کالم نگاری

ماہِ رمضان، واپڈا عوام پر بجلیاں گرانے لگا 

ناصر عالم

✍️ کالم نگار: ناصر عالم

اشتہار / Advertisement

سوات کے مرکزی شہر مینگورہ سمیت ضلع بھر میں عام دنوں میں بھی لوڈشیڈنگ کی جاتی ہے جس کے سبب عوام کو نت نئے مسائل کا سامنا رہتا ہے، مگر جب رمضان کامبارک مہینہ آتا ہے، تو واپڈا والے لوڈشیڈنگ کی شکل میں جاری ظلم کایہ سلسلہ مزید تیز کردیتے ہیں جو عوامی مشکلات میں اضافے کا سبب بن جاتا ہے۔ اس وقت بھی مینگورہ شہر میں بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ جاری ہے جس نے روزہ داروں کو شدید ذہنی کوفت اور کرب میں مبتلا کر دیا ہے۔ لوڈ شیڈنگ کے باعث اگر ایک طرف کاروبارِ زندگی بری طرح متاثر ہو رہا ہے اور کاروبار کا پہیہ رک گیا ہے، تو دوسری طرف شہر میں پانی کی قلت نے بھی سر اٹھالیا ہے۔ لوگوں کو پینے کے لیے پانی ملتا ہے اور نہ گھریلو استعمال کے لیے ہی موجود ہے جس کے سبب لوگوں کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اب روزہ دار دیگر کام کاج چھوڑ کر پانی کی تلاش میں سرگرداں نظر آ رہے ہیں۔ بہت سے لوگوں نے قدرتی چشموں اور کنوؤں کا رُخ کرلیاہے جب کہ بیشتر لوگ کرایہ پر پک اَپ سوزوکی لے کررات کو دریائے سوات جا کر وہاں سے برتن بھر کے گھروں کو لے جاتے ہیں۔ ان مراحل سے گزرنا کوئی آسان کام نہیں، مگر پھربھی یہاں کے لوگ ان تکلیف دہ مراحل سے گزرنے پر مجبورہیں۔
ہر سال کی طرح اس سال بھی حکومت نے ماہِ رمضان میں کم سے کم لوڈشیڈنگ اور افطاری، سحری و نمازکے اوقات میں بالکل لوڈشیڈنگ نہ کرنے کا اعلان کیا تھا جس سے یہاں کے لوگوں نے سکھ کی سانس لی تھی مگر ان کی امید اس وقت دم توڑ گئی جب ماہِ رمضان میں دیگر دنوں کی نسبت لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ مزید بڑھا دیا گیا بلکہ ایک طرح سے واپڈا والوں نے عوام پر بجلیاں گرانے کا سلسلہ تیز کر دیا۔ اس کی بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ حکومت نے ماہِ رمضان میں لوڈ شیڈنگ ختم کرانے اور یا اس کا دورانیہ کم کرانے کے وعدے اوردعوے تو بہت کیے، مگر پچھلے سالوں کی طرح اس سال بھی ان وعدوں کو عملی جامہ نہ پہنا سکی۔ سوات میں ملک کے دیگر حصوں کی نسبت زیادہ لوڈشیڈنگ کی جاتی ہے۔ حالاں کہ یہاں کے لوگ بڑی پابند کے ساتھ بجلی کے بھاری بھاری بل جمع کراتے ہیں جب کہ یہاں پر بجلی چوری بھی نہیں ہو رہی، مگر اس کے باوجود واپڈا والے لوڈشیڈنگ کے حوالے سے سوات کوخصوصی نشانہ بناتے ہیں، جس پر یہاں کے عوام نے سوال اٹھایا ہے کہ آخر انہیں کس جرم یا گناہ کی سزا دی جا رہی ہے؟ مقامی لوگ کہتے ہیں کہ واپڈابے لگام گھوڑا بن چکا ہے جس کے سامنے مرکزی اور صوبائی حکومت کی کوئی حیثیت نہیں۔ واپڈا سے متعلق حکومتی نعرے عوام کو جھوٹی تسلیاں دینے کے سوا کچھ نہیں۔ ماضی میں سوات میں بجلی لوڈشیڈنگ کے خلاف بہت سے احتجاجی مظاہرے اور جلسے جلوس ہوچکے ہیں، مگر واپڈا کی روش میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ ایک دور ایسابھی آیا تھا کہ سکول کے بچوں نے سڑکوں پر نکل کر لوڈشیڈنگ ختم کرانے کا مطالبہ کیا تھا، مگر ان معصوم بچوں کی بھی کوئی شنوائی نہ ہوسکی۔ اس کے علاوہ کئی بار آل پارٹیز کانفرنس ، تاجروں کے اجلاس، سیاسی پارٹیوں کے جلسے اور عوامی سطح پر مظاہرے ہوئے، مگر یہ سب کچھ بے کار ثابت ہوا اورہر بار عوام کی آوازصدا بہ صحراثابت ہوئی۔ نہ تو ان کے حال پر حکومت اورنہ ہی واپڈا والوں کو ترس آیا۔ جب احتجاجوں، جلسے، جلوس، آل پارٹیز کانفرنس اورجرگوں کے نتیجے میں بھی واپڈانے ظلم کا سلسلہ بند نہ کیا، تو اس کے بعد لوگوں نے واپڈا والوں کو بددعائیں دینا شروع کر دیں۔ عوام کا کہنا ہے کہ محکمہ واپڈاکی جانب سے لوڈشیڈنگ کی شکل میں مسلسل ظلم کا سلسلہ جاری ہے جس کے باعث لوگوں میں پریشانی پائی جاتی ہے۔ لہٰذا مرکزی حکومت واپڈا جیسے بے لگام گھوڑے کو جلد ازجلد لگام دے اور اسے لوڈ شیڈنگ نہ کرنے کا پابند بنائے، تاکہ لوگوں میں پھیلی ہوئی پریشانی، بے چینی اور تشویش کا خاتمہ ہوسکے۔

اشتہار / Advertisement
اشتہار / Advertisement
اس تحریر کو شیئر کریں:

⭐ آپ کو یہ تحریر کیسی لگی؟ (درجہ بندی کریں)

براہ کرم اس تحریر کو 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹنگ دیں

اوسط ریٹنگ: 0 / 5 (0 ووٹ)

اپنا تبصرہ تحریر کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کی نشاندہی * سے کی گئی ہے۔