(باخبر سوات ڈاٹ کام) سوات کے دونوں بڑے ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی جانب سے ہڑتال دوسرے روز بھی جاری رہی۔ صرف ایمرجنسی میں ڈاکٹروں نے کام کیا۔ دونوں ہسپتالوں کے تمام شعبے بند تھے، جس کی وجہ سے ملاکنڈ ڈویژن کے مختلف اضلاع سے آنے والے مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ چند روز قبل موٹر سائیکل حادثہ میں زخمی نوجوان کے ہسپتال میں انتقال کے بعد ورثا نے الزام لگایا تھا کہ نوجوان کی موت ڈاکٹر کی غفلت سے ہوئی۔ ڈاکٹر ایک گھنٹہ دیر سے پہنچا تھا۔ ڈاکٹروں کا موقف ہے کہ انہوں نے مریض کو بچانے کی بھرپور کوشش کی تھی۔ ڈاکٹروں نے پولیس پر الزام لگایا تھا کہ پولیس نیورو سرجن کو زبردستی تھانہ لے گئی تھی اور حبس بے جا میں رکھا تھا۔ پولیس کا موقف ہے کہ انہوں نے ڈاکٹر کو مشتعل ہجوم سے بچانے کے لئے حفاظتی طور پر تھانہ منتقل کیا تھا۔ ڈاکٹروں کی ہڑتال کی وجہ سے مریض سخت مشکلات کا شکار ہیں۔دوسری جانب تحصیل مٹہ کے علاقہ گوالیرئی میں اہل علاقہ نے سیدو شریف ہسپتال کے ڈاکٹروں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا اور ڈاکٹروں کے خلاف نعرہ بازی کی۔ مقررین کا کہنا تھا کہ آئے دن سیدو شریف ہسپتال میں ڈاکٹروں کی غفلت کی وجہ سے لوگ مر رہے ہیں۔ انہوں نے ڈاکٹروں کی فیسوں میں حالیہ اضافہ بھی مسترد کردیا۔
