لالا گان کو سوات میں الگ عقیدت اور احترام سے دیکھا جاتا ہے۔ اس کی پہلی وجہ ان کی شرافت اور خوش اخلاقی ہے۔ دوسری وجہ ان کا سید، خاندانی اور نسلی ہونا ہے۔ تیسری وجہ شاہی خاندان سے تعلق اور رشتہ داری ہے جب کہ چھوتی وجہ ان کی خدمات ہیں۔
اس خاندان نے بڑے بڑے نام پیدا کیے، جنھوں نے طب، مسلح افواج، پولیس، تعلیمی اور انتظامی عہدوں پر خصوصی مقام حاصل کیا۔
رحیم آباد، قمبر، بلوگرام، اوڈیگرام، تندو ڈاگ جی ٹی روڈ کے ساتھ ساتھ آباد لالاگان کے گھروں کے سامنے گزرتے ہوئے ایک دلی احترام کا جذبہ پیدا ہوتا ہے، جو سارے مقامی سواتی محسوس کرتے ہوں گے۔
فیروز شاہ لالا تندوڈاگ کو اللہ تعالیٰ نے ایک ایسا فرزند (سید عثمان شاہ لالا) دیا جو وجیہہ، کڑیل، لائق، نڈر، ایمان دار، ہنس مکھ اور ملن سار تھا۔ سید عثمان شاہ نے پولیس فورس جوائن کی اور یہ اتفاق ہے کہ ان کو پشاور سے محبت تھی اور زیادہ تر پھولوں کے شہر پشاور میں ایس ایچ اُو کے طور پر فرائض انجام دیے۔ پولیس کی ذمے داریاں ہوتی ایسی ہیں کہ 24 گھنٹے کی نوکری، ہر لمحے کی ذمے داری اور ہر پل کی فکر ہوتی ہے۔
پولیس فورس نے سید عثمان شاہ کو سوات آنے سے دور رکھا، مگر اُنھوں نے سوات میں اپنے ہر تعلق کو کبھی ٹوٹنے نہیں دیا اور نہ اپنی جڑوں ہی کو بھولے۔ ایک نوجوان، باصلاحیت، باہمت اور جوان مرد پولیس آفیسر کے طور پر سید عثمان نے اپنے آپ کو منوایا۔ پشاور جیسے مشکل ایریا میں شاہ صاحب ’’سواتے ایس ایچ اُو‘‘ کے نام سے مشہور تھے۔ اُن کی فرض شناسی، دیانت داری اور بہادری کی ایک دنیا معترف تھی۔
شاہ صاحب کوزہ بانڈئی کے اکبر خان صاحب کے داماد تھے، جن کی اپنی شخصیت پورے سوات کے لیے ایک مثال ہے۔ ملک سعد (شہید) کی بہادری، شجاعت، جواں مردی کی بھی ایک دنیا معترف ہے، اُنھوں نے خیبر پختونخوا کی پولیس فورس سے چن کر ایک ٹیم بنائی۔ یہ ٹیم اُن کی طرح مستعد، بہادر، فرض شناس اور موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے والی تھی۔ شاہ صاحب بھی ملک سعد شہید کی اُسی ٹیم کے معتمد اور پُرجوش ممبر تھے۔
سید عثمان لالا کی وفات انتہائی جوانی میں پُراَسرار طور پر ہوئی۔ یہ بہت بڑا المیہ تھا اور اب بھی اُن کی وفات کی وجوہات پر شکوک و شہبات کا اظہار کیا جاتا ہے۔ کاغذوں میں حل ہونے والا یہ کیس تاریخ کے صفحوں پر لاینحل ہی رہے گا۔
2004-5ء میں شاہ صاحب تاتارا پولیس سٹیشن حیات آباد پشاور میں ایس ایچ اُو کے طور پر تعینات تھے۔ یہ خیبرپختونخوا اور پاٹا کے درمیان آخری حساس سٹیشن تھا۔ سمگلنگ، منشیات کی نقل و حمل، غیر قانونی داخلے، دہشت گردوں کے حملے اور مفروروں کے ساتھ مقابلے کے لیے ہر دم تیار، چوکنا اور ہوش یار رہنا، اس ذمے داری کو لینے کے لیے ہر افسر کو کئی دفعہ سوچنے پر مجبور کرتا تھا، مگر شاہ صاحب مشکلات سے مقابلے کا نام تھے۔ ڈیوٹی کے دوران میں کسی بات پر آفریدی قبیلے کے کچھ افراد کے ساتھ اُن کی ان بن ہوگئی، جو بعد میں باقاعدہ دشمنی میں بدل گئی۔ایک طرح سے سرکاری ڈیوٹی شاہ صاحب کی ذاتی دشمنی میں تبدیل ہوگئی۔ انھی سرکاری فرائض پر ایمان داری اور قانون کے مطابق چلنے کو کچھ افراد نے شاہ صاحب کی زور آوری سے تشبیہ دیا اور کہا کہ ’’پاکستان میں سب کچھ چلتا ہے!‘‘ لیکن شاہ صاحب کا موقف تھا کہ ’’یہاں جو بھی چلے گا، وہ قانون کے دائرے کے اندر ہوگا!‘‘
سرکاری فرائض، ذاتی عناد میں تبدیل ہوگئے اور حفاظت کی ڈبل ذمے داریاں بھی۔ عین اسی دوران میں وہ بیمار پڑگئے اور ان کے جسم کے مدافعتی نظام نے کام چھوڑ دیا۔ وہ بستر سے لگ گئے۔ کوئی دوا، کوئی تیمار داری کام نہیں آرہی تھی۔
کہا جاتا ہے (گو کہ اس کی دستاویزی تصدیق کچھ نہیں) کہ اُن کو زہر دیا گیا تھا۔ چوں کہ اُن پر قابو نہیں پایا جاسکتا تھا، اس لیے دشمنوں نے انھیں اس طرح سے راستے سے ہٹانے کی کوشش کی۔ یوں وہ بہادر سپاہی کسی میر جعفر، کسی میر صادق کی بے وفائی اور غداری کا نشانہ بن گئے۔
قارئین! شاہ صاحب کا انتقال ایک المیہ تھا۔ اُن کے سسراکبر خان صاحب، جو بیوروکریٹ تھے، نے ان کے لاشے پر کھڑے ہوکر کہا کہ ’’یہ مرا نہیں، شہید ہوا ہے۔ اس کی خواہش تھی کہ اس کے بچوں کو اعلا تعلیم اور اچھی تربیت حاصل ہو۔ میری خواہش ہے کہ میں اس کے بچوں کی تربیت کروں۔ ان کا نانا ہونے کی حیثیت سے ان کو باپ جیسا سچا اور بااصول بناؤں گا۔‘‘
لالاگان فیملی نے اکبر خان صاحب کی خواہش اور جذبات کے احترام میں یہ اجازت دے دی۔ اب بھی شہید شاہ صاحب کے بچے نانا کی نگرانی میں کوزہ بانڈئی سوات میں رہ رہے ہیں ۔
آج کی تحریر میں سوات کے بہادر سپوت سید عثمان لالا (شہید) کو یاد کرتے ہوئے اُنھیں خراجِ تحسین پیش کرنا مقصود تھا بس!
متعلقہ خبریں
- کمنٹس
- فیس بک کمنٹس
