کالم نگاری

فخر افغان ایوارڈ 

محمد طاہر بوستان خیل

✍️ کالم نگار: محمد طاہر بوستان خیل

اشتہار / Advertisement

  ’’انٹرنیشنل پشتو سوسائٹی، ضلع صوابی‘‘ کی بنیاد 2004ء میں رکھی گئی۔ ڈاکٹر غلام احد، جنھوں نے اکنامکس میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ہے۔ ایشین ڈولپمنٹ بینک کے ساتھ منسلک ہیں۔ اس سوساٹی کے چیئرمین ہیں۔ محمد عابد خان بانی صدر جب کہ حمزوی یوسف زئی جنرل سیکرٹری کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔
اس تنظیم کا آغاز اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی اسلام آباد سے پشتونوں کی محنت کا نتیجہ ہے۔اس جامعہ سے فارغ التحصیل طلبہ عملی زندگی میں قدم رکھتے ہوئے دنیا کے مختلف ممالک انگلینڈ، اسٹریلیا، سعودی عرب اورروس وغیرہ میں آباد ہوئے اور اس تنظیم سے وابستہ ہیں۔
انٹریشنل پشتو سوسائٹی صوابی جہاں ادب کو فروغ دینے کے لیے سر گرمِ عمل ہے، وہاں یہ سوسائٹی مختلف حوالوں سے سیمیناروں کا انعقاد بھی کرتی ہے۔ مثال کے طور پر خیبر پختون خوا کے وسائل کی آگاہی کے حوالے سے سیمیناروں میں ایک عام آدمی کو یہاں کے وسائل کے بارے میں آگاہ کرنا، اپنی مدد آپ کے تحت ترقیاتی کاموں کے لیے لوگوں میں تحریک پیدا کرنا، نام ور لوگوں کو منظرِ عام پر لانا اور پختونوں کے نامور آبا و اجداد کی خدمات کو سراہنے کا سہرا انٹرنیشنل پشتو سوسائٹی کے سر ہے۔
سوسائٹی مختلف ادبی، سیاسی سماجی اور قومی و بین الاقوامی ادیبوں کی زندگی اور ان کے کارناموں سے متعلق کتابیں چھاپنے کی ذمے داری بھی لے رہی ہے۔ اس کے علاوہ ادب، سیاست، قانون، موسیقی اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی نام ور شخصیات کو اُن کے کارناموں پر خیبر پختون خوا کا بڑا ایوارڈ ’’ فخرِ افغان ایوارڈ‘‘کا اجرا بھی کرتی ہے۔ اس ایوارڈ کو دینے کے لیے اس تنظیم کے عہدے داروں کی میٹنگ ہوتی ہے ۔ میٹنگ میں تنظیم سے وابستہ تمام ارکان شریک ہوکر فیصلہ کرتے ہیں۔
’’ فخرِ افغان ایوارڈ‘‘ پہلی بار 2015ء میں موسیقی کے میدان میں ڈاکٹر ہارون باچا کو دیا گیا۔ اس کے بعد پروفیسر ڈاکٹر اباسین یوسف زئی، نور البشر نوید اور نور الامین یوسف زئی کو دیا گیا ہے۔ سال 2023ء میں اس ایوارڈ کے حق دار ضلع سوات سے تعلق رکھنے والے ادیب، شاعر، محقق اور انشا پرداز محمد پرویش شاہینؔ قرار دیے گئے۔ یہ ایوارڈ شو باقاعدہ طور پر 16 ستمبر 2023ء کو نوے ژوند رہیب سنٹر رحیم آباد مینگورہ سوات میں منعقد ہوا۔
بلاشبہ پاکستان میں واقع جنتِ نظر وادی سوات کو اللہ تعالا نے جہاں قدرتی حسن سے مالا مال کیا ہے، وہاں ادب کے فروغ اور ترقی کے لیے بھی فضا ہم وار ہے۔
سوات میں پشتو ادب کے ساتھ ساتھ اُردو ادب کی ترقی و ترویج کے لیے قوتیں سر گرمِ عمل ہیں۔ ایک طرف پشتون ادیب پشتو ادب کی جھولی کو مالا مال کررہے ہیں، تو دوسری طرف اُردو زبان و ادب کے لیے بھی لاتعداد کوششیں جاری ہیں۔سوات کے ان ادیبوں میں اُردو ادب کے حوالے سے محمد پرویش شاہین ؔ کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ اُن کی ادبی خدمات کا احاطہ کر نا ہر کسی کے بس سے باہر ہے۔
محمد پرویش شاہینؔ نے نہ صرف پختونوں کی تہذیب و ثقافت کو اجاگر کیا ہے، بل کہ مذہبی رجحانات، دیہاتی زندگی، زبانوں، یہاں کے تہذیب و تمدن، سوات میں بدھ مت کے آثار، سیاحتی مقامات اور یہاں تک کہ سوات میں گندھارا آرٹ کے حوالے سے مفید معلومات دی ہیں۔
