کالم نگاری

کوئی ہے……!

فضل مولا زاہد

✍️ کالم نگار: فضل مولا زاہد

اشتہار / Advertisement

بیک وقت اپنی عاجزی، فقیری اور مسکینی کا ڈھول پیٹتے ہوئے، بیک وقت دُعا کرتے ہوئے اورواجب پروٹوکولز کا لحاظ رکھتے ہوئے مرکزی جامع مسجد اٹک کے اندر قدم رکھتے ہیں، تو رات کے گیارہ بج چکے ہوتے ہیں، لیکن مسجد میں زندگی کی کیفیات دیکھ کر لگتا ہے، جیسے ابھی عشا ادا ہونے کی تیاری ہو رہی ہو۔ باوضو بارحمت و بابرکت، پُرشکوہ و پُرسکون تاریخی عمارت روشنیوں کے ”بحیرہئ عرب“ میں نہلایا ہوا ایک ایک پتھر، ایک ایک اینٹ سے رنگ و نورکے فوارے پھوٹے جو اندر کیا دور دور تک کے ماحول کو بھی اپنی جلوہ افروزی میں شریک رکھیں۔ ہر طرف گہماگہمی ہے، ہلچل ہے۔ ہر کوئی سوالی ہے۔ ہر کوئی مانگنے والا ہے۔ کوئی قیام و قاعدہ میں قربتِ خدا ڈھونڈے۔ کوئی رکوع ریز، کوئی سر بہ سجود، کوئی دست بہ دُعا، کوئی ذکر بہ زبان، کسی کی آنکھیں تر، تو کوئی تلاوت میں محو، کوئی آپس میں مشورے کرے، کوئی تعلیم دینے میں اِن گیج، کوئی قرأت کی گردان میں مشغول۔
دوسری طرف دوسرے چھت پر کوئی کھانا پکا رہا ہے، تو کوئی سامان کی مناسب جگہوں تک پہنچانے میں سرگرم، کوئی تھکاوٹ کے بعد خراٹے لے رہا ہے، گرم پانی کا انتظام، صاف ستھرے واش رومز، تبلیغ کا علاحدہ شعبہ، کھانا پکانے کے لیے برتن اور چولہے دستیاب، تبلیغی بھائیوں کے سونے کے لیے دو بڑے کمرے، گائیڈنس اور معلومات کے واسطے مسجد کمیٹی کے بندے اپنے دفتر میں حاضر، شعبہئ صفائی میں سرگرم کمیٹی کے ممبرز اپنی ذمہ داری نبھانے کے لیے کمر بستہ، جگہ جگہ نوٹس بورڈز دیواروں پر لگے، جیسے ”پانی کا ضیاع جائز نہیں“، ”واش رومز کی صفائی کا خیال رکھیں“، ”نماز کے اوقات میں خاموشی بہتر ہے“ اور جیسے ”مسجد میں موبائل فون استعمال نہ کریں“، ”غیر ضروری لائٹس، پنکھے وغیرہ بند کرکے جائیں“ اور اسی طرح احادیث اور قرآنی آیات کے ترجمے لکھے گئے ہیں۔ بخدا دل اس مسجد سے کہیں اورجانے کو نہیں کرتا۔ بقیہ زندگی یہی آس پاس گذارنے کو جی کرتا ہے۔ کھانا پینا بیسیار، لوگوں کی محبتیں اور قربتیں لامحدود، سادگی و درویشی کا ٹھپا الگ لگے، تو اندھے کو اور کیا چاہیے، بس دو آنکھیں۔ لیکن ”شوہرانہ حقوق العباد“ اور ”والدانہ حقوق الاولاد“ کے ضوابط میں پھنسا دھنسا شخص اپنی مرضی کا مالک تھوڑی ہوتا ہے۔دیکھنے اور کہنے کو، سننے اور سونگھنے کو، تویہ حق ہماراہے کہ اپنی زندگی کیسے جئیں، لیکن اس کے ڈور ہلاتا کون ہے، کب اورکیسے ہلاتا ہے، یہ بات تمام شوہرانِ شہر اور والدینِ وطن جانتے ہیں، کوئی مانتا ہے کوئی نہیں۔
بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی
اپنا بس چلے، تو ہم ابھی ابھی کسی پیر کے مرید یا کسی مزار کے مجاور بن جائیں اور زندگی کے بقیہ جھمیلوں سے گلو خلاصی حاصل کرلیں، لیکن افسوس یہ ممکن نہیں۔ یہ کیسی زندگی ہے! اِ س کے کیا عجیب رنگ ڈھنگ ہیں! ہم کتنے لاچار اور عاجز ہیں۔ اپنے ہی وقت سے اپنے لیے چند دن بھی نہیں چوری کرسکتے اور کیا تیر ماریں گے زندگی میں! آپ میں کوئی ہے ایسا؟ واہ، امجد اسلام امجدؔ
زندگی کے میلے میں خواہشوں کے ریلے میں
تم سے کیا کہیں جاناں اس قدر جھمیلے میں
وقت کی روانی ہے بخت کی گرانی ہے
سخت بے زمینی ہے سخت لا مکانی ہے
تم سے کیا کہیں جاناں اس قدر……!
(فضل مولا زاہد کی آنے والی کتاب ”ہے گشت کا جہاں اور“ سے ایک اقتباس)

اشتہار / Advertisement
اشتہار / Advertisement
اس تحریر کو شیئر کریں:

⭐ آپ کو یہ تحریر کیسی لگی؟ (درجہ بندی کریں)

براہ کرم اس تحریر کو 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹنگ دیں

اوسط ریٹنگ: 0 / 5 (0 ووٹ)

اپنا تبصرہ تحریر کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کی نشاندہی * سے کی گئی ہے۔