کالم نگاری

ادھیانہ: سوات کی جنت گم گشتہ (تبصرہ)

محمد طاہر بوستان خیل

✍️ کالم نگار: محمد طاہر بوستان خیل

اشتہار / Advertisement

جہانِ علم و دانش میں سوات سے تعلق رکھنے والے فضل خالق معتبر و مشہور سفر نامہ نگار اور صحافی کی حیثیت سے رکھتے ہیں۔ آپ اپنی شخصیت کے حوالے سے ہر دلعزیز ہیں۔ آپ کاخاموش، دلکش اور انسانیت پر مہربان چہرہ آپ کے تن پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عظیم ودیعت ہے۔ ویسے تو آپ تمام خطہ میں بطورِ صحافی شہرت رکھتے ہیں، لیکن ’’ادھیانہ: سوات کی جنتِ گم گشتہ‘‘ میں آپ اپنے فن کے عروج پر ہیں۔
فضل خالق سوات میں بدھ مت کے قدیم آثار یوں پیش کرتے ہیں، گویا آنکھوں کے سامنے بدھ مت کے زمانے کا منظر سکرین پر نشر ہو رہا ہو۔ اس نثری کینوس پر رنگ بکھیرنے کے لیے نامور ادیبوں، اسکالروں، پروفیسروں، کالم نگاروں اور تاریخ دانوں نے اپنی معلومات محبت کے ساتھ عنایت فرما کر دوستی کا حق ادا تو کیا، لیکن یہاں ایک بات کی وضاحت ضروری سمجھتا ہوں، کتاب کے پیش لفظ میں مصنف نے ان احباب کا شکریہ ادا کیا ہے، جنہوں نے مصنف کی ہر ممکن مدد فرمائی۔ ان احباب میں منگلور سے تعلق رکھنے والے آرکیالوجسٹ محمد پرویش شاہین سے استفادہ کرنا بہت ہی ضروری تھا، کیوں کہ اس موضوع کے حوالے سے ایک طرف اگر وہ محقق کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں، تو دوسری طرف الفاظ کا بھٹیار خانہ بھی ہیں۔ سوات میں بدھ مت کے حوالے سے وہ کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ آپ کے تحقیقی مقالے چھپ چکے ہیں۔ یوں آپ نہ صرف قومی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی پذیرائی حاصل کر چکے ہیں۔ سوات کی خوب صورتی تمام دنیا پر عیاں ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہاں گندھارا تہذیب کا ورثہ بھی موجود ہے۔ مصنف نے جو تحقیق کی ہے، راقم کے خیال میں یہ ایک آرکیالوجسٹ کو کرنی چاہیے تھی۔ اس کتاب میں 32 مختلف عنوانات زیرِبحث آچکی ہیں، جس کا مقصد ضلع سوات میں بدھ مت کی تاریخی، سماجی، ثقافتی اور تعلیمی ترقی کے بارے میں ہمیں آگاہ کرنا ہے۔ آثارِ قدیمہ کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ ہمیں سوات کی سر زمین پر فخر کرنا چاہیے کہ جس نے اپنے بطن میں ماضی کی ان یادوں، شاہکاروں اور تہذیبوں کو چھپائے رکھا جو بدھ مت سے متعلق ہیں۔ کتاب کے 23 صفحات پر سوات کی مختلف تاریخی مقامات کی رنگین تصاویر موجود ہیں جنہیں دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ صاحبِ کتاب نے مضبوط تحقیق کی ہے۔ وہ قارئین کی انگلی پکڑ کر انہیں سوات کی دیدہ زیب مقامات کی سیر کرا تے ہیں۔ ان تصویروں میں مہوڈنڈ کے دل رُبا مناظر، سید گئی جھیل، درال جھیل، گبین جبہ ، سرے شاہ جھیل، بت کڑہ میں بدھ مت کے آثار، محمود غزنوی مسجد اوڈیگرام، سیدو شریف سٹوپا، شنگر دار سٹوپا، بریکوٹ کے قدیم آثار، بر تنگے قلعہ ، جُر جُرئی سٹوپا، گنبدونہ سٹوپا شموزو اور املوک درہ کے علاوہ اور بھی ایسے خوب صورت مقامات کی تصاویر موجود ہیں جو سیاحوں کی توجہ کا مر کز ہیں۔ بدقسمتی سے سوات میں کچھ عناصر ایسے بھی ہیں جنہیں بدھ مت کے آثار سے قدرتی طور پر بے جا دشمنی ہے۔
سوات میں طالبانائزیشن کے دَورمیں محمد پرویش شاہین کو ان آثار کے محفوظ کرنے کی پاداش میں بڑی بے دردی سے مارا گیا، جس کے نتیجے میں وہ آج بھی Liquidکھانے استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔ حالاں کہ دینِ اسلام میں اس قسم کے ظلم کی سخت ممانعت کی گئی ہے۔ مصنف نے بڑی عرق ریزی سے دوسرے مذاہب کے خداؤں اور عبادت گاہوں کو بُرا بھلا کہنے اور انہیں مسمار کرنے سے منع کرنے کے بارے میں قرآنی آیات کا حوالہ بھی دیاہے۔ یہ حوالہ جات صفحہ 109 تا 113 پرموجود ہیں۔
کتاب کا سر ورق موضوع کے اعتبار سے اپنے دَورکی بہترین عکاسی کرتا ہے۔ اس کو مرتب کرنے والی پروفیسر رحمانیہ امان کی کاوِش بھی قابلِ تحسین ہے۔ مصنف نے جن کتب سے استفادہ کیا ہے وہ بھی اہمیت کی حامل ہیں۔ ان کتابوں کے نام آخر میں حوالہ جات میں دیے جا چکے ہیں ۔ مصنف کی یہ کتاب بلاشبہ تحقیق کے طلبہ کے لیے بہت اہمیت رکھتی ہے۔اس لیے تو امجد علی سحاب ؔ صفحہ 10 پہ لکھتے ہیں: ’’یہ کتاب جو آپ کے ہاتھ میں ہے، یہ گرمی کے موسم میں کسی اے سی روم میں بیٹھ کر یا سردی میں کسی انگیٹھی کے سامنے بیٹھ کر دیگر تاریخی کتب یا بڑے بوڑھوں کو سن کر نہیں لکھی گئی ہے۔‘‘ اس کتاب کی اشاعت نہ صرف طلبہ، محققین اور اساتذہ کی ضرورت تھی بلکہ یہ دیگر احبابِ علم اور خاص کر سیاحوں کے لیے بھی اہم ہے۔
کتاب میں اِملا کی غلطیاں بھی ہیں، شاید پروف ریڈنگ نہ ہو نے کی وجہ سے رہ گئی ہوں ۔ 152 صفحات پر مشتمل یہ کتاب ملاکنڈ ڈویژن کے معروف ناشر فضلِ ربی راہی ؔ نے ’’زاہد بشیر پرنٹرز لاہور‘‘ سے شائع کرائی۔ کتاب شعیب سنز اینڈ پبلشرز جی ٹی روڈ مینگورہ سوات سے بعوض400 روپیہ دستیاب ہے۔

اشتہار / Advertisement
اشتہار / Advertisement
اس تحریر کو شیئر کریں:

⭐ آپ کو یہ تحریر کیسی لگی؟ (درجہ بندی کریں)

براہ کرم اس تحریر کو 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹنگ دیں

اوسط ریٹنگ: 0 / 5 (0 ووٹ)

اپنا تبصرہ تحریر کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کی نشاندہی * سے کی گئی ہے۔