
موضوع پر حرفِ آغازسے پہلے رشید خان ’’ڈی بیٹ‘‘ کے عمومی فوائد اور مثبت اثرات سے متعلق بتاتے ہیں۔ بحث سے علم میں اضافے کے علاوہ دماغی ورزش ہوتی ہے، میل جول بڑھتا ہے، فکرو خیال میں تازگی اور ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے اور آپس میں ایک دوسرے کے متعلق کچھ نہ کچھ جاننے کے مواقع بھی ملتے ہیں۔ یقیناًاس وطن میں مختلف ایشوز اور موضوعات پر گہرے فکری بحث و مباحثوں کی شدید ضرورت ہے۔ ملکہ اور منشی کی کہانی اس سرگرمی کا نقطۂ آغاز ہے۔ کہانی کے سرسری خد و خال پیش کرتے ہوئے رشید خان تاریخ کے ا وراق پلٹاتے ہوئے سب دوستوں کو اس بابت اپنی معلومات شیئر کرنے اور اُن پر تبصروں کی دعوت دیتے ہیں۔ اس دوران میں جو ہم نے سنا، سیکھا اور جانا، اُس میں سب کو شریک کرتے ہیں۔ آج سے تقریباً ایک سو تیس سال پہلے یعنی1887ء میں انڈیا کے آگرہ شہر کے چوبیس سالہ مسلمان نوجوان عبدالکریم جو ایک معمولی کلرک تھا، کا انتخاب ہوتا ہے کہ وہ ملکہ کے عہد کی گولڈن جوبلی منانے کے موقع پر لندن جا کران کے ذاتی خدمت گار کی حیثیت سے کام کرے اور ملکہ کی خواہش کے مطابق ہندوستانی مہمانوں کی خصوصی خاطر تواضع بھی کرے۔ خادموں، خادماؤں اور سیکڑوں ملازمین کی جھرمٹ میں ’’عبدل‘‘ کچھ ہی دنوں میں ملکہ کی آنکھوں کا تارا بن جاتا ہے۔ اسے دربارِ عالیہ میں منشی کامتبرک عہدہ ملتا ہے اور اس کو حافظ محمد عبدالکریم منشی کا خطاب ملتا ہے۔معاملہ یہی کدھر رُکتا ہے۔ حتیٰ کہ وہ ملکہ کا پہلا ہندوستانی سیکریٹری بنتا ہے۔ محل میں اس کو عالی شان رہائش فراہم کر دی جاتی ہے۔ محل میں قیام کے دوران میں وہ ملکہ کو قرآن مجید کے ساتھ ساتھ برصغیر کی زبانوں اور ثقافت کی تعلیم دیتا ہے۔ عبدل انہیں ہندوستانی پکوانوں خاص کر ’’کڑھی‘‘ کے ذائقے سے آشنا کراتا ہے۔ شاہی دربار میں ملکہ وقت وقت بے وقت عبدالکریم کے ساتھ تنہائی میں وقت بھی گزارتی ہیں۔ رازو نیاز کی سطح اس حد تک بڑھ جاتی ہے کہ عبدل ہر وہ خط بھی پڑھنا اور پرکھنا شروع کرتا ہے جو ملکہ کسی کو لکھتی ہیں۔ ایک ہی محل میں ایک دوسرے سے دو چار قدم کی دوری اور ایک دیوار کے آر پار بیٹھے اور بار بار ملنے جلنے کے باوجود بھی ملکہ دن میں پانچ چھے چھے دفعہ منشی کو خطوط بھی لکھتی ہیں۔ قربت کا یہ عالم، یہ تشنگی اس حد سے بھی کئی قدم آگے تجاوز کرتی ہے، جب ملکہ عبدل کی رفاقت میں شاہی محل سے کافی فاصلے پر واقع مرغزاروں میں ایک دیہی کاٹیج میں چھٹیاں گزارنے کا فیصلہ کرتی ہے، تو شاہی اہلکار اس کی سخت مخالفت میں انتہا پر پہنچ جاتے ہیں اور دھمکی بھی دیتے ہیں کہ اگر وہ عبدل کے ساتھ چھٹیاں منانے جاتی ہیں، تو وہ اجتماعی طور پرمستعفی ہو جائیں گے، لیکن ضدی ملکہ کسی بھی دھمکی پر کان نہیں دھرتی اور تمام تہمتوں سے بے نیاز عبدل کی رفاقت پر اپنا تن من دھن سب کچھ قربان کرنے پر تُلتی نظر آتی ہیں۔ ملکہ اور شوکت شرار دونوں کا پکا عقیدہ ہے کہ ’’محبت،محبت ہوتی ہے۔ خواہ وہ جس بھی شکل میں ہو، جس بھی رشتے میں ہو، جس بھی ارادے سے ہو اور جس بھی یا جتنے بھی لیڈیز یا جینٹس سے ہو۔‘‘
