’’مہر فاؤنڈیشن‘‘ کا نام مینگورہ میں تقریباً ہر دینے اور لینے والے ہاتھ کو معلوم ہے۔ رمضان شریف کی آمد ہو، یا عیدین کی، باورچی خانہ چلانا ہو، یا بچوں کی تعلیم کی آرزو ہو، سردی کا تصور ہو، یا گرمی کی چبھن کا خوف، جوان بیٹیوں کے جہیز کی فکر ہو،یا بیماری میں بے سہارا ہونے کا خوف، مادی معنوں میں جہاں سے مدد کی اُمید ہو،مینگورہ شہر کا غریب اور سفید پوش طبقہ ’’مہر فاؤنڈیشن‘‘ کو یاد رکھتا ہے۔
قدرتی آفات ہوں…… کرونا، ڈینگی، سیلاب، زلزلہ یا خون کے عطیات…… مہر فاؤنڈیشن کی انتظامیہ اپنی خدمات میں پیش پیش رہتی ہے۔
مہر فاؤنڈیشن کا نام تو بعد میں رکھا گیا، مگر دہائیوں پہلے مرحومہ مہرالنساء نے مہر فاؤنڈیشن کی غیر رسمی بنیاد اپنی سخاوت، دریا دلی، خدا ترسی اور انسان دوستی سے رکھ دی تھی۔
مرحومہ 10 مئی 1952ء کو پیدا ہوئیں۔ بچپن ہی سے بہت حساس تھیں، عام بچوں سے ہٹ کر تھیں۔ دیگر بچوں کی مدد، اعانت اور ہم دردی اُن کے مزاج کا حصہ تھا۔ زندگی کا بڑا حصہ انسانیت کے لیے درد میں گزارا اور اپنے بچوں کی تربیت بھی اسی حساس طبیعت کے ساتھ کی۔
محمد عالم نے والدہ کی خواہش کو یوں آگے بڑھایا کہ اَب ’’مہر فاؤنڈیشن‘‘ کی چھتری کے نیچے غریب اور سفید پوش گھرانوں کی مستقل طور پر کفالت کی جا رہی ہے۔ ایسے خاندانوں کی تعداد سیکڑوں میں ہے۔ عزتِ نفس پر حرف نہ آئے، مہر فاؤنڈیشن کے رضاکاروں کی ٹیمیں رات کے اندھیرے میں چوکھٹ پر جاکر آنکھوں سے آنکھیں ملائے بغیر امداد چھوڑ آتے ہیں، تاکہ کسی کی انا مجروح نہ ہو۔
’’روزگار سکیم‘‘ کے تحت کئی خواجہ سراؤں کو با عزت روزگار فراہم کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ ’’خود روزگار سکیم’’ کے تحت بے روزگار، ضرورت مند، مستحق مرد و خواتین کو روزگار کے باعزت مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔
مہرالنساء واقعی مہرالنساء تھیں۔ اُن کی زندگی ہی میں اُن کے نام پر مہرویلفیئر فاؤنڈیشن کا قیام اس بات کی دلیل ہے کہ اُن کے دل میں معاشرے کے غریب، نادار افراد اور غیر مراعات یافتہ طبقات کے لے بہت درد تھا۔ اُن کے بیٹے (محمد عالم) نے اُن کے مشن کو آگے بڑھانے میں زبردست کردار ادا کیا۔
اس حوالے سے محمد عالم کہتے ہیں، ماں! ایک ایسی ہستی جس کا نام زبان پہ آتے ہی منھ میں شیرینی سی گھلنے لگتی ہے۔ وہ شفقت اور سراپا محبت کا پیکر تھیں۔ جھلستی دھوپ میں بادِ نسیم کی مانند تھیں۔ آخری عمر تک گھر کا کام کاج اپنے ہاتھ سے کرتی رہیں اور جب کبھی میں ان سے کہتا کہ بی جی! گھر کا کام کاج اسی طرح کرتے رہنا، تاکہ صحت اچھی رہے، تو مِزاحاً کہتیں: ’’اپنی بیوی کو سہولت دینے اور کام سے بچانے کے لیے اچھا مشورہ ہے۔‘‘
خاموش طبع، سلیقہ مند، پاک دامن، خوش اخلاق، شیرین گفتار، نیک، پارسا، شفیق و مہربان، صدقہ وخیرات کے کاموں میں مقدور بھر حصّہ لینے والی اور زکواۃ باقادگی سے ادا کرنے والی خاتون تھیں۔سیدھی سادھی، لوگوں کی غم گسار، نمازِ پنج گانہ کی عادی، تہجد گزار اور روزے کی سختی سے پابندی کرنے والی خاتون 11 جولائی 2022ء کو اس فانی دنیا سے رخصت ہوگئیں۔
آخری عمر میں جب صحت نے بھی ساتھ چھوڑ دیا تھا اور کم زوری بھی بہت تھی، بیٹوں کے منع کرنے کے باوجود بھی باقاعدگی سے روزے کی پابندی کرتیں۔
