کالم نگاری

لیلونئی کی شاہ کار مسجد برکلے

حیدر علی اخوند خیل

✍️ کالم نگار: حیدر علی اخوند خیل

اشتہار / Advertisement

ملاکنڈ ڈویژن کے مرکز سیدو شریف سے 56 کلومیٹر کی مسافت پر جانبِ مشرق شانگلہ ٹاپ ہے۔ 7 ہزار فٹ کی بلندی پر واقع یہ ٹاپ، سوات اور شانگلہ کے اضلاع کے درمیان انتظامی حدِ فاصل ہے۔ شانگلہ 1969ء تک سابق ریاستِ سوات اور 1995ء تک ضلع سوات کا سب ڈویژن رہا اور 1995ء میں علاحدہ ضلع کی حیثیت سے پہچانا گیا، لیکن نسلی، قبیلوی اور جغرافیائی لحاظ سے یہ ایک ہی زنجیر کی کڑیاں ہیں۔
شانگلہ ٹاپ پر ریاستی دور کا ڈاک بنگلہ، ارد گرد گٹھا ٹوپ، سدا بہار جنگلات اور جغرافیائی رعنائی دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔
شانگلہ ٹاپ سے نیچے پیچ و خم کھاتی سڑک پر اُترتے وقت احتیاط سے کام لینا ہوگا۔ اس لیے کہ آسمانی موڑ کی جان لیوا داستانیں آج بھی رونگٹے کھڑے کرنے کے لیے کافی ہیں۔
7 کلومیٹر پر محیط اس تلخ گھونٹ کو حلق سے اُتار دیں، تو گہرائی میں فلک بوس پہاڑوں کے حصار میں بند الپورئی بازار آتا ہے۔ الپورئی، ضلعی ہیڈکوارٹر ہے۔ ضلعی دفاتر، عدالتیں، سرکاری رہایش گاہیں، اسکول، کالج، یونیورسٹی، ٹیکنیکل کالج، ریسکیو دفتر، ڈی ایچ او ہسپتال، نیشنل بینک، میزان بینک، نادرا دفتر، شیر علی خان شہید پولیس سٹیشن، کاروباری مراکز، ہوٹل اور دوسری اشیائے ضروریہ یہاں موجود ہیں۔ ضلعی مرکز ہونے کے سبب مختلف مواقع پر یہ ضلع بھر سے لوگوں کو یہاں جوڑنے کے لیے کھینچتا ہے۔
الپورئی کو مقامی خوڑ نے دو حصوں میں بانٹ دیا ہے۔ البتہ مقامی خوڑ پر چھوٹے پُل نے دونوں کو پھر سے بغل گیر کیا ہے۔ پُل پر سے گزر کر بائیں جانب لنک روڈ ناگنی چال چل کر اپنا پھن پھیلاتی ہے، لیکن چند میٹر کے بعد اچانک اس کا خمار اُتر کر نشیبی چال چلنا شروع کر دیتی ہے۔ نیچے مقامی خوڑ کا مستانہ روپ دیہاتی روایات کا امین چلڈرن نامی جھیل کا زمرد رنگ کا پانی عجیب جغرافیائی ساخت اور فطری حسن لیلونئی ہی کا میراث ہے۔ لیلونئی اور الپورئی ایک ہی گھر کی شہزادیاں ہیں۔
واہ جی! سڑک اچانک بائیں جانب کروٹ لیتی ہے، تو ایک اور چھوٹے پلِ صراط سے گزر جاتی ہے اور چند میٹر آگے لیلونئی کے استقبالیہ سٹیشن پر سکھ کا سانس لیتی ہے۔ چنگا سر کے گیسوؤں تلے یہ ہے فطری حسن اور روایات کا امین گاؤں لیلونئی!
یونین کونسل اور 7 دیہاتی اکائیوں کا ترجمان لیلونئی، ما قابل تاریخ، قبلِ مسیح اور عیسوی و ہجری ادوار کی شاہد وادی اور ریاست و ریاستی دور کی تاریخی اور سیاسی بستی لیلونئی ہی تو ہے۔ یہ صوفیاو صلحا کا دیس، بزرگوں کا مسکن، پیر فقیروں اور آستانہ داروں کا آستانہ اور خلیفۂ چہارم حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی اولاد پاپینی میاگان کا مرکز اور دستارِ افتخار ہے۔
الپورئی 15 ہزار لگ بھگ آبادی والا گنجان آباد گاؤں ہے۔ تعلیمی لحاظ سے کافی آسودہ ہے۔ 80 فی صد بزرگ جب کہ 70 فی صد جوان ٹیلنٹ شعبۂ درس و تدریس سے وابستہ ہے۔ علاوہ ازیں اعلا پائے کے ڈاکٹر، انجینئر، سیاست دان، قانون دان اور مایہ ناز لکھاری لیلونئی کی عظمت رفتہ کے گواہ ہیں۔
’’پلوشن فری‘‘ ماحول، شجرِ سایہ دار کی کمی، نہ اُبلتے چشموں کا فقدان، چہارسُو قدرتی عروسی فرغل اور بادِنسیم کا نرم و نازک لمس اور مقامی خوڑ کا سحر انگیز شور لیلونئی کی نرالی اور امتیازی شان نہیں تو کیا ہے!
دن کو آبشاروں، میٹھے جھرنوں اور ہری بھری فصلوں کے نظارے، تو آغازِ شب پر پرندوں کی خوش الحانی، آب رواں کا رومان پرور شور اور قدرتی لوری کی دھن میں مدہوش اختر شماری کی قید سے نجات یہاں کی روح پرور جغرافیائی کرامت ہی تو ہے، یہاں دیکھنے اور محسوس کرنے کے لیے بہت کچھ عیاں و پنہاں ہے، لیکن بصارت سمیت بصیرت چاہیے، یہاں دورِ جدید کے سیاح کو جو چیز زیادہ اپنی گرفت کا اسیر بناتی ہے، وہ لیلونئی کا شاہ کار خانۂ خدا ’’بر کلے‘‘ہے۔
