(باخبر سوات ڈاٹ کام)چند ماہ قبل پڑوسی ملک سے سوات آنے والے کالعدم تحریک طالبان کے مسلح ارکان سوات چھوڑ کر واپس چلے گئے۔ کچھ ماہ قبل یہ مسلح افراد افغانستان سے دیر بالا کے راستے سوات اور دیر کے سرحدی علاقہ سوات کی سرحد میں داخل ہوئے تھے اور ڈوپ سر کے مقام پر موجود تھے۔ ان مسلح افراد کی تعداد 60 سے 65 بتائی جاتی تھی، جس کی تصدیق سیکورٹی ذرائع نے بھی کی تھی۔ اس دوران مسلح افراد نے پولیس کو چائے دینے کے جرم میں دیر بالا کے ایک شخص کو سنائپر سے نشانہ بنا کر قتل کیا تھا۔ ایک اور کارروائی میں انہوں نے سنائپر سے ایف سی کے دو اہلکاروں کو فائرنگ کرکے قتل کیا تھا۔ سوات پولیس نے تحصیل مٹہ میں دو مقامات اور تحصیل کبل میں ایک مقام پر ناکہ لگایا تھا، جن میں تین سو سے زائد پولیس اہلکار ڈیوٹی پر موجود تھے، ان مسلح افراد کو نیچے نہیں آنے دیا۔ ان مسلح افراد کے خلاف سوات قومی جرگہ نے مٹہ اور سوات اولسی پاسون نے کانجو میں تاریخی مظاہرے کئے تھے۔ انتہائی باوثوق ذرائع کے مطابق سوات اور دیر کے سرحدی بالائی پہاڑی جہاں پر یہ مسلح افراد موجود تھے، اس علاقہ میں سردی کی شدت میں اضافہ کے بعد وہ جمعہ کو سوات کا علاقہ چھوڑ کر دیر کی جانب روانہ ہوگئے، تاہم یہ واضح نہ ہوسکا کہ مسلح افراد دیر باالا میں رہیں گے یا واپس افغانستان جائیں گے۔
Swat
