۔ اس کے علاوہ ارشد علی ارشد ؔ کے کلام میں استادانہ فن موجود نہیں، تاہم تخیل کے لحاظ سے اُن کا شمار اچھے شعرا میں ہو تا ہے۔دعا ہے کہ اللہ ان کے قلم میں اور قوت پیدا کرے، آمین!