ملک تجل نور خان المعروف ’’ملک بابا‘‘ کی اولاد ملکانان مینگورہ سوات کا وہ دمکتا حصہ ہیں کہ مینگورہ شہر کے ماضی، حال اور مستقبل کو ان سے الگ دیکھا جاسکتا ہے، نہ نظر انداز کرکے آگے ہی بڑھا جاسکتا ہے۔ مینگورہ کی تاریخ، معاشرت، روایات اور لوک کہانیوں تک میں ملک خاندان کی وہ آمیزش ہے کہ اگر ان کو الگ کیا جائے، تو ادھورے پن کا احساس دامن گیر ہوجاتا ہے۔
ملک بابا کے بیٹے امیر عبداللہ خان، امیر محمد خان، زردار خان، شیر زمان خان، جانس خان، جمروز خان، امیر نواب خان، سید نواب خان، حاجی نواب خان، امیر داد خان، نوشاد خان ہیں، جن کے ناموں کے ساتھ ایک تاریخ، تخیل، جذبات، بہادری، پُراَسراریت اور روایت پسندی وابستہ ہے ۔
ملک بابا کے پوتوں اور جانس کے بیٹوں ’’بَرملکانان‘‘ کے گھر میں غم، الم اور دکھ کا ایسا دور آئے گا، کبھی کسی نے سوچا بھی نہیں تھا۔ یہ وہ پانچ بھائی تھے جن کی نفاست، اُخوت اور غریب پروری کا یہ شہر دہائیوں سے گواہ ہے۔
شیر محمد خان وزیرِ مال صاحب، پیر محمد خان، مشرف خان، محمد شاہ خان اور شریف خان کا بھائی چارہ اور آپس میں تعلق خود ایک مثال تھی۔
ریاستِ سوات سے پہلے حق داد خیل کو پختون یوسف زئی قوم میں ایک قابلِ فخر مقام حاصل رہا ۔ ریاستِ سوات کی تعمیر میں حق داد خیل نے کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ پھر عملی طور پر مینگورہ شہر میں مینگورہ کا عملی دارلحکومت ’’محلہ وزیرِ مال‘‘ بنا۔ وزیرِ مال صاحب اور اُن کے تمام بھائیوں نے حقیقی طور پر مینگورہ کے عوام کے سر پر دستِ شفقت رکھا۔
معلوم تاریخ میں کوئی نہیں کَہ سکتا کہ اس خاندان نے اپنی دولت، پوزیشن اور حیثیت سے غلط فائدہ اُٹھا کر کسی کم زور، محکوم یا لاچار سے زیادتی کی ہو، بل کہ اس کے برعکس اپنے اردگرد کے لوگوں، کرایہ داروں، مزدوروں اور خدمت گاروں کی خوشی و غمی میں بھرپور شرکت کی۔
ہمیشہ اس خاندان نے اپنے بچوں کو یہ مشورہ دیا کہ لوگ تمھاری عزت اس لیے کرتے ہیں کہ تم اُن کی عزت کرتے ہو۔ تمھاری خوشی اور غمی میں شریک ہوتے ہیں، اس لیے کہ تم شریک ہوتے ہو ۔ یہ اُن کی عظیم تربیت کا حصہ رہا ، جس پر وزیرِ مال صاحب اور اُن کے تمام بھائیوں نے عمل کیا، سب کو عزت دی اور دعائیں لیں۔ اُن کے بعد اُن کی اولاد اسی اُصول پر چلتی رہی ۔