جی جناب! آپ نے بیرونی دنیا بھی دیکھی ہوگی اور مشہور مساجد کی روحانی ٹھنڈک بھی محسوس کی ہوگی۔ ملکِ خداداد میں بھی گھومے پھرے ہوں گے۔ کراچی کی میمن مسجد، فیصل مسجد اسلام آباد، شاہی مسجد لاہور، مسجد مہابت خان پشاور، الیاسی مسجد ایبٹ آباد ، تھل مسجد دیر بالا، جامع مسجد پیر بابا، تاریخی مسجد اسلام پور کی نئی عمارت، قدیم تاریخی مسجد خوازہ خیلہ، سپین گرے بابا مسجد مدین، جدید اور قدیم انجینئرز کی شاہ کار مسجد سپل بانڈی، درشخیلہ کی دیوہیکل ستونوں والی مسجد ، جامبل مسجد، کالام اور اتروڑ کی لکڑی کی منقش اور بہترین کندہ کاری کا نمونہ مساجد دیکھے ہوں گے۔ ان کی اپنی شان، تاریخی قدامت اور روحانی لمس ضرور ہیں۔ ان میں سے بعض کو جدید سانچوں میں ڈالنے ان پر کروڑوں روپے کی لاگت آئی ہے، لیکن پہاڑوں کے قلب اور صوفیانہ گود میں ایستادہ ’’بر کلے مسجد‘‘ کے نام سے موسوم لیلونئی کی مسجد کی امتیازی شان اس وجہ سے ہے کہ صفر سے آغاز کر کے یہاں سے غیور سپوتوں نے صرف 18 مہینوں کی قلیل مدت میں اس میگا پراجیکٹ کو نہ صرف پایۂ تکمیل تک پہنچایا، بل کہ ایک ایسے ماڈل کو وجود بخشا جو جدید فن تعمیر کے فن پاروں میں اپنا نمایاں مقام رکھتا ہے۔
15کروڑ کی خطیر رقم سے ایسی شان دار مسجد کو وجود بخشنا کسی معجزے سے کم نہیں۔ مسجد مذکورہ تین ماہرینِ فن تعمیرات کے فن پاروں میں سے ایک حسین انتخاب ہے۔ اس کی تعمیر میں 80 فی صد سے زیادہ مقامی خام مال کو استعمال میں لایا گیا ہے۔ یہ پُرشکوہ سہ منزلہ عمارت ڈیڑ ھ سو سالہ قدیم مسجد کو ڈھا کر قدیم اور جدید انداز کا مرقع ہے۔
مقامی روایت کے مطابق قدیم مسجد سطحِ زمین سے اونچائی پر آباد تھی، جس کے صحن والے حصے میں تن آور چنار کی درخت تھی، جو کہ مستقبل کی تاریخ کا حصہ ہے۔
مسجد میں لکڑی کے بہترین نقش و نگار، کندہ کاری اور فن کاری کے لیے یہاں کے مقامی 9 اقسام کے درختوں (اخروٹ، چنار، ولہ، سیاہ بکائن، پیوچ ،رانزڑہ، بنڑیا وغیرہ) کی لکڑی کا استعمال کیا گیا ہے ،جس سے دورِ جدید کا دل کش آرٹ جنم لے چکا ہے۔
یہ جدید آرٹ کے ساتھ ساتھ ہزاروں سال قدیم گندھارا آرٹ کا بھی ترجمان ہے۔ مسجد میں بنایا گیا جرگہ ہال بھی دیکھنے کے لائق ہے، جو مذہبی اور ثقافتی دونوں اقدار کا پاس دار اور امین ہے۔
اس عالی شان مسجد میں لکڑی کا کام ایسی ہنرمندی، کمال اور نفاست سے کیا گیا ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ جدید اور گندھارا آرٹ کا یہ حسین امتزاج یقینا قابلِ تحسین ہے۔
اس سہ منزلہ پُرشکوہ عمارت میں چہار سُو بہترین آرٹ، ہمالیائی جذبہ، والہانہ عقیدت، اخلاص، مذہبی احساسات اور روحانی فضا کی کرنیں دیکھی اور محسوس کی جاتی ہیں۔ پہلی دو منزلوں میں لاکھوں روپے کی لاگت سے خریدی گی ایرانی قالین اور تیسری منزل میں قیمتی گرینائٹ کے بنے جائے نماز کا فرش دو مختلف ہنروں کا بہترین انتخاب ہیں۔
جرگہ ہال سماجی ضیافت اور تبلیغی مقاصد کے لیے حاضر ہے۔ مسجد میں لگائے گئے دو قیمتی فانوس بھی دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ صرف یہی نہیں، مسجد کا ہر منظر دعوتِ نظارہ دیتا ہے۔
دور افتادہ پہاڑی علاقے میں کروڑوں کی لاگت سے ایسی شان دار عمارت کھڑی کرنا ایک بڑا کارنامہ ہے، جس پر یہاں کہ غیور عوام مبارک باد سمیت شاباشی کے مستحق ہیں۔

اشتہار / Advertisement
اشتہار / Advertisement
اس تحریر کو شیئر کریں:

⭐ آپ کو یہ تحریر کیسی لگی؟ (درجہ بندی کریں)

براہ کرم اس تحریر کو 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹنگ دیں

اوسط ریٹنگ: 0 / 5 (0 ووٹ)

اپنا تبصرہ تحریر کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کی نشاندہی * سے کی گئی ہے۔