Swat

سفارتکاروں کے قافلے پر ہونے والا دھماکہ سیکورٹی کا ناقص انتظام تھا، خصوصی رپورٹ

(باخبر سوات ڈاٹ کام)ملم جبہ روڈ پر سفارتکاروں کے قافلے پر ہونے والا دھماکہ سیکورٹی کا ناقص انتظام تھا۔ بارہ ممالک کے سفارتکاروں کے آنے سے پہلے دفتر خارجہ نے انتظامیہ اور پولیس کو آگاہ کیا تھا۔ اتوار کو جب قافلہ، سوات میں داخل ہوا تو ان کو پولیس کی صرف ایک موبائل گاڑی دی گئی تھی، جس میں جیمربھی نہیں تھا۔ سفارتکاروں کے ساتھ اسلام آباد چیمبر آف کامرس اور سوات چمبر آف کامرس کے عہدیدار بھی ساتھ تھے۔ سہ روزہ دورے کے پہلے دن انہوں نے مینگورہ بائی پاس کے ایک ہوٹل میں کھانا کھایا۔ اب یہ نہیں معلوم کے سفارتکاروں کو فوڈ اسٹریٹ جہاں زیادہ رش ہوتا ہے، وہاں کھانا کھانے کی اجازت کس نے دی۔ کھانا کھانے کے بعد قافلہ ملم جبہ روانہ ہوا جہاں انہوں نے دو دن قیام کرنا تھا کہ جہان آباد کے مقام پر دھماکہ ہوگیا، جس کے بعد سفارتکاروں کا قافلہ واپس اسلام آباد کی طرف روانہ ہوگیا۔ یہاں یہ بات اہم ہے کہ پولیس اور خفیہ ایجنسیوں کے علاوہ ان سفارتکاروں کے دورہ کے بارے میں کسی کو پتہ نہیں تھا۔ حالانکہ سوات کے صحافیوں کو بھی علم نہیں تھا، تو سوال یہ بنتا ہے کہ بم رکھنے والے کو کس نے اطلاع دی۔ دھماکے کے بعد صحافیوں نے نیوز چینلوں کو ٹیکرز دیئے کہ پولیس وین پر دھماکہ ہوا ہے، جس میں چار پولیس اہلکار زخمی ہیں۔ کیونکہ کسی کو سفارتکاروں کے بارے علم نہیں تھا اور کچھ دیر ٹیکرز چلنے کے بعد نیوز چینلوں نے ٹیکرز ہٹادیئے۔ پھر بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی نے سفارتکاروں کی خبر چلائی اور ایک پولیس آفیسر کا نام لکھا کہ انہوں نے تصدیق کی۔ اس کے بعد قومی اور بین الاقوامی چینلوں نے اس کو بریکنگ نیوز کے طور پر چلایا۔ پیر کو بھی نیوز چینلوں کی ہیڈ لائن میں یہ خبر رہی، تو یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی کو یہ خبر دینے کی کیا ضرورت تھی۔ مختلف طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے اس واقع پر جو ڈیشل تحقیقاتی کمیٹی بنانے پر زور دیا ہے کہ حقیقت سامنے آسکے۔

اشتہار / Advertisement
اس تحریر کو شیئر کریں:

⭐ آپ کو یہ تحریر کیسی لگی؟ (درجہ بندی کریں)

براہ کرم اس تحریر کو 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹنگ دیں

اوسط ریٹنگ: 0 / 5 (0 ووٹ)

اپنا تبصرہ تحریر کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کی نشاندہی * سے کی گئی ہے۔