عام لوگ محلہ ملکانان سے گزرتے ہوئے ایک عقیدت سی محسوس کرتے۔ ایک مہربان اور شفیق نسل دنیا سے چلی گئی۔ دوسری نسل تقریباً جاچکی ہے، مگر تیسری اور درمیانی نسل نے اپنے خاندانی اُصولوں اور شہر کی محبت و تکریم کرنے والوں کے دل توڑنا شروع کیا ۔ جس خاندان کے لیے مال و دولت کی زندگی کوئی اچھنبے کی بات نہ تھی، دولت کوئی مسئلہ نہ تھی، جائیداد بے تحاشا تھی، اُنھوں نے اس کی بنیاد پر لڑنا شروع کر دیا۔ ایک ہی گھر کے لوگ، ایک ہی خون، ایک ہی دسترخوان کے لوگ ایک دوسرے کے لیے نفرتیں پالنے لگے، سازشیں کرنے لگے اور دشمنیاں پالنے لگے۔ جہاں شہر اُن کی محبتوں کا عادی تھا، اُن کے آپس کی چپقلش نے شہریوں کو مایوسی میں دھکیل دیا۔
جہاں لوگ اپنے گھر اور آپس کی لڑائیوں کا تصفیہ کرنے ان کے حجرے میں جایا کرتے تھے۔ اُن دروازوں پر خود لہو کے چھینٹے اور جھگڑوں کی نشانیاں واضح طور پر نظر آنا شروع ہوئیں۔
جس در سے عام لوگوں کو ہم دردی کی اُمیدیں وابستہ تھیں، اُس کو خود ہم دردیوں کی ضرورت پڑ گئی۔
یہ کسی مکافاتِ عمل یا بد دعا کا نتیجہ نہیں ہے۔ جس بات پر شہر کے اصلی باشندوں کا اتفاق ہے، وہ یہ ہے کہ ان بڑے گھروں کے اندرونی مسائل کبھی کسی نے نہیں سنے تھے۔ ان کے بزرگوں کو اللہ تعالیٰ نے اتنی قوت دی تھی کہ وہ مسائل سر اٹھانے سے پہلے سمجھ جاتے تھے اور گھر کا مسئلہ گھر کے اندر رہ کر حل کیا جاتا تھا۔
اب بات یہ ہے کہ باہر کے لوگ اثر انداز ہو رہے ہیں۔ اندرونی فیصلوں میں بیرونی رائے اہمیت حاصل کرگئی ہے۔ گھر کی مشاورت کی بے قدری ہوتی ہے اور باہر کے لوگوں کی صلاح و مشورے کو وقعت دی جاتی ہے۔ یوں نتیجتاً دشمنی، بدنیتی ، سازشیں اور بے چینی پروان چڑھ رہی ہے۔
یہ خاندان اکیلے اپنا نقصان نہیں کر رہا۔ ان کو شہر کو مل کر جواب دینا ہوگا، ان کی عزت کرنے والے، دہائیوں سے عقیدت رکھنے والے، ان کے نمک خوار، ان کے نیک خواہ بے چین ہیں۔ ان تمام نیک خواہوں کو روند کر انھیں اپنے ماضی سے نکال لیں۔ لیکن وہ کیسے اپنی یادداشت سے اس خاندان کی عظمتوں کا نقش مٹائیں گے؟ وفاؤں کے وعدے اور قریبی تعلقات کا نقش ان کے ذہن سے کیسے اترے گا؟
’’شیر افگن کاکا کو ٹکٹ نہیں ملا‘‘ بڑا آسان ہے یہ کہنا…… مگر اُن کی جگہ جو آیا ہے، اُس کا جواب شیر افگن کاکا کو دینا ہے۔ اتنا کہنا کافی نہیں کہ پارٹی نے ٹکٹ نہیں دیا۔ اہلِ مینگورہ تو آپ کو بڑا سمجھ کر آپ کی ہر بات پر یقین کرکے آپ کے رتبے، علم و دانش سے متاثر ہوکر جمع ہوئے تھے۔ بہ قولِ شاعر
بات نکلے گی، تو پھر دور تلک جائے گی
کاکا! آپ نے کیا کیا؟ آپ کو تصور میں لے کر، حسین خواب دیکھ کر، ایک ڈراونی تعبیر پاکر اگر اہلِ مینگورہ سکتے میں ہیں، تو جواب آپ ہی کو دینا ہوگا!