محمد عالم کہتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کے خمیر میں رحم دلی، بردباری، صبر وشکر، نفاست پسندی، احسان مندی اور میانہ روی کوٹ کوٹ کر بھر دی تھی۔ اس کی محبت کی گرم گود سردی کا احساس نہیں ہونے دیتی تھی۔ خود بے شک کانٹوں پر چلتی رہیں، مگر اولاد کو ہمیشہ پھولوں کے بستر پر سلاتی رہیں اور دُنیا جہاں کے دکھوں کو اپنے آنچل میں سمیٹے لبوں پر مسکراہٹ سجائے رہتیں۔ ہمیں اُن سے زیادہ محبت کرنے والی ہستی دُنیا میں کوئی اور پیدا ہی نہیں ہوئی۔ آندھی ہو یا طوفان، اُس کی محبت میں کبھی کمی نہیں آئی۔ وہ کبھی احسان جتاتیں اور نہ اپنی محبتوں کا صلہ ہی مانگتیں، بل کہ بے غرض ہوکر اپنی محبت اولاد پر نچھاور کرتی رہتیں۔ یہ حقیقت ہے کہ اُن کی محبت کو ایک بحرِ بیکراں اور بے پایاں کی طرح لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ اُن کے خلوص اور ایثار کے سمندر کی حدود کا اندازہ لگانا ممکن نہیں۔ دنیا کے ہر رشتے میں خود غرضی شامل ہوسکتی ہے، مگر ماں کے رشتے میں شامل نہیں ہوسکتی۔یہ ایک ایسا رشتہ ہے، جو دُنیا میں سب سے زیادہ پُر خلوص ہے۔ اُس کی زندگی کا محور صرف اور صرف اُس کی اولاد ہوتی ہے۔ دُنیا کے کسی بھی کونے میں چلے جائیں، اُس کی دُعائیں سائے کی طرح پیچھا کرتی ہیں اور اُس کی دعاؤں سے بڑی سے بڑی مصیبت ٹل جاتی ہے۔
محمد عالم کہتے ہیں، میری نظر میں کائنات کی سب سے خوب صورت تخلیق ہماری ماں تھیں۔ کہنے میں تو ’’ماں‘‘ تین حرفوں کا مجموعہ ہے، لیکن یہ لفظ خود اپنے آپ میں ایک پوری دنیا ہے۔ دنیا میں کوئی ایسا پیمانہ نہیں جو ایک ماں کی شفقت اور خلوص کو ماپ سکے۔اولاد کی خاطر ہر طرح کے مصائب اور آزمایشوں کا سامنا کرتی ہیں، لیکن ماتھے پہ شکن تک نہیں لاتیں۔
اب چوں کہ ہماری ماں اس دنیا میں نہیں رہیں، لیکن ان کی قدروقیمت کا اندازہ اب ہمیں بہ خوبی ہوگیا ہے۔ ان کے بغیر گھر شہرِ خموشاں کی مانند ہے۔ خاص کر میرے لیے ان کا نہ ہونا قیامت سے کم نہیں۔
تاروں میں ہے چمک نہ گلابوں میں باس ہے
تم کیا گئے ہو ، شہر کی ہر شے اُداس ہے
محترمہ مہرالنساء یہ دنیا چھوڑ گئیں۔ زندگی اسی طرح سخت اور تکالیف سے بھری پڑی ہے، مگر مہر فاؤنڈیشن کی صورت میں اُن کے خواب دکھی انسانیت کی خدمت کرتے ہوئے پورے ہو رہے ہیں۔
کسی روتے ہوئے چہرے پر مسکراہٹ بکھیرنے، کسی بھوکے کو ایک وقت کی روٹی دینے، کسی خستہ لباس کو نیا جوڑا دینے، کسی کو تعلیم میں معاونت کرنے ، کسی کو بیماری میں دلاسا دینے اور مدد کرنے، کسی بے روزگار کو باعزت روزگار کا موقع فراہم کرنے میں جب بھی مہر فاؤنڈیشن کی انتظامیہ اپنا کردار ادا کرتی ہے۔ تو جنت الفردوس میں محترمہ مہرالنساء کے چہرے پر مسکراہٹ ضرور بکھرتی ہوگی۔
مہر فاؤنڈیشن کی انتظامیہ خیرات، زکوٰۃ، صدقات اور عطیات کی مدد سے دکھی انسانیت کی مدد کرنے میں کوشاں ہے۔ وہ فریضہ ادا ہوتا رہے گا، جس کا خواب محترمہ مہرالنساء نے دیکھا تھا، جس پر عملی قدم انھوں نے خود اٹھایا تھا اور جس کو محمد عالم اور شہر کے لاتعداد رضا کار آگے لے کر جا رہے ہیں۔
متعلقہ خبریں
- کمنٹس
- فیس بک کمنٹس
