
سوات پاکستان کے سب سے خوب صورت علاقوں میں سے ایک ہے۔ یہاں سال کے 12 مہینے سیاح آتے ہیں۔ گرمی میں ٹھنڈے موسم، سردی میں برف باری، خزاں میں زرد پتوں اور بہار میں یہاں کے دل فریب رنگ دیکھنے کے لیے لوگ آتے ہیں۔
پشاور، اسلام آباد موٹر وے پر کرنل شیر خان انٹر چینج صوابی سے سوات موٹر وے کا آغاز ہوتا ہے، جو چکدرہ پر آکر ختم ہوجاتا ہے۔ یہ 82 کلومیٹر کا سفر 40 منٹ میں طے ہوتا ہے۔ چکدرہ سے مینگورہ شہر تک 36 کلومیٹر کا سفر ہے۔ اگر آپ پشاور سے آنا چاہیں، تو ٹول پلازہ سے دو گھنٹے میں اور اسلام آباد سے ڈھائی گھنٹے میں مینگورہ شہر باآسانی پہنچ سکتے ہیں۔
بابِ سوات لنڈاکے سے داخل ہونے کے بعد مہو ڈنڈ تک کے سفر میں دریائے سوات، گھنے جنگلات، قدرتی چشمے اور قدرتی دل کش نظارے آپ کے سفر کی تھکاوٹ اُتارنے کے لیے کافی ہوں گے۔
سوات میں 1600 سے زاید ہوٹل اور ریسٹورنٹ ہیں، جن میں صوبے کا پہلا فائیو اسٹار سے لے کر فور سٹار، تھری سٹار، ٹو سٹار اور ون اسٹار ہوٹل دست یاب ہیں۔ مینگورہ شہر پہنچنے کے بعد آپ دریائے سوات کے کنارے واقع فضاگٹ پارک، مینگورہ سے 15 کلومیٹر کے فاصلے پر ’’سفید محل‘‘ مرغزار، سوات میوزیم اور والی سوات کی حویلی جاسکتے ہیں۔
سوات میں اپریل کے مہینے میں بھی برف پڑی رہتی ہے۔ ملم جبہ مینگورہ شہر سے 45 کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے۔ اس سیاحتی علاقے میں آپ کو چیئر لفٹ، زِپ لائن اور پارک کی سہولیات دست یاب ہیں۔
میاندم بھی سوات کا خوب صورت علاقہ ہے، جو مینگورہ سے 51 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ یہاں پر آپ کو گیسٹ ہاؤسز، سرکاری گیسٹ ہاؤسز اور ہوٹلوں میں ارزاں نرخوں پر کمرے مل سکتے ہیں۔
گبین جبہ بھی سوات کا خوب صورت علاقہ ہے، جو آپ ایک دن میں وزٹ کر سکتے ہیں۔
سوات کا ایک اور حسین علاقہ کالام ہے، جو مینگورہ شہر سے 99 کلومیٹر کی مسافت پر واقع ہے۔ کالام جاتے وقت آپ ایک ٹکٹ میں چار مزے لے سکتے ہیں۔ اس روڈ پر مینگورہ سے 56 کلومیٹر کی دوری پر پہلا سیاحتی مقام مدین آپ استقبال کرے گا، جہاں سے ایک کلو میٹر کے فاصلے پر چیل درہ آئے گا۔ چیل درے میں آپ بغیر کانٹے والی ’’ٹراوٹ‘‘ مچھلی کھا سکتے ہیں۔ مدین سے 9 کلومیٹر کے فاصلے پر آپ کو ایک اور سیاحتی علاقہ بحرین دیکھنے کو ملے گا۔ وہاں سے 39 کلومیٹر کے فاصلے پر آپ سحر انگیز وادی کالام پہنچ جائیں گے۔
سوات کی تمام سڑکیں پکی ہیں۔ آپ کسی بھی قسم کی گاڑی میں کالام تک تمام علاقوں میں جاسکتے ہیں، لیکن کالام سے مہو ڈنڈ کی 32 کلومیٹر کی سڑک پر تعمیراتی کام جاری ہے۔ اس لیے بہتر ہوگا کہ مہو ڈنڈ جاتے وقت آپ کالام سے جیپ یا موٹر کار کرایہ پر لے لیں۔ کالام سے مہو ڈنڈ تک کا سفر بہت خوش گوار ہوتا ہے۔ تمام راستے میں چٹانوں سے پنجہ آزمائی کرتا دریا آپ کے ساتھ مہو ڈنڈ تک جائے گا۔ راستے میں برفانی تودہ’’گلیشیر‘‘، ایک بلند آبشار اور قدرتی چشمے آپ کو دیکھنے کو ملیں گے۔ مہو ڈنڈ پہنچ کر آپ کو یہ محسوس ہوگا کہ آپ سویٹیزر لینڈ میں ہیں۔ مہو ڈنڈ سے چند میٹر کے فاصلے پر جھیل سیف اللہ ہے، وہاں سے چند میٹر کے فاصلے پر پنغال جھیل آپ کو دیکھنے کو ملے گی۔ مطلب آپ کو ایک ٹکٹ میں کئی مزے مل سکتے ہیں۔
