(باخبر سوات ڈاٹ کام) ملم جبہ میں ٹی ایم اے چارباغ کے ٹھیکیدار کی جانب سے گاڑیوں سے ”ٹورسٹ انٹری فیس“ کے نام پر دوبارہ ٹیکس لینے کا آغاز کردیا گیا۔ ٹھیکیدار کی جانب سے ڈنڈا بردار افراد کو کھڑا کیا گیا ہے، جو آنے والے سیاحوں اور عام لوگوں سے زبردستی یہ ٹیکس و صول کرتے ہیں۔ ٹیکس نہ دینے اور اس ٹیکس کے بارے میں معلومات حاصل کرنے والے سیاحوں سے سخت رویہ اختیار کرتے ہیں اور گالم گلوچ بھی ہوتی ہے۔ اکثر اوقات سیاحون کو ڈنڈوں سے مارتے بھی دیکھا گیا ہے۔ سیاحوں کی جانب سے تحریری شکایات اور سو شل میڈیا پیغامات کے بعد ایک ماہ قبل کمشنر ملاکنڈ ڈویژن اور ڈپٹی کمشنر سوات نے ٹی ایم اُو، ٹی ایم اے چارباغ کو اس ٹیکس کو ختم کرنے کا حکم دیا تھا، جو کچھ دنوں کے لئے بند ہوا تھا۔ اس کے چند دن بعد ٹیکس کی وصولی دوبارہ شروع کردی گئی ہے۔ ٹھیکیدار کے ڈنڈا بردار آدمیوں کے روئے کی وجہ سے اکثر سیاحوں نے ملم جبہ جانا چھوڑ دیا اور کچھ سیاح وہاں سے واپس چلے جاتے ہیں۔ سیاحوں اور عام لوگوں نے کمشنر اور ڈپٹی کمشنر سے اس بارے میں تحقیقات کرنے اور اس غنڈا ٹیکس کو مستقل بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
Swat