عبدالکریم ملکہ کے لیے ایک کتابچہ تحریر کرتا ہے،جس میں روزمرہ کی باتوں کاانگریزی سے اردو میں ترجمہ ہوتاہے۔ بنگالی صحافی اور مؤرخ شربانی باسو بی بی کے مطابق کتابچہ میں کچھ الفاظ شکوک و شبہات کو جنم دیتے ہیں، جیسے ایک جگہ لکھاہے: ’’تم چاہو، تو گھر جا سکتے ہو۔‘‘ جیسا کہ ’’تم منشی کو بہت یاد کرو گے‘‘ اور ’’مجھے مضبوطی سے تھامو۔‘‘ ملکہ جو خطوط عبدل کو لکھتی ہیں ان میں جب بھی کریم کی بیوی کو مخاطب کیا جاتا ہے، تو ملکہ ’’تمھاری عزیز ماں‘‘ جیسے الفاظ استعمال کرتی ہیں۔ عبدل کے مشوروں سے ہندوستان کے وائسرائے کو جو احکامات صادر ہوتے ہیں، وہ اکثر مسلمانوں کی حمایت میں ہوتے ہیں۔ کیونکہ وہ خود ایک مسلمان ہے۔ آہستہ آہستہ وہ ملکہ کو یہ بھی مشورے دینے لگتا ہے کہ مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان اختلافات کو دور کرنے کے لیے کیا لائحہ عمل اختیار کیا جا سکتا ہے؟ 1906ء میں مسلم لیگ کا بننا، 1909ء میں پہلا مسلم اقلیتی ایکٹ اور ہندوستان جیسے ملک میں مسلمانوں کی زندگی میں آسانیوں کا آنا، اُن کا کسی حد تک اختیار و اقدارتسلیم کرنا، منشی ہی کی ’’فرمائش‘‘ پر ہندوستان میں انتخابی کونسل کے طریقۂ کار پر ملکہ کاکئی دفعہ تحفظات کا اظہار کرنا، جس کی وجہ سے اُس میں مسلمانوں کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہو سکتی تھی۔ وہ سفارش کرتی ہے کہ اس انتخاب کے لئے ایسا غیر متنازعہ طریقہ وضع کیا جائے جو مسلمان اقلیت کے لئے باعثِ اعتراض نہ ہو۔ عبدل ہی کی وجہ سے انگلستان میں مسلمانوں کو پہچان بھی ملی اور اُن کو تسلیم بھی کیا گیا۔ ملکہ ہی کی مسلسل مداخلت اور وائسرائے پر دباؤ کی وجہ سے ہندوؤں اور مسلمانوں کے بیچ نفرتوں اور عداوتوں کا بڑھتا ہواخلیج کم ہونا شروع ہوجاتا ہے۔
قارئین، برطانیہ کی ملکہ وکٹوریا اور اُس کے ایک ہندوستانی ملازم کی یہ داستان بالکل افسانوی لگتی ہے۔ صحافی شربانی باسو، شاہی آرکائیو برٹش لائبریری، وکٹوریہ کی ڈائری اور اس دور کے برطانوی اخبارات کا گہرائی سے مطالعہ کرنے کے بعد اپنی کتاب بہ عنوان ’’وکٹوریا اور عبدل‘‘ میں یہ انکشاف کرتی ہے کہ دونوں کی عمروں میں خاصا فرق ہونے کے باوجود ملکہ اور عبدل ایک دوسرے کے بے حد قریب آ گئے تھے۔ برطانیہ کی تاریخ میں ملکہ وکٹوریہ سے طویل عہد حکومت کسی اور حکمران کا نہیں ہے۔ ملکہ وکٹوریہ نے تاج برطانیہ اس وقت سر پرسجایا جب انگلینڈ محض ایک مضبوط ریاست تھا لیکن جب اُن کی وفات ہوئی، تو اس وقت انگلینڈ کی سلطنت میں سورج غروب نہ ہوتا تھا۔ ملکہ وکٹوریہ سلطنت برطانیہ کی ملکہ تھی۔ اُس کے دور میں سلطنت برطانیہ اپنی طاقت اور عالمی اثر و رسوخ میں اپنی انتہا پر تھی اور یہ دور بہت تبدیلیوں کا دور تھا۔ گورے دنیا میں جہاں بھی گئے اپنی اس ملکہ کو نہ بھولے۔ آسٹریلیا کے ایک صوبے کا نام وکٹوریا ہے۔ افریقہ میں ایک جھیل کا نام وکٹوریہ ہے۔ للی کے خاندان میں ایک بڑے پتوں والے پودے کا نام وکٹوریہ ہے۔ برطانیہ کے سب سے بڑے فوجی اعزاز کا نام وکٹوریہ کراس ہے۔
منشی عبدالکریم کے ساتھ چودہ سالہ رفاقت کے بعد 1901ء میں ملکہ کا انتقال ہو جاتا ہے اور اُن کے انتقال کے ساتھ ہی یہ رشتہ بھی دفن ہو جاتا ہے۔ وصیت کے مطابق عبدل ہی وہی آخری شخصیت ہوتا ہے جو اُن کی میت کا آخری دیدار کرتا ہے۔ ملکہ کے ’’تنگ نظر اور قدامت پسند‘‘ یا دوسرے الفاظ میں ’’فنڈا منٹلسٹ‘‘ بیٹے اس رشتے کے ثبوت اور ہر قسم کے باقیات کا نام و نشان مٹا دیتے ہیں، جلا دیتے ہیں۔ عبدل کو تمام عہدوں سے محروم کرکے واپس ہندوستان بھیج دیا جاتا ہے اور اس باب کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند کیا جاتا ہے۔ تاہم عبدل اپنی ایک خاص ڈائری، کئی خطوط اور دیگر اشیا کسی نہ کسی طرح چھپا کر محفوظ کر لیتا ہے، جو تحقیق کے دوران باسو کے ہاتھوں تک پہنچ جاتی ہیں۔ برطانیہ سے واپسی کے آٹھ سال بعد 46 سال کی عمر میں عبدل وفات پا جاتا ہے لیکن اُس چودہ سالہ دور میں پورے بر صغیر کے لئے عموماً اور مسلمانوں کی حالت میں بہتری کے لئے خصوصاً عبدالکریم کا کردار اور کوششیں قابلِ داد بھی ہیں اور یاد رکھنے کے قابل بھی۔ انہوں نے خصوصی طور پر نسل پرستی کی شدت میں کمی لانے اور بین المذاہبی ہم آہنگی کے لئے اپنی توانائی، طاقت اور اختیار کا استعمال کیا۔ انہوں نے ہر طرف سے شدید مخالفت کے باوجود مسلمانوں، ہندوؤں اور عیسائیوں کے بیچ تعلقات کو نئی جہتیں دیں اور مسلمانوں کو ایک امن پسند، وفادار، باوقار اور نڈر قوم کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا جس میں وہ خاصا کامیاب بھی ہوا۔
بیٹھک میں تجویز کیا گیا کہ مسلمان آج بھی عبدل کے 130 سال پرانے مثالی کردار کو مذاہبوں کے بیچ میں ہم آہنگی لانے کیلئے ایک واضح مثال کے طور پرپیش کر سکتے ہیں، جس کیلئے جدید ٹیکنالوجی کا ستعمال کرنا چاہئے۔ جیساکہ ابتدائی قدم کے طور پر حافظ عبدالکریم کے نام پر فیس بک پیج بنانا چاہئے، جس میں اُن کے مثبت کردار کو آشکارا کرکے دنیا کے سامنے لایا جائے۔ اس کرشماتی تعلق کی وجہ سے مذاہبوں کے درمیان میں موجودوسیع دراڑوں پر پڑنے والے اثرات کے بارے مزید تحقیق کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔ وقت کا سوال یہ نہیں کہ عبدالکریم کی ملکہ کے ساتھ تعلق کی وجہ سے ہندوستانی مسلمانوں کی زندگی میں کیا آسانیاں آئیں بلکہ بہت بڑا سوال یہ ہے کہ عبدل جیسا ایک عام سا ملازم وہ بھی ایک مسلمان ، نسل پرستی کی آلودگی میں اس سطح تک کیسے پہنچا کہ وہ ایک ایسے ملکہ کے دل ودماغ پر اتناچھا گیا جس کے سامنے جانا یا بات کرنا ممنوع تھا، جس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنے کی اجازت نہیں تھی، جس کی ایک جھلک دیکھنے کیلئے دُنیا بے تاب و بے قرار رہتی، جس کے منھ سے نکلی ہوئی بات پورے ملک کے لئے حکم کا درجہ رکھتی تھی، جو ملک و قوم کے لئے طاقت کا سرچشمہ تھی اورجس کی حکمرانی میں سورج غروب نہ ہوتا تھا۔ ایسے میں شوکت شرار سوال کرتے ہیں کہ کیا ملکہ اور عبدل کے ملاپ کا عجوبہ اور محبت کی انتہا، مسلمانوں کی حالت میں بہتری لانے کے لئے ’’قدرت کی کوئی سازش‘‘ تو نہ تھی؟ کیونکہ یہ معجزہ رونما نہ ہوتا، تو شائد وقت کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو آج کے دور سے بھی کئی گنا زیادہ برے، زیادہ رو بہ زوال اور زیادہ گئے گزرے دن دیکھنے پڑتے ۔
آغازِ محبت سے انجامِ محبت تک
گزرا ہے جو کچھ ہم پر تم نے بھی سنا ہوگا
نوٹ:۔اس بیٹھک میں وکٹوریا اور عبدل کے تعلقات اور اس کے مابعد جامع اثرات پرتفصیلی گفتگو ابھی جاری تھی لیکن مجھے وہاں سے مجبوراً جلدی جاناپڑا۔ مضمون کی تیاری میں اُن دوستوں کے تبصروں اور معلومات کے علاوہ کئی انگریزی و اردو مضامین سے استفادہ کیا گیا۔ معلومات زیادہ تر شربانی باسو کی کتاب کے گرد گھومتی ہیں جس کا حوالہ اس مضمون میں دیا گیا ہے، شکریہ۔