کالام سے دوسری جانب آپ کو خوب صورت علاقے دھماکا جھیل، اُتروڑ، گبرال اور پھر خوب صورت ترین علاقہ شاہی باغ بھی آپ دیکھ سکتے ہیں اور ان خوب صورت علاقوں سے محظوظ ہوسکتے ہیں۔
سوات میں درجنوں کی تعداد میں جھیلیں بھی ہیں، جن میں سے 100 سے زاید اب سوشل میڈیا پر ویڈیوز کی شکل میں موجود ہیں۔ اگر آپ کے پاس وقت ہے، تو گائڈ کے ساتھ آپ ان سحر انگیز جھیلوں میں سے کئی دیکھ سکتے ہیں۔
سوات میں 1600 سے زاید ہوٹل اور ریسٹورنٹ ہیں، جہاں آپ کو آپ کے بجٹ کے مطابق کمرے، فری پارکنگ، وائی فائی اور ناشتا مل سکتا ہے۔ سوات میں ہوٹلوں میں ایک کمرے کا کرایہ پانچ سو روپے سے لے کر ایک لاکھ بیس ہزار روپے تک ہے۔ ایک اچھے، صاف ستھرے، معیاری اور سہولیات والے ہوٹل کا ایک کمرہ آپ کو 3 ہزار سے 8 ہزار روپے تک مل جائے گا۔ سوات کے ریسٹورنٹس میں آپ کو افغانی، پشاوری، لاہوری، پاکستانی، چائنیز، اٹالین ، پیزا ، برگر اور ہر قسم فاسٹ فوڈ اور کھانا مل سکتا ہے۔
اس طرح اگر سوات سے آپ تحائف لینا چاہتے ہیں، تو آپ کو ہینڈی کرافٹس، سواتی شال، ڈرائی فروٹ، شہد اور ہاتھ سے کندہ کیا گیا فرنیچر مل سکتا ہے۔
اگر آپ ایگری کلچرل ٹورازم کی خواہش رکھتے ہیں، تو سوات میں یہ بھی دست یاب ہے۔ آپ آڑو، سیب، مالٹے، خوبانی، الوچے اور دیگر پھلوں کے باغات میں جاکر خود درخت سے پھل توڑ کر خرید سکتے ہیں۔ بیشتر باغات کے مالکان مہمانوں کو یہ پھل مفت دیتے ہیں اور مہمانوں سے پیسے نہیں لیتے۔
اگر آپ تاریخی و مذہبی سیاحت میں دلچسپی رکھتے ہیں، تو سوات میں یہ بھی دست یاب ہے۔ سوات جو کہ 5 ہزار سال کی تاریخ رکھتا ہے۔ بدھا ثانی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اُنھوں نے سوات میں جنم لیا تھا۔ اس لیے سوات میں آپ کو بدھ مت کے سٹوپے، بریکوٹ میں 3000 سال پرانا بازیرہ شہر، جہاں آباد میں پہاڑ میں کندہ کیا گیا اس خطے کا سب سے بڑا بدھا کا مجسمہ، ڈھیر سارے آثارِ قدیمہ اور سوات میوزیم میں بدھا کے پاؤں کا نشان بھی ملے گا۔
المختصر، جس طرح مسلمانوں کی سب سے مقدس عبادت گاہ مکہ میں بیت اللہ شریف ہے، اُسی طرح دنیا بھر میں بدھ مت کے ماننے والوں کی سب سے مقدس عبادت گاہ ’’بت کڑہ 1‘‘ مینگورہ سوات میں ہے۔
سوات ایک پُرامن علاقہ ہے، جہاں آپ مرد و خواتین دن یا رات کے کسی بھی وقت ایک علاقے سے دوسرے تک جاسکتے ہیں۔ خواتین ہر قسم کا لباس پہن سکتی ہیں اور خود ڈرائیونگ بھی کرسکتی ہیں۔
اگر آپ پہلی دفعہ سوات آرہے ہیں، تو سوات کی خوب صورتی اور لوگوں کی مہمان نوازی دیکھ کر آپ اس خطے کے عاشق ہوئے بنا رہ نہیں پائیں گے۔