تقریباً چالیس کتابوں کے خالق محمد پرویش شاہین ؔکو آج کے دن اس ایوارڈ سے نوازا گیا۔ پروگرام کی صدارت ڈاکٹر عثمان اولس یار نے کی۔ مہمانِ خاص محمد پرویش شاہین تھے جب کہ میزبان کے فرائض نوے ژوند رہیب سنٹر اور نڑیوال ادبی تڑون کے چیئرمین ریاض احمد حیرانؔ تھے۔ تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ کلام پاک سے ہوا۔ صوابی سے تشریف لانے والے انٹرنیشنل پشتو سوسائٹی کے صدر محمد عابد خان ، حمزوی یوسف زئی، ڈاکٹر عثمان اولس یار اورریاض احمد حیران ؔ نے محمد پرویش شاہین ؔکے سر پر پختونوں کی روایتی پگڑی رکھی۔ حمزوی یوسف زئی نے محمد پرویش شاہین کی خدمات پر تفصیلاً روشنی ڈالی۔ ریاض احمد حیران ؔ نے محمد پرویش شاہینؔ کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ان کی لمبی عمر کی دعا کی۔ راقم الحروف نے محمد پرویش شاہین ؔ کی خدمات کاجائزہ لیتے ہوئے حکومتِ وقت سے مطالبہ کیاکہ سوات کے اس عظیم فرزند کو ان کی خدمات کے صلے میں صدارتی ایوارڈ سے نوازا جائے۔ نیز ان کی ادبی خدمات کے صلے میں انھیں اعزازی پی ایچ ڈی ڈگری دینے کا بھی مطالبہ کیا۔
ڈاکٹر عثمان اولس یار نے محمد پرویش شاہینؔ کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ فخرِ افغان ایوارڈ، صدارتی ایوارڈ سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ شاہین ؔ سے متعلق لگاتار دو تین دن تک بات کر سکتا ہے۔ پختون ہمیشہ محرومی کا شکار رہے ہیں، جہاں محرومیاں زیادہ ہوجائیں، وہاں نفرتیں جنم لیتی ہیں۔ نفرتوں کی صورت میں قوتِ برداشت ختم ہوجاتی ہے اور قوتِ برداشت ختم ہونے کی صورت میں انقلاب اور بغاوت پیدا ہوتی ہے۔شاہینؔ نے ہمیشہ پشتو زبان و اقدار کی بات کی ہے جنھیں جتنا بھی سراہا جائے کم ہے۔
روزی خان بابا لیونےؔ نے محمد پرویش شاہینؔ کے متعلق کہا کہ ان کے سامنے بولنا سورج کو چراغ دکھانا ہے۔ اُنھوں نے ہمیشہ پشتون قوم کی بات کی ہے۔ اس قوم کے کلچر، ان کی تہذیب و تمدن اور ان کی روایات کے بارے میں پوری دنیا کو للکارا ہے، مگر بد قسمتی سے پروفیسروں، تعلیمی اداروں اور معاشرے کے عام لوگوں نے اُنھیں نہیں پہچانا۔
انٹرنیشنل پشتو سوسائٹی کے صدر بانی محمد عابد خان نے پرویش شاہینؔ کے متعلق کہا کہ اُنھوں نے پختون قوم کی بیداری میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری سوسائٹی کے تمام عہدے داروں نے متفقہ طور پر ان کو اس ایوارڈ کے لیے منتخب کیا۔ اُنھوں نے شاہینؔ کو مبارک باد دی اور آخر میں اُن کی تن درستی کے لیے دعا کی۔
محمد پرویش شاہینؔ نے انٹرنیشنل پشتو سوسائٹی صوابی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اپنے بیان میں پختون قوم کے عروج و زوال کی کہانی تفصیلاً بیان کی۔ اُنھوں نے پختون جوانوں کو خبر دار کیا کہ آپ پر جبر ہو رہا ہے۔ آپ کے وسائل دوسرے کھارہے ہیں اور اگر خدا نخواستہ تم اب بھی خوابِ غفلت سے بیدارنہ ہوئے، تو تمھاری آنے والی نسل آپ کو کبھی معاف نہیں کرے گی۔
یہ سادہ مگر پُروقار تقریب شام تک جاری رہی۔ نوے ژوند رہیب سنٹر میں پروگرام کے اختتام پر فوٹو گرافی کا سیشن بھی ہوا ۔ پُرتکلف چائے سے شرکا کی تھکاوٹ دُور کی گئی، جب کہ آخر میں محمد پرویش شاہینؔ کی صحت یابی کے لیے دعا کی گئی ۔ یوں یہ تقریب اختتام کو پہنچی۔
پھر ملیں گے اگر خدا لایا
 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اشتہار / Advertisement
اس تحریر کو شیئر کریں:

⭐ آپ کو یہ تحریر کیسی لگی؟ (درجہ بندی کریں)

براہ کرم اس تحریر کو 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹنگ دیں

اوسط ریٹنگ: 0 / 5 (0 ووٹ)

اپنا تبصرہ تحریر کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کی نشاندہی * سے کی گئی ہے۔