(باخبر سوات ڈاٹ کام)سوات میں اطالوی آثارِ قدیمہ مشن کی 75ویں سالگرہ کی تقریب ہفتہ کو سیدو شریف میں منائی گئی۔ تقریب میں سپریم کورٹ کے جسٹس شہزادہ میاں گل حسن اورنگزیب، لوکا ایم۔ اولیوئری (ڈائریکٹر اطالوی آثارِ قدیمہ مشن، پاکستان)، پشاور میڈیکل یو نیورسٹی کے ڈین شہزادہ ڈاکٹر میاں گل محمود اورنگزیب، ڈاکٹر عبدالصمد (سیکریٹری محکمہ سیاحت، ثقافت، آثارِ قدیمہ و خیبرپختونخوا)، سینئر بیوروکریٹ ارشد خان، پروفیسر ڈاکٹر رضیہ سلطانہ، آفتاب الرحمن رانا (بانی سسٹین ایبل ٹورازم فاؤنڈیشن پاکستان)، پروفیسر ڈاکٹر رفیع اللہ خان، ڈاکٹر اسٹیفن باؤمز (گندھارا متون کے ماہر)، ڈاکٹر ایلیسا ایوری، جامعہ سوات کے وائس چانسلر پروفیسر حسن شیر، گورنمنٹ جہانزیب کالج کے پرنسپل محمد کمال، اور یالی یوان (WAKSA ایسوسی ایشن) شامل تھے۔ اس موقع پر لوکا ماریا اولیوئری نے اپنے خیر مقدمی خطاب میں کہا کہ اطالوی مشن نے 1955ء میں اُس وقت سوات ریاست میں پروفیسر ٹوچّی کی قیادت میں کھدائی کا آغاز کیا تھا۔ ہم 70 سالہ دوستی اور تعاون کا جشن منا رہے ہیں۔ ہر گزرتا سال سوات، پاکستان اور اٹلی کے درمیان دوستی، ثقافتی ورثے اور آثارِ قدیمہ کے رشتے کو مزید مضبوط بناتا ہے۔ ڈاکٹر عبدالصمد نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے محکمہ آثارِ قدیمہ اور اطالوی مشن کے درمیان سات دہائیوں پر محیط تعاون نہ صرف سائنسی تحقیق بلکہ گہری دوستی اور باہمی احترام کی علامت ہے۔ یہ تعلق ہمارے لیے محض ایک تحقیقی شراکت نہیں بلکہ دو قوموں کے درمیان ثقافتی رشتے اور دوستی کا استعارہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ شراکت 1955ء میں والی سوات کی سرپرستی میں شروع ہوئی تھی۔ یہ دیکھ کر فخر محسوس ہوتا ہے کہ آج اطالوی ماہرینِ آثارِ قدیمہ اور سوات کے شاہی خاندان کی تیسری نسل ایک ساتھ کھڑے ہیں اور اس سفر کو آئندہ 70 سال تک جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کر رہے ہیں۔ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے شاہی خاندان اور اطالوی مشن کے درمیان تاریخی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے دادا والی سوات ایک وژنری حکمران تھے جنہوں نے پروفیسر ٹوچّی سے ملاقات کے بعد آثارِ قدیمہ کی اہمیت کو فوراً سمجھا۔
