(باخبر سوات ڈاٹ کام)مینگورہ بائی پاس پر دریائے سوات کے کنارے کروڑوں روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والا ”واکنگ ٹریک“ بھی تجاوزات میں بنانے کا انکشاف ہوا ہے۔ سانحہ سوات کے بعد صوبائی حکومت نے صوبہ بھر میں دریاؤں کے کنارے تجاوزات مسمار کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ سوات میں بائی پاس سے لیکر فضاگٹ تک تو عمارتیں مسمار کی گئیں لیکن دو دن بعد نامعلوم وجوہات کی بنا پر آپریشن بند کردیا گیا۔محکمہ ایریگشن سوات نے پانچ کروڑ روپے واکنگ ٹریک کا ٹینڈر خود دیا جس کے لئے مالی معاونت ”پی ڈی ایم اے“ نے کی۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ دریائے سوات کے کنارے تجاوزات کی نشاندہی بھی اس ادارے کا کام ہے۔ حال ہی میں سانحہ سوات نے بائی پاس پر جن تجاوزات کی نشاندہی کی اس محکمے نے اپنے ہی تعمیر کردہ واکنگ ٹریک کو بھی تجاوزات میں شامل کرلیا۔ریور پروٹیکشن ایکٹ کے تحت دریائے کے کنارے کی نشاندہی محکمہ ایری گیشن مون سون بارشوں کے دوران اس وقت کریگی جب دریا میں پانی کی سطح بلند ہو، کنارے کی نشاندہی سے لیکر ایک سو بیس فٹ تک کوئی بھی شخص نہ تو اپنی زمین پر تعمیرات کر سکتا ہے اور نہ کھیتی باڑی۔ ایک سو بیس فٹ کے بعد پندرہ سو فٹ تک تعمیرات سے پہلے اس شخص کو متعلقہ محکموں سے نقشہ پاس کرنا ہوگا اور این او سی بھی حاصل کرنا پڑیگا۔ ورنہ وہ تعمیر غیر قانونی تصور ہوگی۔ اب دریا کنارے اور تجاوزات کی نشاندہی کرنے والے ادارے محکمہ ایریگیشن نے دریائے سوات کے کنارے سے صرف پانچ فٹ پر واکنگ ٹریک جس کی لمبائی25 سو فٹ ہے خود ہی غیر قانونی تعمیر کی ہے۔ سانحہ سوات کے بعد تجاوزات کا جو نقشہ اس ادارے نے بنایا ہے، اُس نقشے میں اپنے ہی بنائے واکنگ ٹریک کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔ اس سلسلے میں رابطہ پر ایکسین ایری گیشن نے مشرق کو بتا یا کہ واکنگ ٹریک اس جگہ اس لئے تعمیر کیا گیا ہے، تاکہ اس جگہ آبادی سیلاب سے بچ سکے۔
