(باخبر سوات ڈاٹ کام)سوات میں مشتعل ہجوم کے ہاتھوں قرآنِ مجید کی بے حرمتی کے الزام میں قتل ہونے والے سیالکوٹ کے سیاح کے بارے میں قرآنِ مجید کی بے حرمتی کا کوئی واضح ثبوت نہ مل سکا۔ ہوٹل مالک حیدر علی کے مطابق سلیمان نامی شخص 18 جون کو آیا تھا اور ہوٹل میں کمرا کرایہ پر لیا تھا۔ 20 جون کو دیگر کمروں میں رہائش پذیر لوگوں کے شور پر جب میں پہنچا، تو لوگوں کے ہاتھوں میں قرآنِ مجید کے جلے ہوئے اوراق تھے۔ وہ سلیمان کے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹا رہے تھے اور وہ دروازہ نہیں کھول رہا تھا۔ بعد میں جب اس نے دروازہ کھولا تو اس وقت پولیس آچکی تھی اور وہ ملزم کو اپنے ساتھ تھانہ لے گئی۔ مقامی لوگوں کے مطابق اس کے بعد مساجد میں اعلانات کئے گئے اور لاوڈ سپیکر والی گاڑی سے بھی اعلانات ہوئے جس کے بعد ہجوم نے تھانہ پر دھاوا بول دیا۔ جمعہ کو ریجنل پولیس آفیسر محمد علی گنڈا پور، ڈی پی او سوات ڈاکٹر زاہد اللہ، ایس پی انوسٹی گیشن باچا حضرت، ملاکنڈ ڈویژن ٹریڈرز فیڈریشن کے صدر عبدالرحیم نے بھی مدین کا دورہ کیا اور حالات کا جائزہ لیا۔ آر پی او کے مطابق عوام کے ہاتھوں قتل ہونے والے ملزم کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے اور مشتعل عوام کے خلاف قتل اور انسداد دہشت گردی دفعات کے تحت مقدمہ درج کردیا گیا ہے۔
Swat