جہاں حکیم صاحب، تھانے دار صاحب، وزیرِ مال صاحب کے پاس جاکر لوگ فریاد کناں ہوتے تھے، وہ لوگ کہاں اپنا غم روئیں؟ آپ کے اپنے خاندان میں ماتم ہے، آپ پر تکیہ کیے ہوئے ایک بڑا حلقہ اب کس سے امید باندھے؟ تھانہ، تحصیل میں آپ کو مدعی، آپ کو مشر، آپ کو ثالث، آپ کو حاکم کہنے والے کیا کریں؟ آپ خود اس چکر میں پھنس گئے ہیں، ایک غیر یقینی صورتِ حال کا درد آپ کو کیسے پہنچائیں؟
کاکا! ملک خاندان آج اگر تکلیف میں ہے، تو اس میں خاندان والوں ہی کی غلطیاں ہیں۔ وہ دانش کسی اور راستے نکل گئی، مگر مینگورہ کے اصلی باشندوں کو کیا مشورہ دیں گے آپ!
یہ امتحان کی گھڑی ہے۔ پہلا امتحان یہ ہے کہ ملک خاندان اپنے معاملات میں خفیہ اور شیطانی ہاتھ کو پکڑ کر توڑ دے۔ اللہ تعالیٰ نے اس خاندان کو دانش دی ہے، ایک روشن ماضی جس کا ثبوت ہے۔ اُسی دانش پر چلیں، باہر سے کسی کے مشورے پر عمل نہ کریں۔ اپنے لوگ ہیں، ایک خون ہیں، ایک دادا کی اولاد ہیں، سر جوڑ کر بیٹھیں اور کھل کر ہر بات پر بات کریں۔ شہر کے لوگوں کے لیے ہمایوں خان، شیر عالم خان، خواجہ خان، شیر بہادر خان، ظفر خان، ہمایوں خان، خورشید خان، سردار علی خان اور نجیب خان…… کیا کہیں، سبھی عزت دار ہیں۔ لوگوں کو امتحان میں نہ ڈالیں۔ لوگ آپ سے محبت کرتے ہیں، عزت کرتے ہیں۔ موجودہ نسل پچھلی سے پچھلی نسل کی خوبیاں اپنائیں، تاکہ بے چینی ختم ہو۔
شہر کے اصل باشندوں کو آپ ایک خون دکھائی دیتے ہیں۔ لوگ اس خاندان کی خوشی پہ خوشی ہوتے ہیں اور غم پر ان ک دل ٹوٹتا ہے۔
اپنے دادا کی تصویر کو غور سے دیکھیں۔ ام جیسی عظمت، حوصلے، بہادری، ہم دردی، اپنائیت خود میں پیدا کریں، یا پھر نام بدل لیں، رشتے بدل لیں۔ آپ سے مینگورہ شہر کی تاریخ جڑی ہے۔
کیا آپ لوگوں میں بہادری، فیصلے کی طاقت اور بولنے کی قوت ختم ہوگئی ہے، جو باہر کے لوگوں کے اشاروں پر ایک دوسروں کو مار رہے ہیں؟
اگر میری یہ سطور کسی کو بری لگی ہوں، تو یہ سوچ لے کہ شہر نہیں بدلا، پرانے شہر کے لوگ نہیں بدلے، اُن کے دلوں میں محبت تبدیل نہیں ہوئی، اُن کے دماغ سے یادیں نہیں مٹیں۔ بس جو کچھ بدلا ہے، وہ آپ کے خاندان کے اندر بدلا ہے۔ شاید اُدھر امیدوں کی جگہ مایوسی در آئی ہے۔
جاتے جاتے کوز ملکانان سے درخواست ہے کہ وہ آگے بڑھ کر شہر کے دکھ کو محسوس کرے اور بر ملکانان کو دوبارہ ایک کرنے میں کردار ادا کریں۔
متعلقہ خبریں
- کمنٹس
- فیس بک کمنٹس
